پاکستان میں قومیت کا مسئلہ
وطنی قومیت اور نسلی قومیت یہ دو الگ الگ شناختیں ہیں اور ان شناختوں کی حقیقت سمجھے بغیر پاکستان میں قومیت کے سوال کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ جب عارضی انتظام کے تحت ہندوستان میں مذہب کو قومیت کی بنیاد قرار دیا گیا اور پاکستان کو ایک قوم کا نام دیا گیا تو بہت جلد اس خطے میں نسلی قومیتوں کے سوال پیدا ہو گئے جس نے علاقائی نفرتوں کو جنم دیا۔ سانحہ بنگلادیش میں دوسرے کئی عوامل کے ساتھ یہ عامل بھی بڑی شدت کے ساتھ کار فرما نظر آئے گا۔
اب ذرا ایک اہم اعتراض پر بات کی جائے ہمیں ہمیشہ بتایا جاتا ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی آماجگاہ رہا ہے اور یہاں کے لوگ بزدل اور غلام رہے ہیں۔ جدید سائنسی علوم نے اس دعوے کی کلی کھول کے رکھ دی ہے۔ دُنیا میں موجود اقوام میں سے اس وقت کوئی قوم ایسی نہیں جو یک نسلی کا دعویٰ کر سکے۔ وطنی قومیتوں کے دؤر سے پہلے قبائلی ہجرتیں ایک عام روش رہی ہے اور موجودہ دؤر کی جدید ڈی این ای اسٹڈیز سے ثابت ہو چکا ہے کہ یورپ کی روما اور سنتیز کمیونٹیز کا تعلق سندھ اور گجرات کے قبائل سے ملتا ہے۔ تو ایسے میں یہاں پر ترک ایرانی اور مغل قبائل کی ہجرتیں اور حکومتیں کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی اور یہ بھی سوال کرنا چاہیے کہ ترک مغل اور دوسرے قبائل جو ہندوستان میں حملوں آوروں یا ہجرتیں کر کے آنے والے قبائل کی شکل میں آئے وہ ہندوستانی قومیت میں ہی ضم ہو گئے ان کی پرانی قومیتیں باقی نہیں رہیں اور ہندوستان میں ان کی حکومتیں بطور ہندوستانی حکمران کے رہیں۔
ایک اور مبالغہ جو ہندوستان کی قومی تاریخ میں افغانستان کے لیے رہا ہے وہ یہ کہ افغانی یہاں بار بار حملہ آور رہے اور ان کی حکومتیں ایک باہر کی قوم کی حکومتیں تھی یہ مبالغہ بھی تاریخی حقیقتوں سے بہت دور ہے اول اول تو یہ سمجھنا چاہیے کہ افغانستان ماضی میں ہندوستانی ریاست ہی رہا ہے اور مغل حکمران پورے خطے کہ حکمران رہے ہیں جس میں افغانستان بھی شامل تھا۔
اب آتے ہیں حکومتوں کے قیام کے طریقۂ کار پر ماضی کے حالات کو ہم آج کے حالات میں رہ کر نہیں سمجھ سکتے ماضی میں حکومتیں لشکر کشی سے ہی قائم ہوتی تھیں ایک خاندان کی حکومت کا قیام بزور طاقت ہی ہوتا تھا اور اگر اس کی جگہ پر کوئی نیا حکمران لینا چاہتا تو وہ بھی اسی طریقہ کار پر عمل پیرا ہوتا۔ ماضی میں آج کی طرح الیکشن کمیشن کا وجود نہیں تھا ناں ہی کوئی ریفرنڈم کا طریقہ کار رائج تھا تو افغانستان کے قبائل کی ہندوستان میں حکومتیں قائم کرنے کی کوششیں اور جنگی تاریخ ہندوستان کے ایک خطے کے لوگوں کی ہندوستان کے دوسرے خطے میں حکومتیں قائم کرنے کی کوشش تصور ہوں گی نہ کہ کوئی باہر کہ حملہ آوروں کی جنگیں
ہم تاریخ کے پاکستانی ماڈل کا شکار ہیں جس میں ہندو مسلم دو الگ قومیں تھیں اور آپس میں برسر۔ پیکار تھیں جب کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا کچھ نہیں تھا مغلوں کی فوج کا اکثریتی حصہ ہندو راجا مہا راجاؤں پر مشتمل تھا۔ جب کہ جس پانی پت کی جنگ کو ہم خالص اسلام اور کفر کی جنگ کے طور پر لیتے ہیں اس جنگ میں ذرا تاریخ پڑھ لیں کہ کتنے مسلمان مرہٹوں کی طرف سے لڑے
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خود ملامتی کے رویے کو ترک کر کے قومیت کہ سوال پر غؤر کرنا چاہیے جس کہ لیے خصوصاً مولانا عبیداللہ سندھی کے نظریے کی طرف توجہ دینی چاہیے پاکستان اب ایک حقیقت ہے اور وطنی لحاظ سے ہم ایک قوم ہیں اور ماضی میں اگر جھانکا جائے تو موجودہ پورا پاکستان ماضی میں بھی ایک وطنی قوم رہا ہے جس کو ہم سندھی قومیت کہہ سکتے ہیں کیوں کہ دریا سندھ جہاں سے نکلتا ہے اور جہاں پر ختم ہوتا ہے اس کو ماضی میں سندھ کہا جاتا تھا اور اسی خطے میں مختلف نسلی قومیتیں بھی آباد ہیں۔ جیسے سندھی پنجابی سرائیکی بلوچ وغیرہ وغیرہ۔ قومیتوں کی حقیقت کو سمجھ کر اور ان کے حقوق کو مان کر ہی پاکستان میں قومیتوں کے سوال کو حل کیا جا سکتا ہے

