دسمبر اور اُداسی
دل کی اُداسی اور دسمبر کا گہرا تعلق ہے میں چاہے جتنا مسکرانا چاہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ مجھے سال بھر کے تمام دکھ دسمبر کی ہر شام دوہرانے ہوتے ہیں، میری ہر رات میرے گزرے ایام کی تلخیاں بُھلانے کی کوشش میں صَرف ہو جاتی ہے، میرے دل کی دھڑکن بے وجہ تیز ہونے لگتی ہے، آنکھیں مِیچنے پر لگتا کوئی شور برپا ہے مجھے جلدی سے آنکھیں کھول لینی چاہیں، ایسا کیوں ہے میں نہیں جانتی کبھی
Read more
