ایکسپو سنٹر میں انٹرنیشنل نمائش اور برسلز میں ڈھابہ


ایک خاتون میرے قریب آئی اور بولی السلام علیکم! انکل کیا حال ہیں آپ کے۔ وعلیکم السلام الحمدللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ انکل میں سارا کی امی ہوں آپ کب آئے ہیں اور کب تک یہاں ہیں؟ میں نے اُسے بتایا کہ میں اگلے ہفتے واپس پاکستان جا رہا ہوں تو وہ بولی ٹھیک ہے ہم اس ویک اینڈ پر اکٹھے مل کر کھانا کھانے کا پروگرام بناتے ہیں۔ میں اس وقت ضوحا کو لینے کے لیے اس کے سکول کے سامنے کھڑا تھا۔ سارا ضوحا کی کلاس فیلو ہے اور یہ فیملی بھی پاکستان سے تعلق رکھتی ہے بلکہ وہ خاتون سنٹرل انڈیا سے تعلق رکھتی ہے جب کہ اس کے میاں کراچی کے رہنے والے ہیں۔

ہفتے کے دن ہم لوگ اُن کے گھر کھانا کھانے کے لیے پیدل ہی گئے کیوں کہ اُن کا گھر قریب ہی ہے اُن لوگوں نے کھانے میں خاصا تکلف کیا ہوا تھا۔ یہ دونوں خاندانوں کی باقاعدہ طور پر پہلی ملاقات تھی۔ رات کافی دیر تک گپ شپ جاری رہی۔ اسی دوران خاتونِ خانہ نے بتایا کہ لکسمبرگ سٹی ایکسپو سنٹر میں ایک انٹرنیشنل نمائش لگی ہوئی ہے۔ جہاں دُنیا کے تمام ممالک نے اپنے اپنے سٹال لگائے ہوئے ہیں۔ وہاں پر دہی بھلے بھی ملتے ہیں گول گپے بھی ہیں۔ فروٹ چاٹ اور دوسری بہت سی کھانے پینے والی اشیا دستیاب ہیں۔ وہاں سے واپسی پر ہم لوگوں نے بھی اگلے دن ایکسپو سنٹر اور اس کے بعد بلجیئم کے دارالحکومت برسلز جانے کا پروگرام بنالیا۔

اگلے دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ ٹمپریچر بھی کافی کم یعنی منفی دو ڈگری سنٹی گریڈ تھا اور ہم لوگ تقریباً گیارہ بجے ایکسپو سنٹر میں تھے۔ ہم گھر سے بغیر ناشتے کے نکلے تھے۔ پروگرام یہیں پر ناشتہ کرنے کا تھا۔ یہاں پر دنیا بھر کے ممالک نے اپنے اپنے سٹال لگائے ہوئے تھے۔

پاکستان کے دو سٹال موجود تھے۔ ایک تو کھانے پینے کی چیزوں کا سٹال تھا وہاں پر دو خواتین کافی مستعدی سے مصروف نظر آ رہی تھیں جب کہ دوسرا سٹال دست کاری سے متعلقہ اشیاء کا تھا اور یہاں پر ابھی میزوں پر چادریں ہی بچھائی جا رہی تھیں۔ بلکہ ایک خاتون کپڑے کو بار بار سٹیپل کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

ہم نے پروگرام بنایا کہ پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے برادر اسلامی ملک کے سٹال سے کچھ لے کر کھاتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے لبنان کا سٹال پسند کیا۔ وہاں سے ہم نے جو ڈش خریدی وہ پراٹھا رول قسم کی کوئی ڈش تھی۔ جس کے اندر گوشت چھوٹی چھوٹی بوٹیوں کی صورت میں بھرا ہوا تھا۔

یہاں پر جگہ جگہ کھانا کھانے کے لیے میز اور کُرسیاں بھی لگائی گئی تھیں اور اُونچے اُونچے میز بھی اسی غرض کے لئے رکھے گئے تھے۔ ہم نے ایک میز کے ارد گرد کھڑے ہوئے یہ ڈش کھائی۔ اس کے بعد آمنہ نے ٹشو پیپر کی مدد سے میز کی صفائی کی۔ میز سے نیچے بھی کچھ ریزے سے گرے ہوئے تھے اس نے بلا جھجک زمین پر بیٹھ کر ان ریزوں کو بھی اکٹھا کر کے فرش کو اچھی طرح صاف کیا اور ان سب کو ٹشو پیپرز سمیت ڈسٹ بن کو ڈھونڈ کر اُن میں ڈال دیا۔

میرے لیے بہت حیرت کی بات تھی کہ بلامبالغہ یہاں ہزاروں لوگ کھا پی رہے تھے اور میں نے کوئی سوئپر صفائی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود مجال ہے کہ کہیں پر کوئی ریپر یا ٹشو پیپر یا کوئی اور اسی قسم کا کوڑا کرکٹ نظر آ رہا ہو۔ لوگ خود ہی صفائی کیے جا رہے تھے اور پورے ماحول کو صاف ستھرا رکھے ہوئے تھے۔

اس کے بعد ہم لوگ افغانی سٹال پر گئے اور وہاں سے افغانی پلاؤ خرید کر کھایا۔ اس نمائش میں جگہ جگہ کتابیں بھی فروخت کے لیے رکھی گئی تھیں لیکن کتابوں والے سٹالز پر بے رونقی ہی تھی۔ سب سے زیادہ رش کھانے پینے کے سٹالز پر تھا۔ ہم لوگ ڈیڑھ دو گھنٹے تک اس نمائش میں رکھی گئی چیزوں کو خریدے بغیر تانک جھانک کرتے رہے۔ اس کے بعد برسلز کو نکل لیے۔

برسلز بلجیئم کا دارالحکومت ہے۔ یورپی اتحاد کے کئی اداروں کے دفاتر بھی یہیں پر واقع ہیں۔ اس لیے اسے کبھی کبھار یورپ کا دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر یورپی کمیشن، یورپی اتحاد کی کونسل، یورپی پارلیمان، نیٹو اور مغربی یورپی اتحاد (WEU) کے صدر دفاتر بھی موجود ہیں۔

لسانی سرحد بلجیئم کو دو علاقوں میں تقسیم کرتی ہے۔ شمالی ولندیزی خطہ، اور جنوبی فرانسیسی خطہ، اسی طرح برسلز کا دارالحکومتی علاقہ بھی دو لسانی ہے۔ تاہم اکثریت فرانسیسی بولتی ہے۔ ان دونوں قومیتوں کے آپس میں تعلقات کی نوعیت بالکل اسی طرح کی ہے۔ جس طرح کی پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کی ہے۔ یا جس قسم کے جذبات افغانیوں کے پاکستانیوں کے بارے میں ہیں۔ ان کے آپس میں ہونے والے فٹ بال میچز بھی ایک جنگ کا روپ دھارے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس بات کو کسی بھی سطح پر ہائی لائٹ نہیں کیا جاتا۔

یہاں کی سب سے بلند عمارت ساؤتھ ٹاور 150 میٹر بلند ہے لیکن سب سے مشہور عمارت ایٹومیم (Atomium) ہے۔ جو 1956 ء کی عالمی نمائش کی یادگار ہے۔ لکسمبرگ سے برسلز تقریباً دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ ہم راستے میں ایک پٹرول پمپ پر رُکے یہاں پر کوئی ایک فرد بھی موجود نہیں تھا ہم نے مشین کو ادائیگی کر کے حسبِ منشا یہاں سے گاڑی میں تیل ڈالا۔ یہاں پر واش روم بھی موجود تھے۔ آج اتوار کی وجہ سے واش روم کی صفائی کے لیے کوئی ملازم موجود نہیں تھا۔ لیکن جب واش روم استعمال کرنے کے لیے اندر گئے تو ایسے لگتا تھا جیسے ابھی ابھی کوئی صاف کر کے باہر نکلا ہو۔ ظاہر ہے وہ وہی شخص ہو گا جس نے اسے ہم سے پہلے استعمال کیا ہو گا۔

یہاں ٹشو اور ہینڈ واشر بھی موجود تھے یہاں پر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری لگتا ہے شہریوں نے اپنے ذمے خود ہی لے لی ہے۔ ہم تقریباً دو گھنٹے کے بعد برسلز میں موجود تھے۔ درجہ حرارت منفی دو ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور کبھی کبھار بارش کی ایک آدھ بوند بھی گر رہی تھی۔ باقی لوگوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں اس موسم سے خوب لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ہم نے گاڑی پارک کی اور شہر کے مرکزی حصے سٹی سنٹر کی طرف بڑھ گئے۔

یہاں پر ایک بہت بڑی کھلی جگہ چھوڑ کر اس کے چاروں طرف بلند و بالا عمارات تعمیر کی گئی ہیں جہاں گراؤنڈ فلور پر چھوٹی چھوٹی دکانیں بالکل اسی طرح ہی تھیں جس طرح عموماً ہمارے ہاں بازاروں میں ہوتی ہیں اور ان کے اوپر کثیر المنزلہ عمارات رہائشی مقصد کے لیے تعمیر کی ہوئی تھیں اور چاروں طرف سے سات چھوٹی چھوٹی گلیاں درمیانی چوک میں داخل ہوتی تھیں۔ یہاں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا اس چوک کے درمیان یہاں پر استعمال ہونے والی پہلی موٹر کار بھی کھڑی تھی۔ بس یہی سمجھ لیں کہ تانگے کے آگے گھوڑے کی جگہ موٹر لگی ہوئی تھی۔ باقی ہو بہو شباہت تانگے والی ہی تھی۔

لوگ باگ بہت بڑی تعداد میں تصویریں بنا رہے تھے۔ یہاں پر موجود لوگوں کی اکثریت سیاحوں پر مشتمل تھی یہاں پر اور اس کے ارد گرد طرزِ تعمیر وہی روایتی شکل و شباہت لیے ہوئے تھا ہم لوگ بھی کافی دیر یہاں گھومتے پھرتے رہے اور تصویریں لیتے رہے۔ اس کے بعد یہاں پر ایک طرف بنے ہوئے سٹی ہال میں داخل ہو گئے۔ یہاں پر مین ہال تو سیاحوں کے لیے بند کیا ہوا تھا۔ غالباً وہاں پر پرائیویٹ لوگوں کا کوئی اپنا پروگرام چل رہا تھا۔ اس کے مخالف سمت میں ایک ہال موجود تھا۔ اس میں مختلف بادشاہوں کی تصاویر مع اُن کی بادشاہت کے دورانیے کے آویزاں کی ہوئی تھیں۔

چھتوں اور دیواروں پر مختلف ثقافتی مناظر کی تصاویر کے ذریعے وضاحت کی ہوئی تھی۔ ہم کافی دیر یہاں گھومتے پھرتے رہے۔ اس کے بعد باہر نکلے تو ساتھ ہی ایک گرجا گھر موجود تھا۔ اس کے دروازے پرایک نوٹس چسپاں تھا کہ زیادہ سیاحوں کے اندر آنے پر پابندی ہے۔ ہم تو صرف چار لوگ ہی تھے اس لیے روایتی ہم وطنوں کی طرح اندر جا گھسے اندر جگہ جگہ شمعیں روشن تھیں۔ چالیس پچاس کے قریب لوگ کرسیوں پر نہایت خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے او ر سامنے سٹیج پر دھیمی دھیمی آواز میں سوگوار سا میوزک چل رہا تھا۔ غالباً یہاں پر کسی کی فوتیدگی کی کوئی رسم ادا کی جا رہی تھی۔

عمیر نے باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور ہم ہال سے باہر آ گئے۔ ہم کافی دیر یہاں پر گھومتے پھرتے رہے۔ اس کے اردگرد گلیوں میں گھوم پھر کر دیکھا یہاں کی طرز معاشرت مجھے پرانے لاہور سے ملتی جلتی سی لگی فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں کی گلیاں لاہور کی نسبت تھوڑی سی کشادہ تھیں۔ باقی سارا ماحول ملتا جلتا ہی تھا گھومتے گھماتے سات بج چکے تھے۔ بھوک بھی خوب چمک اٹھی تھی۔ اب کھانے کی تلاش شروع ہوئی گوگل بی بی سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہاں قریب ہی دو جگہوں پر حلال کھانا دستیاب تھا۔ ایک تو تھا مٹھو کا ڈھابہ اور دوسری جگہ تھی شاہی تندوری۔

یہاں یورپ میں کھانے والی دکانیں کے لیے تندوری کا نام کثرت سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے شاہی تندوری پر گئے وہ چھوٹا سا ہوٹل تھا اور کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ویٹرس نے بتایا کہ جگہ نہیں ہے اور ابھی ایک گھنٹے تک کوئی جگہ خالی ہونے کی امید بھی نہیں ہے۔ مٹھو کے ڈھابے کو نام کی مناسبت سے ہم نے خود ہی مسترد کر دیا کہ اگر برسلز میں آ کر بھی ڈھابے سے ہی کھانا ہے تو پھر کیا فائدہ اور ہم نے نئی جگہ کی تلاش شروع کردی۔ کافی دیر کے بعد ہم تندوری ویلیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ نسبتاً کشادہ ہوٹل تھا اور تقریباً خالی ہی تھا۔

ایک فیملی کھانا کھا رہی تھی بلکہ وہ بھی کھا ہی چکی تھی ہم مینیو کا انتخاب کر رہے تھے کہ عمیر نے کہا کہ ایک تو دال ماش منگوا لیں تو آمنہ نے پاکستانی طرز فکر کی عکاسی کرتا ہوا جواب دیا کہ پندرہ یورو میں دال ضرور کھانی ہے۔ چکن قورمہ یا مٹن کڑاہی کھائیں گے۔ بہرحال ہم نے بار بی کیو مٹن قورمہ اور چکن کڑاہی خالص پاکستانی کھانوں کا آرڈر دیا۔

یہ ہوٹل ایک پورا خاندان ہی مل جل کر چلا رہا تھا۔ دو بھائی ایک بہن اور ماں باپ پر مشتمل سب لوگ ہی مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ آرڈر آنے میں تھوڑی دیر لگ گئی اب ہوٹل میں گاہک آنا شروع ہو چکے تھے اور جب ہم کھانا کھا کر اُٹھے تو نہ صرف یہ کہ پورا ہوٹل بھر چکا تھا بلکہ کچھ لوگ سیٹیں خالی ہونے کے انتظار میں بھی کھڑے تھے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے کے سارے لوگ ہی یورپین تھے۔

پاکستانی ہمارے علاوہ ایک بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا میں نے عمیر کی توجہ اس طرف دلائی تو اس نے بتایا کہ بعض گورے بھی پاکستانی کھانوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے ایسے ہوٹلوں میں عموماً نمک مرچ کم رکھا جاتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم نے اپنی گاڑی تلاش کی اور اس میں بیٹھ کر واپسی کی راہ لی۔

Facebook Comments HS