پشتو اکیڈمی کوئٹہ: الیکشن، تجزیہ، اور آنے والے چیلنجز


ایک ایسے موقع پر جب اکیڈمیاں مادری زبانوں اور ثقافتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، پشتو اکیڈمی کوئٹہ اس دوڑ میں پیچھے ہے۔ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے وجود میں آنے اور وافر بجٹ کی دستیابی کے باوجود پشتو اکیڈمی قابل ستائش نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔

چند تجربہ کار پشتون ادبی شخصیات کی کئی سالوں سے جاری اجارہ داری جنہوں نے اکیڈمی کے فنڈز کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا پشتو ادب کی ترویج اور ترقی روکنے میں ایک مہلک ہتھیار ثابت ہوا اور مذکورہ اکیڈمی کو جمود کی طرف لے گئے۔ ان تجربہ کار ادیبوں نے اکیڈمی کے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے درجنوں پشتون مصنفین کی موجودگی کے باوجود ان لکھاریوں کو اکیڈمی کی رکنیت لینے سے محروم رکھا اور اکیڈمی کی رکنیت کو آئینی ترمیم کی بدولت چالیس ممبران تک محدود کر دیا تھا۔

یہ اجارہ داری حال ہی میں معزز ہائی کورٹ کی طرف سے اس وقت ختم ہوئی جب ایک تجربہ کار ادبی شخصیت، ادیب، شاعر، ناول نگار، تحقیق کار، سفر نامہ نگار اور پشتو زبان کے بیس کتابوں کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان نے اس اجارہ داری کے خلاف درخواست دائر کی۔ کیس کے فیصلے کے نتیجے میں اب مزید لکھاری (تقریباً 87 ) پشتو اکیڈمی کے ممبر بن چکے ہیں جو اکیڈمی کے پرانے ممبران کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ نئے اراکین نے اکیڈمی نے موجودہ چیئرمین کے استعفیٰ، آئین میں ترمیم اور گزشتہ دو سالوں کے بجٹ کے استعمال کی انکوائری کے ایجنڈے پر مشتمل جنرل باڈی اجلاس کے لیے درخواستیں دائر کیں۔ جنرل باڈی کے اجلاس میں چیئرمین نے استعفیٰ دے دیا اور کچھ ترامیم کی منظوری دی گئی۔

نیا رکن ہونے کے ناتے راقم نے بھی آئین میں کچھ ترامیم کی تجویز دی تھی مثال کے طور پر یہ کہ ووٹنگ کے نظام کی بنیاد شو آف ہینڈ کی طرز پر ہونی چاہیے۔ پشتو اکیڈمی کی کابینہ کے لیے برطانیہ کی کابینہ کی طرح اجتماعی ذمہ داری کے تصور کو اپنایا جائے اور چیرمین کے استعفی یا عدم اعتماد کو تمام کابینہ کے خلاف تصور کیا جائے، راقم نے تجویز دی تھی کہ تین زبانوں (پشتو، اردو اور انگریزی) میں سالانہ تحقیقی جریدہ شروع کیا جائے جو ایچ ای سی سے تسلیم شدہ ہو، ایچ ای سی کی طرز پر مختلف مضامین میں تحقیقی پراجیکٹس شروع کیے جائیں۔

یہ کہ اکیڈمی کے تمام اخراجات جنرل باڈی کی دو تہائی ممبران کی اجازت سے مشروط کر کے منظور کیے جائیں، یہ کہ چیئرمین اور ان کی کابینہ کی مدت 3 سال سے کم کر کے 1 سال کر دی جائے، راقم نے تجویز دی تھی کہ اکیڈمی کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد جنرل کونسل کے اراکین کی واحد اکثریت پر مبنی ہو، یہ کہ اکیڈمی کی شائع کردہ کتابیں جنرل کونسل کی اجازت سے مشروط ہوں جس کے لیے پبلشنگ ایجنسیوں سے بولی جس کی منظوری جنرل باڈی کے کل اراکین کے 2 / 3 دے، یہ کہ سالانہ کم از کم چار بار ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا جائے، یہ کہ چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکرٹری، فنانس سیکرٹری، اور سیکرٹری اطلاعات کے دوسرے دور کے لیے مذکورہ عہدوں کے لئے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی ہونی چاہیے۔

راقم نے یہ بھی تجویز کیا کہ پشتو اکیڈمی کے تمام ممبران کے لیے آن لائن کلاسز شروع کی جائیں جن کے موضوعات پشتون بیلٹ کی سیاسی اور معاشی صورتحال، اس کی سٹریٹجک اہمیت، جغرافیائی محل وقوع، کان کنی اور معدنی وسائل اور مجموعی طور پر پشتون قوم کی تاریخ اور ثقافت سے متعلق ہو جس کے لئے تجربہ کار پروفیسرز یا تجربہ کار اور متعلقہ مضامین کے ماہرین جس کا تعلق پشتو اکیڈمی سے ہو کی خدمات حاصل کی جائیں، اور مصنف کی آخری تجویز اکیڈمی کے اراکین میں پشتون بیلٹ کے قدرتی وسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھی۔ بدقسمتی سے ان تمام سفارشات پر غور نہیں کیا گیا۔

رواں سال 24 نومبر کو چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکرٹری، فنانس سیکرٹری، سیکرٹری اطلاعات اور 11 ایگزیکٹو ممبران کے لیے انتخابات ہوئے۔ جن کے لیے تین پینل میں مقابلہ تھا۔ انتخابات کے نتائج کے مطابق نئے چیئرمین ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی اپنے پورے پینل کے ساتھ منتخب ہوئے۔ راقم جو کہ پشتو اکیڈمی کے ممبر بھی ہے نے نومنتخب چیئرمین کو مبارکباد کے بعد بتایا کہ تینوں پینلز کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مقصد ایک ہے جو پشتو زبان اور ثقافت کی خدمت اور فروغ ہے۔ لہذا بلا تفریق مخالف پینلز کو اعتماد میں لے کر نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے میں ہی پشتو زبان کی آبیاری ہو سکتی ہے۔

پشتو اکیڈمی کے الیکشن سے جمہوری عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اب ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی اور ان کی ٹیم کو اکیڈمی کی قیادت کا مینڈیٹ حاصل ہو چکا ہے۔ نومنتخب چیئرمین کے سامنے اب بے پناہ چیلنجز ہیں۔ کیا وہ اکیڈمی کو اشاعتی ادارے سے ریسرچ اوریئنٹڈ اکیڈمی میں تبدیل کر پائے گا؟ کیا وہ اکیڈمی میں بدعنوانی کا خاتمہ کر سکے گا؟ کیا وہ تمام اراکین بشمول مخالف پینلز کے اعتماد میں لے سکے گا؟ کیا وہ پشتو زبان اور ثقافت کے فروغ کے حوالے سے غیر فعال اکیڈمی کو جمود سے نکال پائے گا؟ کیا وہ ادبی انتقام کو ختم کرنے کی پوزیشن میں ہو گا؟ کیا وہ اپنی کابینہ کے ارکان اور اپنے پینل کے غلط کاموں کو ناں کہہ سکیں گے؟ کیا حافظ رحمت نیازی خود کو ایک قابل، توانا، انتظامی طور پر ہنر مند، اور مضبوط فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا منتظم ثابت کریں گے؟ اس کے قیادت کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔

Facebook Comments HS