ففتھ وار جنریشن اور پاکستان


جس بدلتی دنیا میں ہم رہ رہے ہیں۔ اس میں تمام ممالک کے معاشروں کی اقدار، ان میں تبدیلیاں یا ہونے والی متوقع تبدیلیاں، ان کے اپنے اپنے مفادات اور اس کے گرد گھومتی ان کی پالیسیاں، حکمت عملیاں، عسکری طاقت اور دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے اپنا وزن رکھتے ہوئے نہایت زیرک طور ہر قدم پھونک پھونک کر چلنا پڑتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے زندگی سکڑتی جا رہی ہے۔ دنیا ایک گلوبل ولیج کا روپ دھارے نئے چیلنجز کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہاں جینے کا حق صرف انہیں ملتا ہے جو بدلتے زمانے کے ساتھ محنت و لگن سے اپنی ترقی و معاشرتی تبدیلیوں کو ہم آہنگ کریں اور چیلنجوں سے اتفاق و اتحاد کے ساتھ نبرد آزما ہوں۔

کرہ ارض پر بدلتی رتوں میں کسی بھی ملک کی عسکری قوت کا ہونا، اس کے معاشرے میں یکجہتی اور سب حالات میں یکسوئی کے ساتھ اپنے مفاد کا تحفظ اور ترقی کی منازل طے کرنا اس کی حکمت عملی پر منحصر ہوتا ہے۔ آج کے دور میں ففتھ جنریشن وارفیئر اب انتہائی اہم روپ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ترقی یافتہ وارفیئر کا نظریہ سب سے پہلے 1989 ء میں امریکی عسکری دانشوروں ولیم لنڈ نے، کرنل کیتھ نائٹنگ گیل، کرنل جوزف ڈبلیو سٹن، لیفٹیننٹ کرنل گیری آئی واشنگٹن اور کیپٹن جان ایف شمٹ نے مشترکہ طور پیش کیا۔ تاہم 2003 ء میں رابرٹ ڈیوڈ سٹیل نے ففتھ جنریشن وارفئیر کے بارے میں آگاہ کیا کہ اب اس کا دور ہوا چاہتا ہے۔ جس کے تحت انسانی دماغ اب جنگ کا میدان بن رہا ہے جس نے اسے مسخر کر لیا وہ ہی وقت کا بادشاہ ٹھہرا۔ اس کے تحت یہ جاننا کافی نہیں کہ انسان کیا سوچتے ہیں اور کیسے عمل کرتے ہیں بلکہ اس کے تحت معاشرے میں دراڑ ڈالنا، اس کی شکست و ریخت کرنا اور اسے اس مقام تک پہنچا دینا جہاں ان میں اتفاق و اتحاد نام کی کوئی شے باقی نہ رہے اور جب ان پر حملہ کیا جائے تو اب وہ کسی مدافعت کے قابل نہ رہیں۔ اس جنگی حکمت عملی میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہے جو انسانی ذہنوں کو مسخر کرنے کے کام آتا ہے۔

جنریشن وارفئیر، ہائبرڈ وارفیئر اور گرے زون کنفلکٹ (تنازعہ) کی تھیوریاں اب ہر ملک کی پالیسیاں بنتی جا رہی ہیں۔ ان تینوں حکمت عملیوں کے مخالف دانشوروں کے مطابق تینوں حکمت عملیوں میں مماثلت تلاش کرنا غیر دانشمندی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وارفیئر کی حکمت عملیوں میں کافی تبدیلیاں آ گئیں ہیں جس کے مطابق کنوینشنل ہتھیاروں سے مسلح ہو کر دشمن پرکاری ضرب لگاتے ہوئے انہیں زخمی کرنا یا موت کے گھاٹ اتارنے سے تبدیل ہو کر دشمن ملک کے عوام میں گمراہ کن پراپیگنڈا کر کے انہیں ذہنی طور مفلوج کرنا، انتشار پھیلانا، جھوٹی و من گھڑت خبریں پھیلانا، عوام کو آپس میں لڑانا اور انہیں اتنا کمزور کر دینا کہ باوجود اس کے ان کے پاس ہر شے ہوتے ہوئے وہ ذہنی شکست و پسپائی اختیار کر لیں۔ اور پھر ان کی عسکری قوت بھی ان کے کسی کام نہ آئے۔ اسی کے ساتھ ان میں گرے زون کنفلکٹ کے تحت تنازعات کو کھڑا کرنا، ابھارنا اور ہوا دینا تا کہ ملکی افواج و دوسرے ادارے مسلسل اس سے لڑتے ہوئے تھک جائیں۔ دوسری طرف عوام بھی ان سب اداروں سے متنفر ہو جائیں تا کہ ان کا کام آسان ہو جائے اور وہ بغیر کسی جانی نقصان کے اس ملک پر قبضہ حاصل کر لیں۔

ہائبرڈ وارفیئر کا ماسٹر مائنڈ ہوف مین تھا۔ اس نظریہ کے مطابق ہر طرح کا حربہ یکے بعد دیگرے جنگ میں زیر استعمال لانا چاہیے۔ جس میں دہشتگردی، اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی کا استعمال، اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار، سائبر وارفیئر کے تحت مالیاتی اہداف پر حملے شامل ہوتے ہیں۔ اس میں خفیہ و ظاہری دونوں طریقہ کار کے علاوہ عسکری قوت کی شمولیت بھی شامل ہوتی ہے۔ اس سے آگے بڑھتے ہوئے عسکری دانشوروں نے 2015 ء میں ہائبرڈ وارفیئر کی بجائے گرے زون ایریا کا نظریہ پیش کیا۔ جس کے تحت کسی ملک کو نہ تو مکمل طور پر حالت جنگ میں رکھا جائے اور نہ ہی اسے پر امن رہنے دیا جائے۔ یہ نظریہ سردجنگ کے دوران دونوں سپر پاورز کی جغرافیائی حدود کی بالادستی پر مشتمل تھا۔ جس میں چار بنیادی خصوصیات تھیں۔ سب سے پہلے اپنے سیاسی اہداف کو منظم طور پر حاصل کرنا، دوسرا غیر عسکری قوت و غیر حرکی ہتھیاروں کا استعمال، تیسرا عسکری تنازعہ کو جلد ختم کرنا اور چوتھا آہستگی و بڑے ٹیکٹکس کے استعمال سے اپنے اہداف کو حاصل کرنا۔

ہائبرڈ وارفیئر اور گرے زون کنفلکٹ کے نظریات کو سمجھتے ہوئے اب آتے ہیں ففتھ جنریشن وارفیئر کی طرف۔ اس نظریہ کے تحت ایسی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے جس میں اپنے شکار معاشرے کو ایسے گرفت میں لیا جاتا ہے کہ وہ اسے بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور اس نظریے کا باآسانی شکار ہو جاتے ہیں۔ اس نظریہ میں پبلک کا شعور، آئیڈیالوجی اور ایسا بیانیہ بنایا جاتا ہے جس کے جال میں عوام غیر دانستہ طور پر پھنستے چلے جاتے ہیں۔ اس نظریہ کی شناخت انتہائی مشکل کام ہے اس میں انجان نیٹ ورک جس میں انفرادی و چھوٹے گروپس، ملکی اداروں و سلامتی پر ہر طرف سے حملہ آور ہوتے ہیں۔

ان نظریات کو سمجھنے کے بعد اب ہم ففتھ جنریشن وارفیئر اور پاکستان کے حالات کو لیتے ہیں۔ اس وارفیئر میں نوجوان نسل کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جس کے تحت اس ملک کی سیکورٹی اور مالیاتی حالات، علاقائی تعصب، مذہبی فرقہ واریت، جھوٹی خبروں کا پھیلانا، اقلیتوں پر حملے جیسے ممکنات اب حقیقت کا روپ دھارتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے مخالفین اس وقت منظم طور پر اس ملک کی سالمیت کے خلاف یکجا ہو کر ان تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ نبرد آزما ہو چکے ہیں۔ اور معاشرے میں افراتفری و انتشار کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اب میڈیا اور سوشل میڈیا کی تمام اپلیکیشنز مثلاً فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ کو منظم طور پر زیر استعمال لاتے ہوئے ملکی سلامتی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان، کرم ایجنسی میں علاقائی و مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کبھی مختلف ریجنز میں آگ بھڑکا دی جاتی ہے۔ جھوٹی خبروں کا بازار تو ہر روز گرم ہوتا ہے۔ اس سے عوام میں اعتماد کا فقدان پیدا ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔

اب وقت ہے ہمارے ادارے اس ففتھ جنریشن وارفیئر کے خلاف منظم طور پر مخالفانہ بیانیہ و حکمت عملی کے تحت ان پر کھل کر وار کریں اور سبق سکھائیں۔ ہم نے اتفاق و اتحاد کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی حاصل کی۔ اب بھی ہم ایک قوم ہو کر ان حالات کے خلاف ڈٹ جائیں تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ معاشرتی ناہمواری کی طرف از حد توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ہماری تمام اقلیتیں دستور پاکستان کے مطابق اپنا حق رکھتی ہیں جہاں ان سے نا انصافی ہو رہی ہے وہاں اس کا تدارک لازم اور وقت کی ضرورت ہے۔ خدارا وقت کی نزاکت اور دشمن کی حکمت عملیوں کو سمجھیں اور اس پر توجہ دیں۔ کہیں دیر نہ ہو جائے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ یہ ہی ہماری شناخت ہے۔