دسمبر اور اُداسی


Noor ul Huda Chaudhary

دل کی اُداسی اور دسمبر کا گہرا تعلق ہے میں چاہے جتنا مسکرانا چاہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ مجھے سال بھر کے تمام دکھ دسمبر کی ہر شام دوہرانے ہوتے ہیں، میری ہر رات میرے گزرے ایام کی تلخیاں بُھلانے کی کوشش میں صَرف ہو جاتی ہے، میرے دل کی دھڑکن بے وجہ تیز ہونے لگتی ہے، آنکھیں مِیچنے پر لگتا کوئی شور برپا ہے مجھے جلدی سے آنکھیں کھول لینی چاہیں، ایسا کیوں ہے میں نہیں جانتی کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے میں اِسی مہینے کی پیدائش ہوں کسی سال میں اِسی ماہ مر جاؤں گی، خیر پھر سوچتی ہوں مجھے تو سالگرہ کی ایکسائٹمینٹ ہونی چاہیے پر اب وہ خوشی کہاں!

اب تو میں بڑی ہو گئی، ہم عمر گزرنے کے ساتھ اپنے اوپر خوشیاں حرام کر لیتے ہیں یا شاید ہمیں ملنے والی محبتیں خالص نہیں رہتیں۔ بات محض یہ ہے کے میں کسی شاعر کی طرح ہجر میں ڈوبی ہوئی دسمبر کی رات تو لکھنے سے رہی پر میں دسمبر کی اداسی بیان کرنا چاہتی ہوں، مثال کے طور پر سردیوں کی دوپہر دھوپ سینکتے لوگ جب خوش گپیاں کر کے اُٹھ جاتے ہیں تو وہ مالٹے اور مونگ پھلی کے چھلکوں سے بھرا صحن، خالی چارپائیاں اور اردگرد پڑے سٹول جب اٹھا لیے جاتے ہیں اور سبھی کے اپنے کمروں میں چلے جانے کے بعد وہ کُھلا صحن جس اُداسی سے بھر جاتا ہے مجھے اُس اداسی سے الجھن ہے، ظاہر ہے ایک ہی جگہ ہم منجمد ہو کر نہیں بیٹھ سکتے پر میری دل کو یہ منظر نہیں بھاتا۔

جہاں کچھ دیر پہلے قہقہے تھے پھر سناٹا وہ جگہ اور اس کی ہر شے اداسی سے منہ چڑاتی ہے، فٹ پاتھ پر سونے والے فقیر، مزدور طبقہ جب آر پار ہوتی سردی سے جسم سُکیڑ لیتا ہے تو مجھے دسمبر سے نفرت ہونے لگتی ہے، اسی سردی سے کئی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جب دُھند میں انسان دو گز کے فاصلے پر نظر نہیں دوڑا پاتا، اسی موسم میں دن شروع ہوتے ہی رات کی تاریکی چھانے لگتی ہے، گلی محلوں میں آٹھ بجے ہی سب اپنے بستروں میں دُبک جاتے ہیں، یہ دسمبر کی سردی رگوں میں خون جما دے اتنی بے حس اور بے مروت ہے، حیرت ہے کے اس مرتبہ ٹھنڈ کی شدت تیز نہیں پر اتنا ضرور کہوں گی کے یہ موسم انسان کو سب سے زیادہ بے بس کر دیتا ہے۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ سردیاں کتنے ہی لوگوں کی پسندیدہ ہیں اگر ساری دنیا کے ووٹرز دو اُمیدوار سردی اور گرمی میں کسی کو سب سے زیادہ ووٹ دیں تو مجھے پورا یقین ہے سردی کو ہی کامیابی حاصل ہو گی مگر اِسی دسمبر کے کئی پہلو مجھے نہیں پسند مختصر یہ کہ دنیا میں کروڑوں افراد ہیں، سبھی کی زندگی میں لاکھوں پریشانیاں اور اداسیاں ہیں اور ان کی کئی وجہیں ہیں اُن میں کئی افراد ہیں جو دسمبر میں اس بے ڈھنگی سی اُداسی سے ہم کنار ہوتے ہیں اُن میں سے ایک میں بھی ہوں۔ شاید اس بات میں لاجک نہ ہو پر دسمبر اور اُداسی کا کوئی گہرا ناتا ہے یا شاید میں نے خوبصورت دسمبر ابھی تک گزارا ہی نہیں!

Facebook Comments HS