باشعور طبقہ اور الیکشن
آج کل کراچی بار ایسوسی ایشن کے الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ چار دن قبل ہائی کورٹ بار کے الیکشن منعقد ہوئے۔ الیکشن سے قبل اور اس دوران الیکشن امیدواران کا رویہ نہایت ہی قابل افسوس تھا۔ میں پوری ذمہ داری سے ان الفاظ کو تحریر کر رہی ہوں کہ ان الیکشنز نے یہ باور کرایا ہے کہ اب وکلاء جیسے باشعور ووٹر ہوں یا پھر ملک کے کسی گاؤں کے ان پڑھ ووٹرز ہوں، ملک میں ووٹ لینے کی ایک جیسی تکنیک اپنا لی گئی ہے۔ جو کہ ایک مہذب معاشرے کے لئے قابل افسوس، شرم و حیا کے منافی اور تہذیب و تمدن کے خلاف ہے۔
وکلاء نمائندوں نے اپنے ہی پیٹی بند ساتھیوں کو دور دراز کے ان پڑھ جاہلوں کی طرح ٹریٹ کیا (جو صرف ایک دن یا ایک وقت کا فائدہ دیکھتے ہیں ) ۔ ہر روز دعوتوں کا اہتمام کیا گیا، ہر دوسرے امیدوار اور گروپ نے (لاکھوں روپے کے ) ناشتہ، لنچ اور ڈنر پر بلا کر مستقبل کے وعدے کیے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ تمام کے تمام وکلاء نمائندے ایک ترقی پذیر معاشرے کے آمرانہ لیڈر نظر آئے، جو کہ کھلا پلا کر، اپنے ووٹرز کو سہانے سپنے دیکھا کر، زور خطابت اور ظاہری کردار کی بنیاد پر ان کے وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
دوسرا افسوس اپنے جیسے ووٹر بھائیوں پر آیا کہ اتنا پڑھ لکھ کر معاشرے کے سیانے طبقہ کا حصہ بن کر بھی گاؤں کے ایک مرید کی طرح الیکشن والے دن ایک پلیٹ بریانی سے ہار گئے۔ کسی نے گروپ نمائندے کے حکم کی تعمیل کی، تو کسی نے برس ہا برس کے تعلق کو نبھایا، تو کسی نے مالی یا دیگر مفاد کو پیش نظر رکھا، اگر کسی نے خیال نہیں کیا تو وہ بار کے مفادات کا تھا۔ کسی ووٹر نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ آخر اتنا خرچہ کیوں؟ کیوں کورٹ ایریا کے طول و عرض کے چپے چپے پر تعارفی قد آور بینرز لگائے گئے اور لاکھوں کارڈز تقیسم کیے گئے۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ آج کے دور میں جب کوئی ایک روپیہ کسی کو مفت نہیں دیتا تو یہ کروڑوں روپے خرچ کرنے والے کہیں کسی امید میں تو نہیں؟
کہیں ان کی نظر بار کے فلاح و بہبود کے فنڈ پر تو نہیں؟ کیا روپیہ خرچ کر کے آنے والے لوگوں ایماندار و دیانت دار ہیں؟ کیا مجھے بحیثیت ووٹر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے ان کو منتخب کرنا چاہیے؟
ہر شہر کی بار ایسوسی ایشن کا یہ امتیاز ہوتا ہے کہ وہ سیاسی، لسانی، مذہبی، فرقہ ورایت سے مبرا ہوتیں ہیں۔ ان کا ایک ہی نصب العین ہوتا ہے ”قانون کی حکمرانی/بالادستی کے لے عدلیہ کے ساتھ ہر کٹھن گھڑی میں کھڑے رہنا“ ۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بنچ اور بار کی باہمی طاقت ہی ملک میں آئین و قانون کی واحد محافظ ہے۔ یہ بارز ہی ہیں جو بنچ کو تلخ و مشکل فیصلوں کے لئے حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔ بار عدلیہ کے لئے حفاظتی حصار کا کام کرتی ہیں۔ اگر بارز کے نمائندے سیاسی اثر و رسوخ کے حامی/حامل، اقربا پروری کے دلدادہ، موروثیت کے نمائندے، لسانیت پرور، مذہبی تفریق یا فرقہ ورانہ عناصر سے روابط رکھنے والے ہوں۔ تو ایسی بارز ملک و قوم کے لئے زہر قاتل ہیں۔ ایسی بارز سے سوائے انتشار کے کوئی امید رکھنا عبث ہے۔ ایسی بارز آئین و قانون کی کسی پامالی میں اس نشئی مرید کا کردار ادا کرتی ہیں جو کہ اپنے چودھری صاحب کے ہر فیصلے پر ”صحیح سرکار، حکم سرکار، حاضر سرکار“ کا کردار ادا کرتی ہیں۔


