اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
منیر نیازی کے جتنے اشعار مشہور ہیں، شاید اس سے زیادہ اُن کی باتیں مشہور ہیں۔ وہ باتیں جو وہ خود کیا کرتے تھے، یا وہ باتیں جو ان کے بارے میں کی جاتیں۔ منیر نیازی ایک پیچیدہ کردار تھے ان کو سمجھنا خاصا مشکل کام ہے۔ وہ جس قدر منفرد شاعر تھے اسی طرح کی منفرد شخصیت بھی رکھتے تھے۔ ہر ایک دوسرے شخص سے منفرد، بالکل ایک عجوبہ۔ ان کو دیکھیں تو اچھا لگتا ہے، باتیں سنیں تو اور زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اور کبھی کبھار بُرا بھی لگتا ہے، ایسا برا کہ دل سے اترنے لگتا ہے۔ اشفاق نقوی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: ”منیر نیازی سے پہلی ملاقات کے بعد لوٹیے تو سمجھ نہیں آتا کہ کس چیز سے مل کر آئے ہیں ایک انسان سے یا ایک ۔ ۔ ۔ ۔ سے ( اس خالی جگہ میں آپ“ فرشتہ ”بھی لکھ سکتے ہیں )“
ممکن ہے آپ سمجھنے لگیں کہ منیرؔنیازی گویا ”مجموعہ اضداد“ ہے۔ نہیں۔ ہرگز ایسا نہیں۔ منیرؔ سیدھا سادا ایک مردِ قلندر ہے۔ سیدھی سیدھی صاف صاف باتیں کرنے والا اور اپنی باتوں سے اپنی ذہانت کا لوہا منوانے والا۔ اُن کے پاس خیالات کا انبار ہے جو ہر ملنے والے کے سامنے بکھر جانے کے باوجود ڈھیر کا ڈھیر بنا رہتا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ اس ڈھیر کو ذخیرہ کرنا چاہتا ہے وہ تو اسے لٹانے کے دَرپے ہیں، مگر افسوس کہ منیرؔ کو ”یہ ڈھیر“ سمیٹنے والا نہیں ملتا۔ اُن کے جوہر چننے والا کوئی نہیں۔
منیر نیازی کی شخصیت اور فن سے تھوڑا بہت واقف ہونے کے سبب سوچتا ہوں کہ اگر منیؔر کی تعریف میں ایک لفظ استعمال کرنا پڑے تو وہ کون سا ہو گا۔ صوفی، ملنگ، بھگت، فقیر یا کچھ بھی؟ نہیں! ان تمام کیفیتوں کا اُن پر اطلاق ہونے کے باوجود اِن تعریفوں یا لفظوں پر پورا نہیں اترتا۔ ہاں اسے دیوانہ یا پاگل کہا جائے تو زیادہ قرینِ قیاس ہو گا کہ مصیبت یہ ہے کہ وہ دیوانہ یا پاگل بھی تو نہیں۔ وہ تو انتہائی زیرک اور ذی شعور ہے، اس کی نگاہ بڑے بڑے وسیع دائروں کو پل میں سمیٹ لیتی ہے۔ وہ بظاہر لاپرواہی سے بات کرتا یوں معلوم ہوتا ہے کہ غیر شعوری طور پر کچھ کہہ گیا مگر چند ہی لمحوں میں ان کی فراست اور دور بینی پر لبیک کہنا ہی پڑتا ہے۔ وہ روانی میں کچھ بھی کہہ جائے انتہائی معنی خیز ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ فتوے دے جاتا ہے اور بعد میں حیرت ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح غلط نہیں تھا۔
میرے محتاط اندازے کے مطابق منیرؔ نیازی کی شخصیت کم علمی کا شکار ہے۔ اس لئے ان کے بارے میں غلط تاثر پیدا کیا جاتا رہا۔ کم علمی سے زیادہ غلط فہمی نے منیر نیازی کو نقصان پہنچایا۔ ان کا مشہور مصرع : ”اس شہر ِ بے وفا کو جَلا دینا چاہیے“ کبھی منٹگمری (ساہیوال) سے منسلک کر دیا جاتا ہے تو کبھی لاہور سے۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ زیادہ وقت کراچی یا اسلام آباد نہیں رہے ورنہ یارانِ نکتہ داں ان دو شہروں کو بھی قابلِ آتش زدنی قرار دے دیتے۔
منیرؔ نیازی کے شعری تجربے میں ان تجربوں کا میل ہے جو ہمارے اجتماعی تخیل کا حصہ ہیں۔ ”دشمنوں کے درمیان شام“ کی نظمیں اور غزلیں پڑھتے پڑھتے ان آفت زدہ شہروں کی طرف دھیان جاتا ہے جہاں کوئی خطر پسند شہزادہ رنجِ سفر کھینچتا جا نکلتا تھا اور خلقت کو خوف کے عالم میں دیکھ کر حیران ہوتا تھا۔ کبھی عذاب کی زد کی آئی ہوئی بستیوں کا خیال آتا ہے جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے، کبھی حضرت حسینؑ کے وقت کا کوفہ نظروں میں گھومنے لگتا ہے۔ اس کے باوجود منیر نیازی، عہد کی شاعری کرنے والوں سے زیادہ عہد کا شاعر نظر آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے عہد کے اندر رہ کر ایک آفت زدہ شہر دریافت کیا ہے۔ منیر نیازی کا عہد منیر نیازی کا کوفہ ہے۔ ان کی شاعری میں شہر کا ذکر ایک جہانِ معنی رکھتا ہے۔ اس سے شاعر کا اپنے ارد گرد کے ساتھ گہرے تعلق کا پتہ چلتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو استعاروں اور تلمیحات کا ذخیرہ خرچ ہوا ہے اس سے کام لینے والوں نے یہ کام بھی لیا ہے کہ اِرد گرد سے بے تعلق ہو کر اپنی ذات کے پاتال میں اُتر گئے۔ مگر منیر نیازی کے یہاں یہی ذخیرہ خارج سے رشتہ اُستور کرنے کا فرض انجام دیتا ہے۔ یہ رشتہ بے شک دُشمنی کا رشتہ ہے مگر دُشمنی کے رشتے میں شدت بہت ہوتی ہے۔ آہ! :
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں


