سولہ دسمبر: ریاست کہاں کھڑی ہے
”اگر میری مادری زبان تمہاری ریاست کی بنیادوں کو ہلا گئی ہے تو اس سے مراد ہے کہ تم نے اپنی ریاست میری زمین پر تشکیل دی ہے“
موسی اینتر جب یہ بات کر رہا تھا۔ تو یقیناً اسے معلوم ہو چکا ہو گا۔ کہ موسی نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے۔ جو سیاق و سباق میں رکھی جائے یا مضمون کے بغیر پڑھی جائے مطلب ہر طرح سے واضح ہے۔
موسی کو سمجھ تھی کہ اس کی یہ بات آنے والے صدیوں میں مختلف استعماروں کے خلاف بلند ہونے والے صداؤں میں ایک اہم صدا ہوگی۔ موسی کو موت کے گھاٹ اس لیے اتارا گیا کہ اس کی زبان سے ترکی کی بنیادیں ہل گئی تھی کیونکہ ترکی کردوں کی زمین پر بنا ہے۔
ایک زبان سے دوسرے زبان میں جب بھی کوئی تحریر ترجمہ کی جاتی ہے۔
تب ادیب الزام لگاتے ہیں۔
کہتے ہیں۔ بات پہنچ گئی۔ مگر اپنی حدت سے نہیں۔ موسی کی بات کو ترجمہ کریں۔ کردی میں کہی گئی بات انگریزی میں کچھ زیادہ حرارت سے سمجھی جاتی ہے۔
اردو میں پڑھیں تو لگتا ہے جیسے فیض یا جالب نثر لکھنے بیٹھ گئے ہیں اور اب استعمار کے خلاف شعر نہیں۔ مضمون کہیں گے۔
زبان کی خوبصورتی ترجمے میں کشید نہیں ہو سکتی۔
ٹھیک ہے۔
صحیح کہا آپ نے۔
میں متفق۔
مگر موسی نے تو بات ہی ایسی کہہ دی ہے۔ کہ ترجمے سے خوبصورتی بڑھتی ہے۔ کم ہرگز نہیں ہوتی۔
موسی نے یہ بات بہت بعد میں کہی۔ مگر ڈھاکہ میں طلبہ نے وقت سے پہلے سنی تھی۔ انہیں احساس بھی ہو گیا۔ 21 فروری کو سڑکوں پر نکلے طلبہ جن کے ہاتھوں میں بنگالی زبان میں لکھے پلے کارڈز تھے۔
انہوں نے کہا، ہماری زبان مان لو۔
آپ کی ریاست کی بنیادیں ہلنے لگی۔
معلوم ہوا۔
آپ اپنے نہیں ہو۔
آپ استعمار ہو۔
طلبہ پر گولیاں برسائی گئی۔
خاموشی سے لاش اٹھائے گئے۔
22 اور 23 فروری کو بھی طلبہ کا احتجاج جاری رہا۔ شہر کے شہر طلباء کے کہنے پر خاموش ہوئے۔ ان شہزادوں کی خاطر پورا بنگال اگلے چند دنوں خاموش رہا۔
صرف شہزادے بولتے تھے۔
مگر ایک عام بنگالی کو اس خاموشی میں کچھ حقیقتوں کا ادراک ہو چلا تھا۔
کہ آپ اپنے نہیں۔
اب اس خاموشی کو ترجمہ کیجئے۔ بالکل موسی کے قول کی طرح ہے۔ جس جس زبان میں پیش کی جائے گی حدت بڑھتی چلی جائے گی۔
21 فروری 1952 سے 16 دسمبر 1971 کے درمیان 20 سال کا عرصہ ہے۔ ریاست نے بنگالیوں کو جوانوں کی لاشیں تھما دیں۔ خاموشی سے اٹھا لیں۔ اگلے 20 سالوں میں یہ خاموشی بہت تیزی سے گونجنے لگی۔
اخر کار 16 دسمبر کو متحدہ پاکستان کے ٹکڑوں کو تابوت میں بند کر کے راولپنڈی کی جانب رواں کیا گیا۔
ساتھ دو قومی نظریے کے جنازے کا بھی اعلان کیا گیا۔
یہ خاموشی اس بنگالی افسر کے دماغ میں کتنی تیزی سے گونجی ہوگی۔ جب اس نے اپنے ساتھی افسروں کو اپنے جان سے پیارے وطن کی نسبت گالیاں نکالتے سنا۔ یہ اس گولی کی آواز سے پتہ نہیں لگایا جا سکتا جو اس نے اپنی بھیجے میں اتاری تھی۔
یہ خاموشی بھٹو صاحب کو جواب میں دیے گئے اس خاموشی سے بھی بڑھ کر ہے جب بھٹو صاحب نے کہا، ”ہم اب بھی ایک کنفیڈریشن میں رہ سکتے ہیں“
اس خاموشی کو اگر واقعی محسوس کرنا ہو تو انتخابات کے دن بلوچستان کے کسی گاؤں میں چلے جائے۔ احساس ہو جائے گی۔
اگر زیادہ اشتیاق ہو۔ تو ولی خان کی چار جلدوں پر مشتمل سوانح عمری پڑھے۔ تاجو بی بی کی موت کی خبر جیل میں ایک ہفتے بعد پہنچتی ہے۔ ولی خان خود اس خاموشی کا ذکر کرتے ہیں۔
ان کتابوں میں ایک جگہ سوات کے ایک خدائی خدمتگار کا ذکر ہے۔ ان کو ہاتھ میں ایک پرچی تھما دی گئی۔
عدالت میں کہو۔ کہ ولی خان نے مجھے بم دیا تھا۔ آگے سے جواب آیا۔ میں نے آج تک ولی خان کو دیکھا تک نہیں۔ پھر اتنا بڑا الزام کیسے لگاؤں۔
سزا کے طور پر بیوی اور بیٹی کو سامنے لا کھڑا کیا۔ پولیس افسر نے کہا۔ مان لو وگرنہ انجام برا ہو گا۔ پہلے بیوی کو دوسرے کمرے لے گئے۔ پولیس افسر کچھ وقت بعد آیا۔ شلوار زیب تن نہ تھا۔ مان رہے ہو کہ نہیں۔ میں بتا رہا ہوں میں نے آج تک ولی خان کو دیکھا تک نہیں۔ پھر اتنا بڑا الزام کیسے لگاؤں۔ پولیس آفیسر بیٹی کو بھی دوسرے کمرے لے گیا۔
ایک اور جگہ خدائی خدمتگار عبدالغفار خان کا اپنی خودکشی سے پہلے کا ایک خط ہے۔ باچا خان کو لکھتے ہیں۔
” بابا مسلم لیگی میرے بیٹیوں پر آوازیں کستے ہیں میں جواب میں تشدد تو نہیں کر سکتا۔ آپ سے وعدہ کیا تھا۔ مگر ان کا یہ رویہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مجھے معاف کردو۔“
اس خط کو پڑھیے۔ ساتھ خاموش احتجاج کو پڑھے۔
جیل میں عطاءاللہ مینگل صاحب کو اسد اللہ مینگل کے لاپتہ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ ضیاء الحق جب مینگل صاحب سے کہتے ہیں۔ اسد اب زندہ نہیں ہے۔
چہرے کے تاثرات پڑھنا چھوڑیے۔ اس ایک جملے میں اس خاموشی کو احساس کریں۔ جب مینگل صاحب سے تعزیت کرنے کے لئے دوسرے مقید دوست ملنے آئے۔ ان سے کہا۔
اسد میرا بیٹا تھا۔ باقی بلوچ نوجوان جس طرح مرتے ہیں۔ میرے بیٹے کا مقدر اس سے مختلف نہیں۔
باچا خان جیل میں تھے۔ ان کی والدہ انتقال ہونے سے پہلے بیٹے کی صورت دیکھنا چاہتی تھی۔ نصیب نہ ہوا۔ مہینوں بعد جب بابا جیل سے آئے۔ گھر میں چھائی خاموشی سے کوفت ہونے لگی۔
دوبارہ دوروں پر نکل گئے۔ مدرسے تعمیر کی۔ خاموشی سے کام کرتے رہے۔ استعمار کا بوریا بستر گول کروایا۔
مذکورہ خاموشیوں نے استعمار کی بنیادی ہلائی ہی نہیں۔ ان کی بنیادی اڑا گئی تھی۔ استعمار ہمیشہ سمجھتی ہے۔ کہ خاموش کرانے سے بات ختم ہو جائے گی۔ مگر قوموں کے تواریخ پڑھے۔ ہر جگہ خاموشی جب چھا جاتی ہے۔ تو استعمار کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتی ہے۔
3 مارچ 1971 کو رمنا کورس میں شیخ مجیب نے تقریر کی۔ کہا
”آج میں بھاری دل کے ساتھ آپ کے سامنے حاضر ہوں۔ آپ سب جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ کہ ہم نے اپنی جان سے بڑھ کر کوشش کی۔ لیکن کتنی تکلیف دہ بات ہے۔ کہ آج ڈھاکہ، چٹو گرام، کھلنا راجشاہی اور رنگ پور میں سڑکیں ہمارے بھائیوں کے خون سے رنگی ہوئی ہے۔
آج بنگال کے لوگ آزادی چاہتے ہیں۔
بنگال کے لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
بنگال کے لوگ اپنے حقوق چاہتے ہیں۔
ہم نے کیا غلط کیا ”
نیچے 10 لاکھ سے زائد کا مجمع خاموش کھڑا تھا۔ اس خاموشی میں مشرقی پاکستان اپنی آخری سانس لے رہا تھا۔ دنیا کے افق پر بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی ریاست کی عروج ہو رہی تھی۔
اب کی بار راولپنڈی سرکار خاموش تھی۔
اسمبلی میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے پر بحث ہو رہی تھی۔ خیر بخش مری نے کہا۔
ہمیں نہیں بھولنا چاہیے انہوں نے بنگالیوں کے ساتھ کیا کیا۔
مگر پھر بھی نیپ اسمبلی میں بیٹھ گئی۔ آئین بنا تو راولپنڈی سرکار بمعہ ہمکاران کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ بلوچستان پر یلغار کی گَئ۔ خیر بخش نے بجا کہا تھا۔
ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ انہوں نے بنگالیوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا۔
خیر بخش افغانستان چلے گئے۔ مطالعاتی نشستوں کا آغاز کیا۔ دہائی بعد وطن بلوچستان آئے۔ مطالعاتی نشستوں کا سلسلہ نہ ٹوٹا۔ بتاتے تھے۔
”جلسوں کے اثرات کچھ لمحات کے لیے ہوتے ہیں تقاریر میں جذبات کا دخل ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بیٹھا کرو۔ مباحثے کرتے رہو اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں“
ان مباحثوں کی خاموشیوں میں نئی نسل کے خیر بخشوں، مینگلوں اور کریمہ بلوچوں کی تربیت ہو گئی۔
بزنجو صاحب کو بابائے بلوچستان کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے اپنی نسل کی سیاسی پرورش کی۔ پھر انہیں ساتھ لے کر اسلام آباد کے ایوانوں میں مکالمے کرتے تھے۔ بحث و مباحثے پر یقین رکھتے تھے۔ ہر بات کا حل سیاست میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر جن لوگوں نے سردار نوروز خان کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ بزنجو صاحب کو کیوں اپنے شاگردوں کے سامنے بے وقعت نہ کرتے۔
خیر بخش نے بجا کہا تھا
ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ انہوں نے بنگالیوں کے ساتھ کیا کیا۔
بزنجو صاحب اب بھی غلط نہ تھے۔ بات اب بھی ہو سکتی تھی۔ مکالمے پر یقین رکھنے والے اب بھی موجود تھے۔
مگر بلوچ نوجوان بات کرتے کرتے اب تھک چکے تھے۔
نئی نسل اب بزنجو صاحب سے زیادہ وقت بزنجو صاحب کے ایک شاگرد خیر بخش مری کے ساتھ گزارنے لگے تھے۔ قوم کو منزل کی طرف گامزن دونوں نے کیا تھا۔
بزنجو کے دلائل مری کے دلیلوں سے ہرگز کم نہ تھے۔
مگر بات یقین کی تھی۔ بلوچ نوجوان نے سردار نوروز خان کے بارے میں پڑھا تھا۔ بزنجو صاحب کے ساتھ وعدہ خلافیوں کو خود دیکھا۔
ان حالات میں واحد حل مری نے دیا۔
جب بات کرنے کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ تبھی لوگ دوسرے راستوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ انہی راہوں میں شاکر اللہ ماما، ملک اسرار، بسم اللہ کاکڑ، اعظم خان ہوتی، یاسر عرفات، لیلیٰ خالد اور ہدایت اللہٰ خان پائے جاتے ہیں۔
چند سردیاں پہلے اسلام آباد کے ایک سٹیج سے مشر اسفندیار ولی خان نے ایک معنی خیز جملہ کہا تھا۔
” ان نوجوانوں کو سنا جائے۔ یہ اپ کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ ڈریں اس وقت سے جب کوئی اپ سے بات کرنا بھی نہ چاہے گا“
اس جملے کو ترجمہ کریں، حدت برابر ترجمہ ہوتی رہے گی۔
اخر میں بس ایک بات 16 دسمبر سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ مگر ریاست پاکستان کے اشرافیہ نے کچھ نہ سیکھا۔ ریاست پاکستان آج بھی اسی جگہ کھڑی ہے۔ جہاں 21فروری کو کھڑی تھی۔ جہاں 16 دسمبر کو کھڑی تھی۔


great work brother keep it up ❤️❤️❤️❤️ looking forward to read many more
Are you same "Soban Gul” settled sometimes in Delhi and worked in Bangalore as well