سائنسی حافظ


ہمارے معاشرے میں لاکھوں کی تعداد میں حافظ صاحبان موجود ہیں۔ لیکن جن حافظوں کی بات میں کرنا چاہ رہا ہوں یہ وہ والے نہیں جو کہ عمومی طور پہ حافظ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ میں ہمارے گلی محلوں میں موجود ان لاکھوں حافظوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو کہ سائنسی حافظ ہیں۔

یہ بات پڑھنے اور سننے میں عجیب لگے گی کہ بھلا سائنس نے حافظ پیدا کرنے کب سے شروع کیے ہیں؟ یہ سوال پوچھنے میں آپ حق بجانب ہیں اور ان سائنسی حافظوں کی پیداوار میں سائنس کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ ہمارے موجودہ معاشرتی نظام اور سوچ کی پیداوار ہیں۔ یہ اس سوچ کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں اور پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ ہم نے کبھی بھی غیر جانبداری اور کھلے ذہن کے ساتھ اپنی پوری عقل کو استعمال نہیں کرنا ہے بلکہ جب بھی ایسا کرنے کی کوشش کرنی ہے تو پہلے سے کچھ حدود اور دائروں کے اندر رہ کر کرنی ہے۔ ان دائروں کے اندر بھی اگر کوئی ذرا سا بھی تصادم سائنس کے ساتھ ہوا تو ہم نے دائرہ کو اور یہ کہہ کر تنگ کر دینا ہے کہ سائنس کوئی حتمی سچائی تھوڑی ہے۔ ان سب حافظوں کے نزدیک سائنس کچھ قوانین/نظریات زبانی یاد کر کے دوبارہ لکھنے یا کچھ مساواتوں (equations) کو یاد کر کے انہیں دوبارہ سے اپلائی کرنے کا نام ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تو فلاسفی آف سائنس سے مکمل طور پر ناواقف ہوں گے یا پھر اس کے اس بنیادی اصول کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے کہ سائنس ہر چیز کی تجرباتی بنیادوں پر تصدیق کا نام ہے۔

ان سائنسی حافظوں میں آپ کو کچھ ایسے بھی ملیں گے جنہوں نے کسی سائنسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہو گی، اکثریت نے ایم ایس یا ایم فل تک کی کسی سائنسی مضمون کی تعلیم حاصل کی ہوئی گی، کچھ انجینئرز، میڈیکل ڈاکٹرز بھی ہوں گے اور جو چیز ان سب میں مشترک ہو گی وہ یہ کہ یہ سب ہی سائنس کو صرف روزی روٹی کمانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہوں گے نہ کہ زندگی گزارنے اور سوچنے کا ایک نظریہ۔ ان میں سے کچھ آج ایک دن میں لاکھوں لوگوں کے ہوائی جہاز سے سفر کرنے کو تو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے لیکن آج سے چار پانچ صدیوں پہلے کسی بابے کی روحانی فضائی پرواز کا من گھڑت قصہ سن کر اسے نہ صرف ایک معجزہ یا کرامت سمجھ کر اس پر دل و جان سے یقین کرتے ہیں بلکہ اس پر ذرا سا بھی شک کرنے والے کو گستاخ قرار دیتے ہیں۔ ان سب حافظوں کی نظر میں کسی سائنسی تھیوری کی کوئی اہمیت نہیں کیوں کہ وہ ابھی تک صرف تھیوری ہے، لاء (قانون) نہیں بنی اور تمام سائنسی حقائق کی دریافت پہلے سے موجود مذہبی کتابوں میں کر دی گئی تھی بس سائنس ان تک اتنی زیادہ تحقیق کے بعد ابھی پہنچی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں ان سب سائنسی حافظوں کو ہی سائنس کا اصلی نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور تقریباً سب تعلیمی اداروں (پرائمری سکول سے لے کر یونیورسٹیوں تک) میں یہی سائنس کو پڑھا بھی رہے ہوتے ہیں جس سے ہمارے ملک میں اب ہر گھر میں دو تین ایسے حافظ صاحبان/ صاحبات بن چکے ہیں۔ ان سب حافظوں کی موجودگی کی وجہ سے ہی ہم سائنسی میدان میں دن بدن تنزلی کی طرف جا رہے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جس کا دور دور تک منطق (لاجک) سے کوئی لینا دینا باقی نہیں رہا۔ ابھی اپنی موجودہ حالت زار سے نکلنے کے لئے بطور معاشرہ ہمیں کبھی نہ کبھی سائنسی حافظوں کے بجائے سائنسی عالموں کی طرف جانا ہو گا جن کے لئے سائنس صرف ایک پیشہ نہ ہو بلکہ سوچنے کا اور زندگی گزارنے کا ایک نظریہ ہو۔

Facebook Comments HS