غزوہِ ہند اور اکھنڈ بھارت کے خیالی خواب

انڈیا اور پاکستان میں پچھلے دو مہینوں سے چلنے والے فتح کے جشن اب چونکہ آہستہ آہستہ ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں اس لئے یہ بہترین وقت ہے کہ جذبات سے دور رہ کر اس اٹھہتر سالہ دشمنی اور ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی شدید خواہش کا عقلی اور منطقی جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کیا حقیقت کی دنیا میں ایسا ممکن ہے بھی یا نہیں؟ یا پھر صرف اتنا کہ کیا

Read more

آخری کوشش

دیکھو میں مر رہا ہوں۔ ان سب زخموں کی تڑپ سے مجھے نجات ملنے والی ہے۔ مجھے ان زخموں کی کوئی تکلیف نہیں جو مجھے اس حادثہ میں لگے ہیں اور جن کی وجہ سے میں لہو لہان ہوں۔ یہ زخم مجھے ان بڑے زخموں یعنی میری روح پر لگنے والے زخموں کی نہ مٹنے والی تکلیف سے آزاد کرانے جا رہے ہیں۔ میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں ہر نئے موڑ پر پہلے سے زیادہ بھیانک اور دردناک

Read more

تیسری جماعت کی اردو اور اشرافیہ کا پروپیگنڈا

اکیسویں صدی میں اگر کوئی قوم اپنے بچوں کی ذہن سازی خوابوں کی تعبیر اور اسی طرح کے دوسرے توہمات سے کر رہی ہو تو اس کے مستقبل کو پتھر کا دور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جہاں دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم کو ہر ممکن حد تک جدیدیت، سائنسی اپروچ، آنے والے زمانے کی ملازمتوں کی تیاری، اور مصنوعی ذہانت کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے وہیں ہماری اشرافیہ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ

Read more

پالتو جانوروں اور فصلوں کی مختصر تاریخ

انسانی زندگی میں استعمال ہونے والے بے شمار پالتو جانور اور فصلیں ہمیشہ سے انسانی تاریخ میں ان کا حصہ نہیں تھیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں نے مختلف مرحلوں میں انہیں اپنایا۔ اس سب کی ابتدا آج سے گیارہ ہزار سال پہلے اس وقت ہوئی جب انسانوں نے Fertile Cresent (موجودہ ترکی، شام، فلسطین، اسرائیل وغیرہ کے علاقے ) میں سارا سال شکار کی تلاش میں اپنی جگہ بدلتے رہنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے گاؤں میں مستقل رہنا

Read more

موت کی مارکیٹنگ

آج کل صبح آنکھ کھلتے ہی ہم میں سے اکثر انسانوں کی جس چیز پر پہلے نظر پڑتی ہے وہ اپنے جاننے والے لوگوں کی سوشل میڈیا سٹوریز یا پوسٹس ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر موت کی سختی، قبر کے عذاب، جہنم کی آگ اور مرنے کے فوراً بعد لوگ کتنا جلدی آپ کو بھلا دیں گے وغیرہ، وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔ یہ سب صبح سویرے پڑھنے کے بعد بھلا کوئی کیسے اس زندگی میں اپنی پوری صلاحیتوں اور

Read more

اسلامک ٹچ

ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہمارے ایک سیاستدان نے دوسرے سیاستدان کے کان میں یہ تاریخی مشورہ دیا تھا ”خان صاحب تھوڑا اسلامک ٹچ بھی دے دیں“ ۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ اپنے اندر ہماری ساری قومی منافقت، دھوکہ بازی، اور کھوکھلی جذباتیت کو سموئے ہوئے ہے۔ یہ الفاظ اپنے اندر ان پچھلی آٹھ دہائیوں کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہیں جن میں اس ملک کے رہنے والوں کو منظم طریقے سے اس پست ذہنی معیار تک پہنچا دیا

Read more

کیا سب باپ، اصلی باپ ہیں؟

انیسویں صدی کے مشہور روسی مصنف فیودور دوستوفسکی (Fyodor Dostoyevsky) اپنے سب سے بڑے ناول دی برادرز کراموزوز (The Brothers Karamazovs) میں یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ ہر بیٹے کو اپنے باپ کے سامنے بیٹھ کر یہ سوالات ضرور پوچھنے چاہیے کہ میں آپ سے پیار کیوں کروں؟ ثابت کریں کہ مجھے آپ سے ہر صورت پیار کرنا چاہیے؟ ان سوالات کے پوچھے جانے کے بعد اگر باپ جذباتیت اور بائیولوجیکل کنیکشن (Biological connection) کو چھوڑ کر عقلی دلائل

Read more

سائنسی حافظ

ہمارے معاشرے میں لاکھوں کی تعداد میں حافظ صاحبان موجود ہیں۔ لیکن جن حافظوں کی بات میں کرنا چاہ رہا ہوں یہ وہ والے نہیں جو کہ عمومی طور پہ حافظ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ میں ہمارے گلی محلوں میں موجود ان لاکھوں حافظوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو کہ سائنسی حافظ ہیں۔ یہ بات پڑھنے اور سننے میں عجیب لگے گی کہ بھلا سائنس نے حافظ پیدا کرنے کب سے شروع کیے ہیں؟ یہ سوال

Read more

آزادی کس سے مانگیں؟

ہم کیا چاہتے آزادی۔ ہم چھین کے لیں گیں آزادی۔ ان نعروں کی گونج سنتے ہوئے ہمارے اس خطے کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ان نعروں کے حق میں اور ان کے خلاف بولنے والے بدلتے چلے آئے ہیں۔ پہلے پہل یہ آزادی ہم انگریزوں سے چھیننا چاہتے تھے، پھر ہم نے یہ نعرے انگریزوں اور ہندوؤں دونوں سے آزادی کے لئے لگائے اور اب یہ نعرے ہم کبھی کچھ اداروں سے آزادی کے لئے لگاتے

Read more