ایران پاکستان تعلقات۔


میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کا شکر گزار ہوں میں سفیر ایران رضا امیری، سینیٹر مشاہد حسین، صدر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز ایمبیسیڈر جوہر سلیم، پروگرام موڈیریٹر فراز نقوی اور سیمینار میں شریک تمام معزز مہمانان گرامی کو سلام پیش کرتا ہوں اہم موضوع پر مجھے آپ صاحبان دانش کے سامنے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کیا ”ایران کا عالمی نکتہ نظر اور پاک ایران تعلقات کے لئے بہتر مواقع“ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر نہایت باریک بینی سے دونوں ممالک کے معاملہ فہم اور معاملات سے متعلق افراد کو مطالعہ کرنا چاہیے

جب پاکستان آزاد ہوا تو ایران وہ پہلا ملک تھا کہ جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور جب اسلامی ممالک کی تاریخ میں بادشاہت کے خلاف سب سے بڑا عوامی انقلاب ایرانی عوام نے برپا کر دیا تو اس کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا۔

حالاں کہ امریکہ انقلاب کے سخت مخالف تھا۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان کبھی بھی ایران کو کسی دوسرے کی آنکھ سے نہیں دیکھتا ہے بلکہ اپنے دیرینہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے۔

جب بھی کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی تشکیل دی جاتی ہے تو اس میں چند امور کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے اور اس سے پاکستان ہو یا ایران دونوں ممالک کو استثنا حاصل نہیں ہے۔

آج کے دور میں عالمی ماحول اور اس کے ممکنہ اثرات کو زیر بحث لایا جاتا ہے، دونوں ممالک کی باہمی ضروریات کا تعین کیا جاتا ہے اور دونوں ممالک میں جاری داخلی سیاسی حرکیات، معاشی کھلاڑیوں، سیاسی ماحول، مختلف لسانی، علاقائی اور مذہبی گروہوں کے اس بارے میں تصورات پیش نظر ہوتے ہیں جو کہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے یا بگاڑنے میں کوئی بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو عالمی ماحول کے تناظر میں اگر پرکھا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی مانند عیاں ہے کہ امریکہ سے ایران کے تعلقات انقلاب کے بعد سے مسلسل خراب چلے آ رہے ہیں اور یہ اس حد تک خراب ہے کہ ابھی حال ہی میں امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ نے واشگاف الفاظ میں بیان کیا کہ امریکہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ایران کی موجودہ حکومت یا نظام کو ختم کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ مگر پاکستان نے باہمی تعلقات پر کسی دوسرے کو اثر انداز بھی نہیں ہونے دیا ہے۔

میں پاکستان کے امریکا سے تعلقات کو ایران کے تناظر میں ایک کھلی کھڑکی بھی خیال کرتا ہوں۔ کیوں کہ پاکستان نے امریکا میں بہت دفعہ ایران کے سفیر کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔

کونڈو لیزا رائس کے دور میں پاکستان نے ایران کے موقف سے امریکیوں کو آگاہ کیا بلکہ میں یوں کہوں تو زیادہ درست ہو گا کہ ان کو سمجھایا۔ پاکستان موجودہ اقتصادی مشکلات کے باوجود اپنی ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے اور اگر اب بھی اس کو ایران کا اس حوالے سے بھی اعتماد حاصل ہو تو وہ بہت مثبت کردار ادا کرتے ہوئے مثبت نتائج کے حصول کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔

پاکستان کے لئے اپنی آزادی کے روز اول سے آج تک انڈیا کی جانب سے فوجی خطرہ ہے اور جب کبھی بھی 16 دسمبر کی تاریخ آتی ہے تو اس خطرے کی حقیقت بھی سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔

ایران اور انڈیا کے باہمی تعلقات اب بہت بہتر ہے مگر مسئلہ کشمیر پر بھی ایران پاکستانی موقف کا حامی ہے اور ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنائی کشمیر کا ذکر کر چکے ہیں جو کہ اس حوالے سے ایران کے احساسات کو واضح کرتا ہے

اور یہ پالیسی آیت اللہ خمینی کی دی ہوئی تھی جب انہوں نے 1965 میں نجف میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عالم اسلام متحد ہو تو ”یہودی فلسطین کی لالچ نہیں کرسکیں گے، ہندو کشمیر کی حرص نہیں کرسکیں گے۔“

اس وجہ سے انڈیا چاہے چابہار میں سرمایہ کاری کرے یا ایران میں دیگر امور پر آگے نظر آئے پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

بلکہ اگر انڈیا کے معاشی و تجارتی مفادات ایران کے ساتھ وابستہ ہوتے چلے جائیں تو ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس ایک دوست ملک ایران موجود ہو گا جو کہ انڈیا کو کم از کم یہ سمجھانے کی ضرور کوشش کر سکتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران دونوں ممالک پاکستان کے برادر ہیں۔ ان دونوں کے گہرے مذہبی اثرات پاکستان کے مختلف مذہبی عناصر پر موجود ہیں۔ ابھی جو کچھ شام میں ہوا ہے اس کے بھی مختلف اثرات عرب ممالک، ترکی اور ایران کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ مگر اس دوران ہی جب سعودی عرب کے ولی عہد نے ایران کی خود مختاری اور سرحدوں کا احترام کرنے کا اسرائیل کے مقابلے میں بیان دیا تو ایک امید جاگی ہے کہ ان دونوں اہم ترین مسلمان ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔

افغانستان کے حالات گزشتہ نصف صدی سے پورے خطے کے لئے ایک درد سر بنے ہوئے ہیں اور وہاں پر کوئی بھی حکومت قائم ہو جائے اس کے شکوے شکایات کسی نا کسی ہمسایہ ملک سے موجود ہی رہتے ہیں۔ اب جب افغان طالبان بر سر حکومت آئے تو اس دوران ایران کے ان سے تعلقات بھی بہتر ہوئے اور اس بہتری کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے تعلقات پر افغان امور کی وجہ سے اختلاف رائے کے جو بد اثرات تھے وہ چھٹنے لگے۔ ان تمام کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی ایسا ہے کہ جو صرف ایران کا مسئلہ نہیں ہے، صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر اس انسان کا مسئلہ ہے کہ جس میں انسانیت موجود ہے۔

یہ بہت خوش قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اور ایران کا غزہ کے حالیہ واقعات پر ایک سا موقف ہے اور پاکستان ایران کی خود مختاری اور سرحدوں کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔ ایرانی سفیر رضا امیری نے اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی کے اوپر روشنی ڈالی اور ایران کی پوزیشن واضح کی کہ ایران کسی طور بھی فلسطین کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS