گیارہ دسمبر، پہاڑوں کا عالمی دن


آج دنیا بھر میں پہاڑوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پہاڑ نہ صرف جغرافیے کے خد و خال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ تہذیب و ثقافت، کلچر، زبانوں، ادب، پانی اور زندگی کے قیام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

ہر سال پہاڑوں کا عالمی دن منانے کے لیے میں سال میں کم از کم ایک بار پہاڑوں کی زیارت پہ ضرور نکلتا ہوں۔ کبھی برف پوش پہاڑ، کبھی سرسبز و شاداب پہاڑ، کبھی گنجلک پہاڑ، کبھی ننگے پہاڑ اور کبھی ریتلے پہاڑوں یا ٹیلوں کی یاترا ضرور کرتا ہوں۔

آج کے اس پہاڑوں کے عالمی دن کے موقع پر آپ کے لیے پیشِ خدمت ہیں وہ پہاڑ جو تھرپارکر جیسے دنیا کے واحد صحرا جہاں ہریالی اور سبزہ پایا جاتا ہے، کے لیے زندگی اور پانی کا منبع ہیں۔ یہ کارونجھر کے پہاڑ ہیں، جو نگر پارکر میں واقع ہیں۔ رَن آف کچ کے میدان اور انڈیا کے گجرات کے بالکل ماتھے پر موجود ہیں۔ نگر پارکر کے لوگ اپنی جان سے زیادہ کارونجھر کے پہاڑوں سے عشق کرتے ہیں۔ کارونجھر کا یہ پہاڑی سلسلہ تھرپارکر کے صحرائی لوگوں کو سال بھر زندہ رہنے اور کھیتی باڑی کے لیے پانی مہیا کرتا ہے، وہ ایسے کہ جب جولائی اگست میں بارشیں ہوتی ہیں تو لامتناہی پہاڑوں کا یہ سلسلہ پانی کی بوند بوند جوڑ کر ان لوگوں کے جوہڑوں اور ندیوں کو جولانی عطا کرتا ہے اور وسیع و عریض اس صحرا کو جل تھل کر دیتا ہے۔ معدنیات کی کثرت سے کارونجھر کا یہ پہاڑی سلسلہ مسلسل معدومی کے خطرات سے دوچار ہے، سرمایہ دار اپنی نسلوں کے پیٹ بھرنے کے لیے اس پہاڑ کو کاٹ کھانے کے درپے ہیں۔ اس نفسا نفسی میں نگر پارکر میں رہنے والے ہندو برادری کے لوگ کارونجھر کی پوجا کرتے ہیں اور اسے اپنی بقا کا واحد اور آخری سہارا مانتے ہیں۔ یہ وہی کارونجھر کے پہاڑ ہیں جہاں دیگر تنوعِ حیات کے ساتھ ساتھ مور بکثرت پائے جاتے ہیں۔ پھر جیسا میں نے آغاز میں کہا کہ پہاڑ تہذیب و ثقافت کو جنم دیتے ہیں تو اس ضمن میں یہ بات یقیناً آپ کو حیران کر دے گی کہ اس علاقے کو انھی پہاڑوں کی وجہ سے مہاویر کے پیامبروں نے صدیوں پہلے علاقائی معاشی مرکز بنا دیا تھا۔ دیبل کی بندرگاہ سے اترنے والے تجارتی سُورما اپنا سامانِ تجارت و عیش و عشرت لیے کارونجھر کی اس وادی میں اترے چلے آتے تھے اور پھر کبھی پالن بازار کے جین مندر تو کبھی ویراوا اور بھوڈیسر کے جین مندروں میں مہاویر کے چڑھاوے چڑھاتے تھے، امن و آشتی کے نغمے گاتے تھے اور پیار و محبت کا پرچار کرتے تھے۔

گزرے وقتوں میں یہ کارونجھر پہاڑ اور اس کی وادی برصغیر پاک و ہند کی انتہائی ترقی یافتہ معاشی و سماجی سرگرمیوں کا محور رہ چکے ہیں۔ تقسیم ہندوستان کے بعد ساٹھ ستر کی دہائی میں یہاں آباد جین مت کے پیروکار اپنا مستقبل تاریک نظر آنے پر ہندوستان کوچ کر گئے۔ جینی ہندوستان کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے یہودی امریکا کے لیے۔ انتہائی محنتی، ترقی یافتہ، سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیس اور تجارت کو اوڑھنا بچھونا سمجھنے والے۔

گو کہ جینی چلے گئے مگر ہندو اب بھی وہیں آباد ہیں، تعمیر و ترقی تو ایسے ہی ہے جیسے ہمارے چکوال میں ہے مگر یہ تو پاکستانیوں کا مقدر ہے، اس کے باوجود وہاں امن و امان کی ایسی مثالی صورتحال ہے کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ وہاں امن و شانتی کے شادیانے اب بھی بجتے ہیں، مور اُڈاریاں مارتے کبھی پہاڑیوں تو کبھی مندروں کے گھنٹوں کے ارد گرد منڈلی سجائے رکھتے ہیں، مسلمان عید مناتے ہیں مگر گائے ذبح نہیں کرتے، ہندو ہولی اور دیوالی مناتے ہیں تو ان کے ساتھ جشن کرتے ہیں، محرموں میں ہندو بھی سوگوار پھرتے ہیں، نہ ہندؤوں کو مسلمانوں کی جائیدادوں اور عزتوں میں دلچسپی ہے نہ مسلمانوں کو ہندؤوں کی، بس سب کا ایک دُکھ سانجھا ہے کہ کارونجھر سرمایہ داروں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی آماجگاہ بننے جا رہا ہے، انھیں خوف ہے کہ یہ ان کی زندگیاں نہ نگل لے۔

Facebook Comments HS