یونس خاموش کے شعری مجموعہ ”سرد آگ“ کا تجزیہ
یونس خاموش کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ آپ نہ صرف شاعر ہیں بلکہ محقق اور نقاد بھی ہیں۔ یونس خاموش نے اپنا ایم فل کا تحقیقی مقالہ جدید غزل گو شاعر ”نصرت چوہدری“ کے فن اور شخصیت پر لکھا ہے جو ان کی تحقیقی اور تنقیدی سوچ کا ایک ثبوت ہے۔ ”یونس خاموش“ کا شعری مجموعہ ”سرد اگ“ جولائی 2024 میں مکتبہ اسالیب، سرگودھا سے شائع ہوا ہے۔ یونس ”سرد اگ“ میں بڑے سادہ اور خوبصورت طریقے سے یونس خاموش صاحب نے معاشرے کے کئی موضوعات کو اشعار کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ان کے ہاں تصوف، مذہبی ہم آہنگی، ترقی پسندی، انسانی نفسیات، رومانویت اور معاشرتی المیوں کی عکاسی ملتی ہے۔
مذہبی ہم آہنگی اور عاجزی
یونس خاموش نے بڑے گہرے طریقے سے مذہب کے بنیادی نقطہ کو اور صحیح معنوں میں خدا کی تلاش اور جستجو کو ایک دلکش اور لطیف انداز میں پیش کیا ہے۔ خاموش بڑے عاجزانہ طریقے سے خدا کے حضور ہمکلام ہوتے نظر آتے ہیں۔
؎ نامہ میرے عمل کا نہیں پڑھنا اے خدا
محشر میں مجھ پہ رحم ہی تو کرنا ہے خدا
اچھی ہو میرے واسطے دنیا و آخرت
دامن میرا بھی خوشیوں سے تو بھرنا ہے خدا (1 (
تصور حسن و جمال:
خاموش کے ہاں حسن و جمال کی ترجمانی بڑے نفیس اور عمدہ انداز میں کی گئی ہے۔ وہ انسان کے دلی جذبات کی ترجمانی بڑے رومانوی انداز میں کرتے نظر آتے ہیں :
؎جسم تیرا تھا جیسے کھلتا گلاب
یاد ہے اب بھی تیرے لب کی بات (2 (
؎میں اس کی زیارت میں مصروف ابھی
انکھ بھی دیکھے چہرے کے تل کی طرف (3 (
؎تیرے ہونٹوں کا جب بھی ذکر کروں
پھول کی پنکھڑی ہی لکھتا ہوں (4 (
ترقی پسندانہ سوچ:
معاشرتی ناہمواری اور سماجی طبقاتی تقسیم ایک ایسا المیہ ہے جو ترقی پسندی کا بنیادی نقطہ ہے۔ یونس خاموش کے ہاں کئی اشعار کے مضامین میں ترقی پسندانہ سوچ واضح نظر آتی ہے۔ وہ بڑے دلیرانہ انداز میں معاشرے کی فرسودہ روایات کی بغاوت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں :
؎محفوظ نہ ہوں جس میں غریبوں کی عزتیں
خاموش اس سماج کی خواہش نہیں مجھے (5 (
؎زندگی کالی گھٹاؤں سے بھی کالی ہو گئی
کیوں نہ تھوڑی روشنی بھی ساتھ کر لوں دوستو (6 (
؎حکومت بنی سانپ بیٹھی ہے ہر جا
خزانے ہوئے ہیں امینوں سے خالی (7 (
حق گوئی اور بے باکی:
اگر ہم اس کتاب کا مطالعہ کریں تو ہمیں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یونس خاموش نے معاشرے کے منافقانہ طرز اور دوغلے پن کو بڑے جرات مندانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ معاشرے کی اجتماعی بے حسی اور منافقانہ رویہ کو اشعار میں بڑی بے باکی سے پیش کرتے ہیں :
؎میں منافق نہیں، بالکل نہیں ہوں
میرے دل میں یہ غلاظت نہیں ہے
تیرے سجدے نہیں، ٹکریں ہیں سبھی
جب منافق کی عبادت نہیں ہے (8 (
؎تمام عمر ہی گزری ہے ان کی دھوکے میں
جو خود فریبی کا اوڑھا لبادہ کرتے ہیں (9 (
استفہامیہ انداز:
خاموش کے ہاں کئی اشعار میں سوالیہ انداز ملتا ہے۔ وہ اشعار میں استفہام کے ذریعے کلام کرتے ہوئے نظر آتے آتے ہیں۔ وہ کلام میں خود سے اور معاشرے سے استفہامیہ انداز میں مکالمہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں :
؎ہیں آدمی بہت مگر انسان کم ہیں کیا
انسانی روپ میں یہاں حیوان کم ہیں کیا
سن اے امیر شہر حفاظت کے واسطے
چاروں طرف تمہارے یہ دربان کم ہیں کیا (10 (
تصور غم
جہاں جہاں خاموش معاشرتی المیوں کی غم دوراں کے رونا روتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں وہ ساتھ ساتھ غمِ عشق و عاشقی کے فسانے بھی سناتے ہیں۔ یونس خاموش انسان کی دلی کیفیات میں ڈوب کر اندرونی غم کی کیفیات کو سلیس زبان میں قاری تک پہنچانے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں :
؎گلشن میں ہر سو ویرانی چھائی ہے
تیری جدائی کا یہ منظر لگتا ہے (11 (
؎زندگی تیرے بنا تو موت سے بھی سخت تھی
چند دن میں رہ چکا اس بے وفا کے ساتھ بھی (12 (
جدت اور روایت کا امتزاج:
یونس خاموش کے جو بھی موضوعات بیان کیے گئے ہیں ان میں کلاسیکل غزل اور جدید طرز کا ایک خاص امتزاج ملتا ہے۔ وہ حسن کی کیفیت ہے، ہجر و وصال ہو یا کوئی بھی موضوع ہو، خاموش اس کو نہایت خوبصورت انداز میں کلاسیکیت اور جدت کا ایک گلدستہ بنا کر پیش کرتے ہیں :
؎ پاؤں پڑا ہوں منت کی ہاتھ جوڑ کے
پھر بھی چلا گیا وہ میرا ساتھ چھوڑ کے
پل بھر میں اس نے رشتے سبھی ختم کر دیے
اپنا رومال لے کے میرا چھلا موڑ کے (13 (
صنائع بدائع کی خوبصورتی:
جہاں جہاں ”سرد آگ“ مختلف مضامین اور نئے نئے شعری خیالات سے مزین ہے وہاں یونس خاموش نے علم بیان اور بدیع کے استعمال سے اشعار کو اور بھی خوبصورتی اور دلکشی بخشی ہے۔ ہم علم بیان اور بدیع کے حوالے سے ”سرد آگ“ کا جائزہ لیتے ہیں۔
صنعت تضاد:
؎ دیکھ لے اس محبت کی حالت
میں ہوں مقتول، قاتل نہیں ہوں (14 (
؎تو نے چھوڑا کہاں مجھ کو ا کے
میں گرا رہا میں لڑکھڑا کے (15 (
صنعت تکرار:
؎زندگی سے وہاں لڑتے لڑتے مری
موت ناگن بنی مجھ کو ڈستی رہی
یہ محبت ہماری تماشا بنی
زندگی موت بن بن کے سجتی رہی (16 (
صنعت تلمیح:
؎ جس کے لیے نکالا تھا آدم بہشت سے
ایسے کسی اناج کی خواہش نہیں مجھے (17 (
؎ میرے حسین پیاسے رہے کربلا کے بیچ
آنسو ہمارے مل گئے آب فرات میں (18 (
صنعت لف و نشر:
؎ ظلم، انصاف ایک جیسے نہیں
تیرا، میرا مقابلہ نہیں ہے (19 (
صنعت سیاق الاعداد:
؎ دل میں یہ سرد آگ جلتی رہی
عشق دو دن کا حادثہ نہیں ہے (20 (
تشبیہ
؎ میں جی رہا ہوں خزاں مارے ایک شجر کی طرح
تیرے چمن میں بتا یہ بہار کب سے ہے (21 (
استعارہ
تو گھوم کے، پھر کے، دیکھ تو لے
خاموش کی زندگی ہے کھنڈر (22 (
حوالہ جات:
یونس خاموش ؛ سرد آگ، مکتبہ اسالیب، سرگودھا ( 2024 )
1ص 24
2ایضاً ص 68
3ایضاً ص118
ایضاً ص151
5 ایضاً ص33
6 ایضاً ص63
7 ایضاً ص34
8ایضاً ص159
9ایضاً ص152
10 ایضاً ص63
11 ایضاً ص67
12 ایضاً ص109
13 ایضاً ص141
14 ایضاً ص73
15 ایضاً ص89
16 ایضاً ص41
17 ایضاً ص33
18 ایضاً ص64
19 ایضاً ص46
20 ایضاً ص46
21 ایضاً ص52
22 ایضاً ص72


Keep it up 👍