طاقت کا نشہ جب اترے


نظام کائنات میں کسی چیز کو دائمیت نہیں۔ چیزیں عارضی ہیں، اور مقررہ وقت کہ بعد وہ بدلتی رہتی ہیں اور اپنی حیثیت کھو دینا ہی فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارے معاشرے میں سرکاری عہدے، گریڈ، شہرت، سب مختصر وقت کہ لیے ہیں۔ مخصوص وقت کہ لئے ذمے داری کا نام ملازمت ہے۔ عہدے اور گریڈ یہ ساری چیزیں انسان کہ حصے میں نہیں رہتیں۔ انسان کسی بھی چیز کا مالک نہیں نہ ہی کوئی کسی کی ذاتی میراث ہے۔ حسین سے حسین ترین چیز کا حسن ایک دن دھیما پڑ جانا ہے۔ پھول کتنے ہی دلکش کیوں نا ہو آخر ایک دن انہیں مرجھانا ہی ہے۔ انسان کی زندگی کا نام بھی مختصر ترین سفر کا نام ہے۔

پر انسان مایا کے جال اور اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچانے کہ خاطر انسانیت کی لکیروں کو روندتا آگے بڑھتا ہے اور وہ خود کو زمینی خدا سمجھنے لگتا ہے۔ کاش کوئی اسے بتلا دے کہ اس زمین پر موجود ہر چیز فانی ہے۔ پھر اپنے اختیارات پر اتنا تکبر کیوں؟

اکثر اوقات ہمارے معاشرے میں خصوصَا سرکاری اداروں کہ افسران اپنے وقت کہ آقا کا روپ دھار لیتے ہیں۔ وہ اپنے ملازمین اور عوام کہ ساتھ ناروا سلوک کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کے شرمناک رویے کہ وجہ سے معاشرے میں انسانیت کی روح کو مجروح کیا جاتا ہے۔ ایسے افسران اپنے بنائے گئے قوانین اور اصولوں کا غلط اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے نچلے سطح کہ ملازمین کلرک، چپڑاسی، اور چوکیدار کہ رزق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں رکوانے میں ان کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اور ان غریب ملازمین کہ تبادلے کروانے میں ان کی شیطانی سازش کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ان مکار افسران کہ قوانین کی چھڑی بیشتر نچلے سطح کے ملازمین پر زیادہ چلتی ہے۔ اگر کسی بالاتر یا پھر معاشرے کے طاقتور پر قانونی کارروائی کا موقع آتا ہے تو انہی افسران کا دوغلا پن سامنے آتا ہے۔ کیوں کہ ان کہ بنائے گئے قوانین محض غریب لوگوں تک ہی محدود ہوتے ہیں۔ یہی افسران جب اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کا تماشا دنیا دیکھتی ہے۔ کیوں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔

سندھی ادب کہ نامور افسانہ نویس اپنی ایک کتاب میں فرعونی کردار نبھانے والے اعلیٰ افسر کہ بارے میں لکھتے ہیں کہ ”مجھے ایک ہیلتھ سیکریٹری یاد ہیں، جب وہ ہسپتال کہ دورے پر آئے تھے۔ ان کی آمد کی خبر کا ہراس پورے ہسپتال میں پھیل چکا تھا۔ ملازمین میں ان کا خوف و ہراس تھا۔ ان کی ذات میں تکبر کی انتہا تھی۔ ہر ملازم اپنی ملازمت کی خیریت کی دعاؤں کا ورد کرنے میں مصروف تھا۔ کچھ عرصے بعد اسی ہسپتال میں دیکھا تو ان کا جسم بے جان کمبل کی طرح پڑا تھا۔ اور ان کہ جسمانی اعضا غیر فعال تھے۔“

دوسری جانب ہمارے معاشرے میں ایسے افسران شدید دوغلے پن کا شکار ہیں۔ یہی انسان دشمن افسران ریٹائرمنٹ کہ بعد اپنا وقت عبادت گاہوں میں گزارتے نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں کوئی ان سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ماضی قریب میں جب وہ افسر کے عہدے پر براجمان تھے تو لوگ ان کی جھوٹی عزت اور خوف کہ باعث عزت کیا کرتے تھے۔ وہی افسران سڑکوں پر تنہائی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ کوئی انہیں منہ لگانا پسند نہیں کرتا۔ ایسے افسران ان طوائفوں جیسا منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ جن کا حسن اختتام پذیر ہو چکا اور تنہائی کا جن ان پر غالب ہوتا ہے۔ سرکاری افسران بھی ریٹائرمنٹ کی مدت کہ بعد اسی طرح کی شدید ذہنی الجھنوں اور ڈپریشن سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور اپنے کیے پر شرمندہ ہوتے ہیں۔

ایسے افسران اپنی سزا خود بھگتتے ہیں۔ وہ جیسا بیج بوتے ہیں ویسا ہی زہریلا پھل ان کے مقدر کا حصہ بنتا ہے۔ یہ وہی افسران ہیں جو اپنے ملازمین کہ رزق کا مالک بنتے تھے۔ اپنے ماتحت ملازمین سے غلاموں جیسا سلوک کیا کرتے تھے۔ ہر جائز کام میں رکاوٹ ڈالتے تھے۔ اپنے من پسند لوگوں کو خوب نوازا کرتے تھے۔

انہی افسران کہ بارے میں ڈاکٹر جانسن نے کہا تھا ”ڈرو اس دن سے جب کم ظرف اور انسان دشمن افراد لکھنے اور پڑھنے کا فن جان لیں“ ۔ کیوں کہ ایسے افراد ہی معاشرے کہ تباہی و بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ یہی ہمارے معاشرے کے لئے کینسر ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ یہ عہدے اور گریڈ سب عارضی ہیں۔ ایک دن ہم سے چھن جانے ہیں۔ پروفیشنل ساتھی بھی ہمیشہ ساتھ نہیں رہنے۔ ریٹائرمنٹ کہ بعد ہمیں اسی معاشرے اور انہی عام لوگوں میں زندگی بسر کرنی ہے۔ افسر کا مطلب عام لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا نہیں بلکہ عام لوگوں کہ لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ آپ لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں تو قدرت ہماری زندگی آسان کر دیتی ہے۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے کہ رکاوٹیں پیدا کرنے والے کبھی پرسکون نہیں رہ سکتے۔

Facebook Comments HS