کیا پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ واقعی تباہ ہو گئی ہے؟
کافی دنوں سے کچھ اہم باتیں لکھنا چاہ رہا تھا پر موقع نہیں مل رہا تھا۔ آج سوچا ذرا غبار نکال ہی لوں۔ آئیے میرے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے چار سالہ تجربے میں سے کچھ اہم نکات پڑھیے۔
سوال: کیا پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تباہ ہو گئی ہے؟
جواب: ارے نہیں بھائی! یہ 2.11 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ہے۔ ہماری قومی دانش اپنے چھینی ہتھوڑے لے کر دن رات بھی رولے ڈال لے، 2.11 ٹریلین ڈالر تباہ نہیں ہوتے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ لگژری مارکیٹ ہے، اس کے تقاضے الگ ہیں۔ ہم اس معاملے کو ایک لگژری گاڑی کی مثال سے دیکھتے ہیں۔ آپ نے تین کروڑ کی ایک لگژری ہائبرڈ گاڑی لے لی، اچانک ایسا ہوا کہ اس کی بیٹری جواب دے گئی۔ اب اول تو وہ بیٹری پندرہ، بیس لاکھ روپے کی ہے (یعنی اچھی خاصی مہنگی) ، دوم اسے منگوانا بھی جرمنی سے ہے اور اتفاق سے پاکستان میں ایل سیز بھی بند ہیں۔
اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کون سے بیرئیر پر اٹک جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس فوری طور پر پندرہ بیس لاکھ روپے موجود نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ پیسے موجود ہوں لیکن جرمنی سے منگوانے کا کوئی انتظام نہ ہو پا رہا ہو، یا پھر یہ دونوں مسائل حل ہو بھی چکے ہوں لیکن بیٹری پورٹ پر پڑی ایل سی کھلنے کا انتظار کر رہی ہو۔ ایسی کسی بھی حالت میں بظاہر وہ گاڑی بالکل بے کار ہے، بلکہ جنازہ ہے، جو اگر کسی روڈ پر رُک چکی ہے تو اسے ریکوری کی گاڑی پر آپ کے گیراج میں چھوڑنا پڑے گا لیکن اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ وہ گاڑی تباہ ہو گئی، نہ ہی یہ مطلب ہے کہ اس گاڑی کی ویلیو ڈاؤن ہو چکی ہے۔ بس بیٹری کا انتظار کریں اور لگژری انجوائے کریں۔ اس اثنا میں گزارے والی گاڑی چلاتے رہیں۔
بالکل یہی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا معاملہ ہے۔ اس وقت عالمی اور مقامی طور پر کچھ بیریئرز کی بدولت یہ مارکیٹ اسی گاڑی کی طرح کچھ وقت کے لیے رُکی تو یاروں کو لگا کہ مارکیٹ تباہ ہو گئی۔ نہیں بھائی نہیں! یہ ٹریلین ڈالرز ہیں، آپ کی دو پوسٹوں سے دریا برد ہونے والے نہیں ہیں۔ بس ہر وقت لگژری کا نہیں ہوتا، اس لیے فی الحال سادہ روٹی پر گزارا کریں۔
دوسری طرف مزے کی بات بتاؤں، رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی ویلیو کا اس کے بڑے بڑے سٹیک ہولڈرز تک کو بھی ٹھیک اندازہ نہیں ہے۔ اسلام آباد کے تین چار بڑے ڈویلپرز کے ساتھ میٹنگز رہی ہیں، حیرت ہوئی کہ اربوں روپے کے بلا مبالغہ پراجیکٹس ان کے کریڈٹ پر ہیں لیکن یہ لوگ لوکل اور انٹرنیشنل مارکیٹ کے ماڈرن کلچر سے تقریباً لاعلم ہیں۔ اتنے بڑے پراجیکٹس کے ساتھ وہ اگر چند چھوٹی چھوٹی سمارٹ ٹوِیکس کر لیں تو پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں انٹرنیشنل انویسٹمنٹ لانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گا۔
اسی طرح یہاں سعودی عرب میں مجھے کچھ دوست ایسے ملے جن کے اسلام آباد میں ٹاپ لوکیشنز پر کمرشل پلاٹس اور پلازے ہیں، لیکن وہ سعودی عرب میں بیٹھے رو رہے ہیں۔ وجہ پوچھو تو بتائیں گے کہ بیس بائیس کروڑ کا پلاٹ لیا تھا، اب 15 کا بھی نہیں سیل ہو رہا۔ بھئی بیچنا کیوں ہے؟ ملک کے حالات خراب ہیں! خریدا کیوں تھا؟ تب حالات کچھ بہتر تھے! تو دوبارہ بہتر ہونے دو! پھر انہیں بیٹھ کر سمجھایا کہ رئیل اسٹیٹ بچوں کی مارکیٹ نہیں ہے، نہ ہی یہ سٹاک یا فاریکس جیسی لیکویڈ مارکیٹ ہے۔ اس کی لکویڈیشن کے اپنے اصول اور تقاضے ہیں۔ جب تک آپ بڑے گردے کے ساتھ اس مارکیٹ میں کھیلتے ہیں، آپ راج کرتے ہیں۔ ادھر آپ ذرا بھر متفکر ہوئے، ادھر اس مارکیٹ نے آپ کے ہوش ہی اڑا کے رکھ دینے ہیں۔ آپ اگر اس مارکیٹ میں قدم رکھ ہی چکے ہیں تو اس کی ویلیو تو سمجھیں۔ یہ تو سمجھیں کہ آپ اتنی بڑی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جس میں امکانات کی ہزار کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں میں ہزار دنیائیں ہیں۔
یہاں آپ کو ایک اور نکتہ بھی سمجھاتا چلوں کہ ہر مارکیٹ کی بیس میں کچھ نہ کچھ سالڈ موجود ہوتا ہے، جو اس مارکیٹ کو اڑنے میں مدد دیتا ہے۔ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی بنیاد میں اس وقت آبادی کی نسبت ایک کروڑ گھروں کی شارٹیج ہے۔ یہ شارٹیج پوری کرتے کرتے آبادی بھی بڑھ جائے گی اور آبادی کی ضروریات بھی۔ اس لیے مستقبل قریب و بعید میں رئیل اسٹیٹ کے تباہ ہونے کے ایک فیصد بھی چانسز نہیں ہیں۔ دوسری طرف معاشی ماہرین کی پیش گوئی یہ کہہ رہی ہے کہ 2028 تک یہ 2.11 ٹریلین ڈالرز کی مارکیٹ 2.75 ٹریلین ڈالرز سے بھی زیادہ کی مارکیٹ ہو چکی ہو گی۔
اب آپ کو آسان ترین الفاظ میں بتاؤں تو بھائی آپ نے اگر رئیل اسٹیٹ میں قدم رکھا ہوا ہے تو قدم مضبوط کریں۔ جب حالات خراب ہوں تو لگتا یہی ہے کہ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے لیکن جب حالات ٹھیک ہوں تب بھی یہی لگتا ہے کہ کبھی خراب نہیں ہوں گے۔ اس لیے سب سے پہلے تو مایوسی سے نکلیں، حالات نے بہتر ہونا ہی ہونا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے چاہے اس مارکیٹ میں ایک لاکھ لگایا ہے، چاہے ایک ارب، یہ مارکیٹ آپ کے لاکھوں اربوں سے زیادہ بڑی ہے، آپ اس مارکیٹ پر اعتماد رکھیں، یہ آپ کو تب تک ڈوبنے نہیں دے گی، جب تک آپ خود اپنی لائف جیکٹس نہ اتار پھینکیں۔ یعنی اپنے اثاثے ہولڈ کریں اور دھنیا کوٹ، پی کر سو جائیں۔ ان اثاثوں کو انڈے بچے دینے دیں، آپ کا انتظار آپ کو اتنا فائدہ دے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ ہاں نئے آنے والوں کو پھر سے سمجھاؤں گا کہ دل گردہ بڑا رکھ کر آنا ہے تو آئیں، ورنہ کوئی ضرورت نہیں، اوکھے ہوں گے۔



2 ٹریلین ڈالر یعنی 2000 ارب ڈالر یعنی 20 کھرب ڈالر-
مجھے علم نہیں کہ 5500 کھرب روپے کی مالیت کہاں سے نکالی گئی۔
اس میں بات یہ نہیں کہ پورے پاکستان کے گھروں فیکٹریوں زرعی زمین اور کمرشل زمین کی مالیت کیا ہے سوال یہ ہے کہ اس میں سے لیکویڈ کتنا ہے ؟
اس کا درست اندازہ اس بات سے ملے گا کہ رئیل اسٹیٹ سے متعلق ہر سال کتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے زمین کی لین دین بالخصوص۔ وگر نہ اسٹیل سیمنٹ اور دوسری اشیاء کی فروخت سے حاصل ٹیکس اس کے علاوہ بھی ہو تو اتنا ٹیکس جمع نہیں ہوتا کہ تین چارسو ارب روپے تک ہی پنہچ جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پلاٹ کو سرمایہ کاری کے طور پر تو دیکھا جاسکتا ہے بزنس کے طور پر نہیں۔ سرمایہ کاری لمبے عرصے کے لئے ہوتی ہے اس لئے اتار چڑھاؤ پر سرمایہ کار روتا نہیں۔ لیکن بزنس مین لیکویڈ چیز میں کام کرتا ہے اور اج کا مال آج ہی بیچنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے روتا رہتا ہے۔
پاکستان میں ایسے قوانین کی ضرورت ہے کہ زمین کو فائل کی شکل میں بیچنے کی حوصلہ شکنی ہو اور تعمیرات کی حوصلہ افزائی ہو