ہیلتھ انشورنس کمپنی کے سربراہ کا قتل: امریکہ کے کرپٹ ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے لمحہ فکریہ


یہ واقعہ کسی خاموش سنسان شہر کا نہیں بلکہ ہمہ وقت جاگتے نیویارک سٹی کے علاقہ مڈ ویسٹ مین ہٹن کا ہے جہاں 4 دسمبر بدھ کی صبح چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ ہلٹن ہوٹل سے مشہور ہیلتھ انشورنس کمپنی کا پچاس سالہ سی ای او، برائن تھامسن اپنی کمپنی کے ساتھ ہونے والی سالانہ انویسٹرز کانفرنس میں شرکت کر کے نکل رہا تھا۔ اس کو بھلا کیا خبر تھی کی اس وقت دولت کے بجائے موت اس کے تعاقب میں ہے۔ کیونکہ عین اس لمحے اس کے عقب سے ایک کار کے پیچھے چھپا سفید فام 26 سالہ نوجوان، جس کا چہرہ کالی ہڈ والی قمیض سے چھپا ہوا تھا، نمودار ہوتا ہے۔ اس کی پیٹھ پہ سرمئی رنگ کا بیک پیک اور ہاتھ میں نائین ایم ایم پستول تھی۔ اس نوجوان نے جو پیدل تھا، سائیڈ واک پہ چلنے والے شکار کو عقب سے نشانہ بنایا۔ پھر اس کو مارنے اور جاں بلب حالت میں چھوڑنے کے بعد اس نے سڑک پار کی۔ سینٹرل پارک تک کے لیے ای بائیک اور پھر بس کے اڈے پہ جانے کے لیے ٹیکسی لی۔ اس کی اگلی منزل الٹونا، پینسلوینیا تھی۔ جہاں بلا آخر پولیس کی چار دن کی تگ و دو کے بعد وہ میکڈونلڈ کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ پکڑا گیا۔

پولیس نے جائے وقوع پہ یعنی برائن تھامس کے اطراف اس کو نشانہ بنانے والی گولیوں کے خول پہ کالے مارکر سے لکھے تین الفاظ دیکھے delay، deny، defer یعنی تاخیر، انکار، التوا۔ یہ وہ حکمت عملی ہے  جو انشورنس کمپنیاں مریضوں کو پیسے کی ادائیگی میں انکار یا تاخیر کی خاطر استعمال کرتی ہیں۔ ویسے اس عنوان کی کتاب جے۔ ایم۔ فینمین نے 2020ء میں لکھی ہے، جس میں میڈیکل بل کے ادائیگی سے انکار کرنے والی انشورنس کمپنیوں کی نا انصافی کو بے نقاب کیا گیا ہے اور صارفین اور قانون سازوں کو ان سے لڑنے کے لیے منصوبہ بیان کیا گیا ہے۔

چھبیس سالہ اس نوجوان کا نام لیوجی نیکولس مین گوئین ہے۔ جس کا تعلق امریکی ریاست میری لینڈ کے ایک متمول گھرانے سے ہے۔ اس کی ماں نے اٹھارہ نومبر کو اس کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔ کیونکہ وہ کافی دونوں سے خاندان اور دوستوں سے تعلق میں نہ تھا۔ یہ نوجوان نہ ذہنی مریض تھا نہ عادی مجرم تھا۔ بلکہ وہ کھلا ذہن رکھنے والا ذہین طالب علم تھا۔ جس کا تعلیمی کیریر شاندار تھا۔ 2016 ء میں اسکول کے بہترین نمائندہ طالب علم (valedictorian) کے طور اس نے اسکول کی گریجویشن تقریب میں تقریر کی، پھر یونیورسٹی آف پنسلوینیا سے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس کی ڈگری لی۔

اس کو سائنس، سیاست، ادب، کمپیوٹر سائنس، صحت، ورزش اور اسپورٹس سے گہری دلچسپی تھی۔ وہ اہم موضوعات نہ صرف کتابیں پڑھتا بلکہ ان پہ ریویوز بھی لکھتا۔ پچھلے ہی سال اس نے کتاب
Industrial society and its future
پہ اپنا ریویو واشنگٹن پوسٹ پہ بھیجا۔ وہ سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے والا لڑکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب پولیس نے اسے پکڑا تو اس کے پاس سے جعلی شناختی کارڈ اور گھوسٹ گن کے علاوہ 262 الفاظ پہ مبنی تین صفحات پہ مبنی ایک دستاویز بھی ملی جس میں اس نے اپنے عمل کو انفرادی قرار دیتے ہوئے معافی کے ساتھ کسی بھی جھگڑے یا صدمے کی کے لیے معذرت کی۔ اس نے نفرت سے ان ”طفیلی“ ہیلتھ انشورنس کمپنیوں اور کارپوریٹ لالچ کے لیے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے مہنگا صحت کی دیکھ بھال کا نظام ہے اور بڑی کارپوریشنوں کے منافع میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے جبکہ بلیٹن کے مطابق ”ہماری متوقع عمر“ میں اضافہ نہیں ہوتا۔

اتنے ذہین نوجوان کو آخر اپنے مستقبل کو داؤ پہ لگا کے انتہائی مجرمانہ قدم کیوں اٹھانا پڑا؟ جس کے بعد اس کو اب ساری عمر جیل میں رہنا پڑے گا۔ یقیناً وجہ اس کی میڈیکل صورتحال ہو سکتی ہے۔ وہ بچپن سے ریڑھ کی ہڈی کی بیماری spondylolisthesis میں مبتلا اور اس کے باعث کمر کے درد سے نبرد آزما تھا۔ پچھلے سال 2023ء میں اس کی سرجری ہوئی تھی۔ قریبی دوستوں کے مطابق وہ ہرگز ایک غصہ ور نہیں بلکہ بہت عمدہ شخص تھا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ وہ کچھ سالوں سے ناقابل برداشت درد میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لوگوں سے کم کم ہی ملتا تھا۔

اس کا کسی کو قتل کرنے کا عمل ناقابل معافی جرم سہی لیکن اس پہ تنقید سے پہلے ہمیں ایک نظر امریکہ کے ہیلتھ کیئر نظام پہ بھی ڈالنی ہوگی۔

امریکہ کا ہیلتھ کیئر سسٹم سالہا سال سے جمہوریت پسند خاص کر سوشلسٹ سوچ رکھنے والے سماجی ایکٹوسٹوں کی تنقید کی زد میں ہے۔ باوجود دنیا کے امیر ترین ملک ہونے کے امریکی حکومت نے عوامی سطح پہ ایک جامع طبی نظام کی تشکیل کو کبھی اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ لاکھوں افراد کے پاس سرے سے ہیلتھ انشورنس ہی نہیں ہے۔ میرے مشاہدے میں خود میرے بہت سے کلائنٹس ہیں کہ جنہوں نے سالوں سے نہ آنکھ کا معائنہ کروایا ہے اور نہ ہی دانتوں کا علاج جو بہت مہنگا ہے۔

ملک میں غربت اور امیری کا فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک فیصد کروڑ پتیوں نے لابنگ کر کے اپنے من پسند قوانین کو سپورٹ اور نافذ کیا ہے جو عام آدمی کی زندگی کی بہتری کے بجائے ان کو مزید دولتمند اور بارسوخ بناتا اور اس طبقاتی نظام اور دولت کے فرق کو بڑھاتا ہی جا رہا ہے۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے دونوں طبقوں کے مابین اوسطا عمر کی شرح میں دس سال کا فرق ہو چکا ہے۔ جو کے شرمناک ہے۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں امریکی شہری جن کے پاس انشورنس ہے وہ مشترکہ پیمنٹ اور کٹوتی کے نام پہ دوگنا خرچ کرتے ہیں۔

حکومت کھربوں ڈالرز عوام پہ خرچ کرنے کے بجائے دوسرے ممالک میں اپنے فوجی اڈوں اور اپنی طاقت قائم کرنے کے لیے امن کے نام پہ مجرمانہ جنگوں پہ ضائع کر رہی ہے۔ ادھر ہیلتھ کیئر کے نام پہ پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں نے کرپشن کا بازار مزید گرم کر دیا ہے۔ جس میں حسب توفیق کم و بیش سب ہی کمپنیاں منافع کی لالچ میں صارفین کا خون چوسنے میں مصروف ہیں۔

ویسے تو بہت سی ہیلتھ کیئر کمپنیاں ہیں لیکن ان میں سر فہرست نام یونائٹڈ ہیلتھ گروپ کا ہے۔ جو امریکہ کی سب سے بڑی انشورنس کمپنی ہے۔ دنیا بھر میں اس کے 440000 ملازمین ہیں۔ (2023ء) اس کی مارکیٹ مالیت 491 بلین امریکی ڈالرز ہے۔ اور یہ یونائٹڈ ہیلتھ کیئر کی پیرنٹ کمپنی ہے۔

جہاں یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کمپنی اپنے صارفین کے علاج کے اخراجات میں کنجوسی برت رہی ہے۔ وہاں وہ سی ای او برائن تھامسن کو سالانہ دس ملین ڈالرز ادا کرتی ہے۔ جبکہ دوسری مراعات اس سے علاوہ تھیں۔ اس کے پاس ایک شاندار مینشن ہے۔ تاہم اس کی بیوی کے بیان کے مطابق حال میں اس کے شوہر کو صارفین کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

ایک اطلاع کے مطابق اس کمپنی نے 32 فی صد یا تقریباً ایک تہائی مریضوں کے بلوں کی ادائیگی کو منع کر دیا۔ یہ لوگ جو باقاعدہ ماہانہ انشورنس کی رقم ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کو علاج کے لیے انشورنس کے لیے پری آتھرائزیشن کی ضرورت ہوتی ہے جو اگر منع ہو جائے تو وہ سخت غصہ اور تلخی اور بے بسی کا سبب بنتا ہے۔ اکثر مریض بغیر علاج کے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یا گھر بیچ کر سڑک پہ آ جاتے ہیں۔ اپنے ضروری بل دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی اس کمپنی کے صارفین کے ساتھ ہوا اور یہی وجہ ہے کمپنی کے خلاف مسلسل احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ کمپنی کو اس وقت ملک کے جسٹس ڈیپارٹمنٹ اور اس کے علاوہ بھی کئی محاذوں پہ مقدمات کا سامنا ہے۔ اور یہ صورتحال گمبھیر ہوتی جا رہی ہے۔

میرے مشاہدے کے مطابق کسی کی موت پہ ایک عام امریکی شہری خوشی نہیں مناتا۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ برائن کی موت پہ لوگوں نے خوشیاں منائی ہیں۔ جو انٹرنیٹ پہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ قتل یقیناً قابل ستائش نہیں ہے لیکن غریب عوام کی اکثریت کو ان کے علاج سے محروم کرنا اور اپنے منافع کے لیے بہت سے مریضوں کو موت کی جانب دھکیل دینا بھی دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ میرے خیال میں یہ قتل ایک زناٹے دار طمانچہ ہے کرپٹ امریکی ہیلتھ اور دوسرے نظاموں پہ جس میں ترمیمی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ہیلتھ انشورنس کمپنی کے سربراہ کا قتل: امریکہ کے کرپٹ ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے لمحہ فکریہ

  • 12/12/2024 at 11:36 صبح
    Permalink

    شکریہ تفصیلی آگاہی کے لئے

    • 12/12/2024 at 6:37 شام
      Permalink

      thanks a lot.

Comments are closed.