علم کے دشمن، سوال کے قاتل
فیس بک کے ایک گروپ میں ایک سولہ سالہ لڑکے کا سوال پڑھا: ”کیا انسان کو ہر چیز کا علم حاصل کرنا چاہیے؟“ سوال جتنا معصوم لگتا ہے، اتنا ہی گہرا تھا۔ یہ سوال سن کر میرے دل میں دو جذبات ابھرے۔ ایک فخر کہ ہماری نوجوان نسل تجسس کی آگ میں جل رہی ہے، اور دوسرا افسوس کہ ہماری حکومت اور تعلیمی ادارے اس آگ کو بجھانے میں مصروف ہیں۔
کہنے کو ہم اکیسویں صدی میں ہیں، لیکن ہمارا تعلیمی نظام شاید ابھی بھی برطانوی راج کی باقیات پر چل رہا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے طلباء کو بائیولوجی پڑھانے کی کیا ضرورت؟ اور بائیولوجی والوں کو کمپیوٹر کیوں سکھائیں؟ ”یہ ان کا شعبہ نہیں“ ۔ بس یہ ایک جملہ ہی کافی ہے تمام نا انصافیوں کو چھپانے کے لیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم طلباء کو تعلیم دے رہے ہیں، یا صرف انہیں ایسے روبوٹ بنا رہے ہیں جو مخصوص کام کر سکیں؟
نوجوان کا سوال نہایت معقول تھا۔ کیا علم کی حد بندی واقعی ضروری ہے؟ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں فلسفہ، سائنس، مذہب، اور ادب کو الگ الگ ڈبوں میں قید کر دیا گیا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے طلباء سے کہا جاتا ہے کہ ان کا بائیولوجی سے کوئی تعلق نہیں، اور آرٹس کے طلباء کو سائنس کے قریب جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہماری نئی نسل میں تخلیقی سوچ کیوں نہیں؟
اس سوال نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام واقعی طلباء کو تیار کر رہا ہے، یا صرف ان کے تجسس کو مار رہا ہے؟ ہم انہیں ”رٹے باز“ بنا رہے ہیں، جو امتحان میں اچھے نمبر تو لے سکتے ہیں، لیکن زندگی کے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہیں۔
ہمارا معاشرہ علم کے ساتھ ایک عجیب تعلق رکھتا ہے۔ یہاں ہر شخص ”عالم“ بننا چاہتا ہے، لیکن کوئی ”طالب علم“ نہیں بننا چاہتا۔ اور یہ رویہ ہمارے تعلیمی نظام میں بھی جھلکتا ہے۔ طلباء کو محدود علم دیا جاتا ہے اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسی محدود دائرے میں زندگی گزاریں۔
ایک سولہ سالہ لڑکے کا یہ سوال حکومت کے لیے ایک آئینہ ہونا چاہیے تھا، لیکن کیا کریں، ہماری حکومتوں کے پاس ان کے اپنے سوالوں کے جواب نہیں ہوتے، تو نوجوانوں کے سوالات کا کیا کریں گے؟ ہمارے تعلیمی منصوبے وہی ہیں جو دہائیوں پہلے بنائے گئے تھے۔ نصاب پر نظر ثانی کے بجائے، ہم نئی نسل کو پرانے طریقوں سے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ سوال نہ صرف تعلیمی نظام پر بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے پر بھی ایک گہرا طنز ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ”بڑے خواب“ دیکھنے کی تلقین تو کرتے ہیں، لیکن ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے انہیں وسائل فراہم نہیں کرتے۔ ہم انہیں ”قائد اعظم کا پاکستان“ تو یاد دلاتے ہیں، لیکن ان سے یہ چھپا لیتے ہیں کہ قائد اعظم نے سوال اٹھانے کی ہمت کی تھی۔
ہمارے تعلیمی نظام کی حالت یہ ہے کہ یہاں تخلیقی سوچ کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ طلباء سے کہا جاتا ہے کہ وہ سوالات نہ کریں، بلکہ جو کہا جا رہا ہے، اسے مان لیں۔ اور اگر کسی نے سوال کیا، تو اسے ”باغی“ قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف نوجوان نسل کے تجسس کو مارتا ہے، بلکہ معاشرے کو جمود کا شکار بھی بناتا ہے۔ جب تک ہم سوالات اٹھانے اور ان کے جواب تلاش کرنے کی آزادی نہیں دیں گے، تب تک ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ علم کی کوئی حد بندی نہیں ہونی چاہیے، اور طلباء کو ہر شعبے کی بنیادی معلومات حاصل کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
لیکن کیا ہماری حکومت یا تعلیمی ادارے اس پر توجہ دیں گے؟ شاید نہیں۔ انہیں تو صرف یہ فکر ہے کہ طلباء امتحانات میں اچھے نمبر لیں، تاکہ ان کے ادارے کی ”رینکنگ“ بہتر ہو سکے۔ تعلیم کا اصل مقصد، یعنی سوچنا، سمجھنا، اور سوال کرنا، کہیں گم ہو گیا ہے۔
نوجوان کا یہ سوال ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں۔ ہمیں ایسا نظام تشکیل دینا ہو گا جہاں طلباء کو صرف کتابیں رٹانے کے بجائے زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی تربیت دی جائے۔
یہ سوال ہمارے سماجی ڈھانچے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ کیا ہم واقعی ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں سوال اٹھانا جرم ہو، یا ہم ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر شخص کو علم حاصل کرنے کی آزادی ہو؟ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہو گا۔
تو، اگلی بار جب آپ کسی نوجوان کو سوال کرتے دیکھیں، تو اسے روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ کیونکہ یہی سوالات ہمارے مستقبل کو روشن کر سکتے ہیں۔

