دسمبر اور اُداسی

دل کی اُداسی اور دسمبر کا گہرا تعلق ہے میں چاہے جتنا مسکرانا چاہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ مجھے سال بھر کے تمام دکھ دسمبر کی ہر شام دوہرانے ہوتے ہیں، میری ہر رات میرے گزرے ایام کی تلخیاں بُھلانے کی کوشش میں صَرف ہو جاتی ہے، میرے دل کی دھڑکن بے وجہ تیز ہونے لگتی ہے، آنکھیں مِیچنے پر لگتا کوئی شور برپا ہے مجھے جلدی سے آنکھیں کھول لینی چاہیں، ایسا کیوں ہے میں نہیں جانتی کبھی

Read more

تیسری جنس – کہانی

شالو کون آیا ہے باہر؟ باجی وہی خواجہ سرا آیا ہے۔ بناؤں روٹی؟ نہیں تم رہنے دو میں بناتی ہوں فاخرہ نے تردید کی، ”باجی نے سارے کام مجھ سے کروانے ہوتے ہیں اور نیکی خود کماتی ہیں! “ شالو نے دل میں سوچا، اتنے میں فاخرہ دروازے پر جا کر باتیں کرنے لگیں۔ ”نا جانے وہ کیا باتیں تھیں جو وہ ایک تیسری جنس سے کرتی تھیں؟“ شالو اکثر ایسا سوچا کرتی۔ شالو کو یہ بات کافی عرصہ سے

Read more

لکھنے میں شانتی ہے

میں آٹھویں جماعت میں تھی جب پہلی بار میں نے ایک شعر لکھا، ”نور ابھی چھوٹی ہو“ ، ابھی کچھ پڑھ تو لو پہلے ”، لکھنے کے لیے عمر پڑی ہے کورس کی کتابوں سے دل لگاؤ“ میرے لیے یہ بڑی بات تھی کہ علامہ اقبال کے مضمون کے علاوہ اگر دو ٹوٹے پھوٹے مصرعے میں نے لکھ لیے تو کیا ہو گیا سب کو! میں نے جتنی خوشی سے سبھی کو بتایا اتنی ہی میں افسردہ ہو گئی۔ بہرحال

Read more