گلگت بلتستان میں معاشی تبدیلی
ای ٹی آئی جی ان دنوں گلگت بلتستان میں زبان زد خاص و عام ہے ای ٹی آئی جی بی دراصل انگریزی زبان کے پانچ الفاظ کا مجموعہ ہیں جو اِکنامک ٹرانسفارمیشن انیشئٹو گلگت بلتستان کا مخفف ہیں۔ محکمہ ترقیات و منصوبہ بندی ( پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) گلگت بلتستان کی چھتری تلے ای ٹی آئی حکومت وقت کی جانب سے اقتصادی تبدیلی کا ایک اہم جاری منصوبہ ہے اس پروگرام کو ابتدائی طور پر سات سالوں ( 2015۔ 2022 ) کے لئے شروع کیا گیا تھا مگر قلیل مدت میں پروگرام کی حاصل کردہ کامیابیوں اور علاقے کے لئے اس کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر حکومت پاکستان اور ایفاد نے اسے مزید تین سالوں ( 2025 ) تک توسیع اور وسعت دے کر گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں پھیلا دیا ہے یوں اس پروگرام سے گلگت بلتستان کے باسی اب دس سالوں تک مستفید ہوں گے ۔
یہ پروگرام اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (ایفاد) ، اطالوی ادارہ براہ ترقیاتی تعاون ( اے آئی سی ایس) اور حکومت گلگت بلتستان کی مشترکہ 12 ارب روپے کی مالی معاونت سے شروع کیا گیا تھا پروگرام کے کل منظور شدہ تخمینہ لاگت میں 67 ملین ڈالر ( 56 %) ایفاد، 23.63 ملین ڈالر ( 20 %) حکومت گلگت بلتستان، 22.98 ملین ڈالر ( 19 %) اے آئی سی ایس جبکہ 6.54 ملین ڈالر ( 5 %) مستفید گھرانوں کا حصہ شامل ہے۔
اس ترقیاتی پروگرام کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، زرعی ویلیو چین ڈیولپمنٹ کے ذریعے علاقائی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا، پروگرام منیجمنٹ اور پالیسی سپورٹ میں حکومت گلگت بلتستان کی مدد شامل ہے۔ پروگرام ڈیزائن رپورٹ (پی ڈی آر) اور پی سی ون میں گلگت بلتستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی آمدنی کو بہتر بنانے، غربت اور غذائی قلت کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 100,000 گھرانوں تک رسائی کے ہدف کے تعاقب میں اب تک مجموعی طور پر 104,464 گھرانوں تک رسائی حاصل کی جا چکی ہیں جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقی میں 52,2028 جبکہ ویلیو چین کی ترقی کے لئے امدادی خدمات کی صورت میں 50,256 زمینداروں تک پروگرام کے ثمرات منتقل کیے جا رہے ہیں۔
غریب سربراہ گھرانے اور نوجوان مردو خواتین کو اس پروگرام میں فوقیت دی جا رہی ہیں اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی، غذائی قلت، اور خود کفالت کے حصول پر بھی خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ عوامی حمایت اور تائید کے ساتھ کسی بھی ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد سے پروگرام کی کامیابی یقینی ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور ای ٹی آئی اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں ایریگیشن اینڈ لینڈ ڈیولپمنٹ ( آئی ایل ڈی) اور فارم ٹو مارکیٹ روڈ (ایف ایم آر) سر فہرست ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت کو ہلوں کی تعمیر اور زمین کی آبادکاری اور کھیت سے منڈی رابطہ سڑکوں کی تعمیر سے گلگت بلتستان میں بہت جلد زرعی انقلاب آئے گا۔ ماضی قریب میں گلگت بلتستان کی تاریخ میں اتنے بڑے منصوبے پر بیک وقت کام کرنے کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو۔ اس پروگرام پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یہاں کے باسیوں کے لئے ایک انمول نعمت سے کم نہیں اور انشاء اللہ اس ترقیاتی پروگرام کی کامیاب تکمیل سے گلگت بلتستان میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔
پروگرام کا مجموعی ہدف: گلگت بلتستان کے دیہی علاقوں میں آمدنی میں بہتری، غربت اور غذائی قلت کو کم کرنا، جس سے تقریباً ایک لاکھ دیہی گھرانے مستفید ہوں گے۔
پروگرام کے اہم مقاصد:
1اضافی 50,000 ایکڑ ( 400,000 کنال) زمین کو قابل کاشت بنا کر یا زیر کاشت لاکر زرعی پیداوار کو بہتر بنانا جس سے مجموعی طور پر خواتین اور بے زمین سربراہ خانے سمیت تقریباً 100,000 چھوٹے زمیندار مستفید ہوں گے۔
400 کلومیٹر رابطہ سڑکوں اور 200 میٹر پلوں کی تعمیر کے ذریعے کھیت سے منڈی رابطے کو بہتر اور علاقائی مصنوعات کی طلب پر مبنی ویلیو چین کو فروغ دینا۔
مجموعی طور پر پروگرام کی اب تک کی کامیابیاں : پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک شروع کی گئی کل 249 سکیموں ( 112 آئی ایل ڈیز، 122 ایف ایم آرز، 15 پلوں ) میں سے 160 اسکیمیں ( 77 آئی ایل ڈیز، 73 ایف ایم آرز، 10 پل) مکمل ہو چکی ہیں جبکہ 63 سکیمیں ( 27 آئی ایل ڈیز، 31 ایف ایم آرز، 5 پل) زیر تکمیل ہیں۔ مزید برآں، 25 سکیمیں ( 8 آئی ایل ڈی اور 17 ایف ایم آر) عمل درآمد کے لئے تیار ہیں۔ 2016 میں جب اس پروگرام پر عملدرآمد شروع ہوا تو اس وقت کمپوننٹ ون ( بنیادی ڈھانچے کی ترقی) صرف چار اضلاع ( دیامر، استور، گانچھے اور غذر) تک محدود تھی مگر اکتوبر 2022 میں پروگرام میں توسیع کے بعد باقی ماندہ چھ اضلاع (گلگت، ہنزہ، نگر، سکردو، کھرمنگ اور شگر) میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سرگرمیوں کا ہوا ہے۔
اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون (اے آئی سی ایس) فنانسنگ کو مالی سال 2023۔ 24 کے سالانہ ورک پلان اور بجٹ میں ضم کیا گیا تھا۔ اے آئی سی ایس فنانسنگ کے تحت سرگرمیوں کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ ویلیو چین کمپوننٹ میں گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام (جی بی آر ایس پی) کی شمولیت سے ای ٹی آئی پروگرام میں ان کے تجربات اور تمام اضلاع میں ان کے سٹاف کی موجودگی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو (جی بی بی او آر) کی جانب سے آبپاشی اور زمین کی ترقی کے مقامات پر زمین کی پیمائش کی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔
ای ٹی آئی پروگرام سے مستفید ہونے والے کسانوں کے لئے دستاویزات اور قانونی مالکانہ حقوق کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ سالانہ ورک پلان اور بجٹ 2024۔ 25 کی تیاری اور منظوری پروگرام سٹیرنگ کمیٹی سے ہوئی ہے۔ پروگرام کوآرڈینیشن کمیٹی (پی سی سی) نے 52 نئی انفراسٹرکچر اسکیموں 16 آئی ایل ڈی، 35 ایف ایم آر اور 1 پل کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ اے آئی سی ایس فنانسنگ کے تحت 28 اسکیموں 8 آئی ایل ڈی 15 ایف ایم آر اور 5 پلوں کی خصوصی طور پر نشاندہی کی گئی ہے ای پی اے گلگت بلتستان سے حتمی منظوری کے بعد سکیموں کی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
منتخب اسکیموں کے لئے شروع کردہ ماحولیاتی اثرات کا تخمینہ (ای آئی اے ) ، جی بی واٹر اینڈ روڈ ماسٹر پلانز اور آپریشنز اینڈ مینٹینیس پالیسیز پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اس سال ایفاد اور اے آئی سی ایس نے دو مشترکہ تعاون اور نگرانی مشن پروگرام کی حمایت، پیشرفت کا جائزہ لینے اور جزوی کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے آغاز پر ضروری مدد فراہم کرنے کے لئے بھیجے۔ رواں سال 2023۔ 24 میں پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کے 03 اجلاس، پروگرام کوآرڈینیشن کمیٹی کے 03 اجلاس اور 07 ریجنل کوارڈینیشن کمیٹی ( آر سی سی ) اجلاس منعقد ہوئے جن میں گلگت ریجن میں 03، بلتستان میں 02 اور دیامر میں 02 اجلاس شامل ہیں۔ امس سال نئے ڈائریکٹر فنانس اینڈ ایڈمن، منیجر جینڈر اینڈ پاورٹی اور دیگر عہدوں سمیت مختلف خالی اسامیوں کے لیے 19 اسٹاف ممبران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی۔
1۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی: 50,000 ایکڑ نئی زمین کو سیراب کرنے کے ہدف کے تعاقب میں اب تک 54,948 ایکڑ نئی زمین کو زیر کاشت لایا گیا ہے جبکہ 400 کلومیٹر رابطہ سڑکوں کی تعمیر کرنے کے ہدف کی مد اب تک 520 کلومیٹر رابطہ سڑک ( جسے عرف عام میں فارم ٹو مارکیٹ کہا جا رہا ہے ) تعمیر کی جا چکی ہیں اسی طرح سات آر سی سی پل جن کی مجموعی لمبائی 191 بنتی ہے کی قلیل مدت میں معیاری تعمیر بھی ای ٹی آئی کا ایک اہم کارنامہ ہیں۔
مجموعی طور پر گلگت بلتستان میں 251 اسکیموں میں سے 160 جن میں 77 آئی ایل ڈی، 73 ایف ایم آر، اور 10 پل۔ 7 آر سی سی اور 3 لکڑی کے پل مکمل کیے جا چُکے ہیں جس سے 40,000 گھرانوں کو فائدہ ہو گا۔ اس سال ( 2023۔ 24 ) کے دوران 21 آئی ایل ڈی، 27 ایف ایم آر اور 5 پلوں سمیت 53 اسکیموں پر فزیکل کام شروع کیا گیا ہے۔ 77 مکمل شدہ ایریگیشن سکیموں میں 38,285 ایکڑ (کل کمانڈ ایریا 55,173 ایکڑ کا 69 فیصد) کی زمین کی ترقی اور آبادکاری ہوئی ہے۔
40 آئی ایل ڈیز سے 51.9 ملین روپے (پے بیک کی مد میں ) جمع کی جا چکی ہے پے بیک جمع کرنے کا مقصد مکمل شدہ ایریگیشن سکیموں کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ ای ٹی آئی نے کو ہلوں اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر میں اب تک مجموعی طور 6 بلین روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے جس کے مستقبل قریب میں دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔
2۔ سپورٹ سروسز برائے ویلیو چین ڈیولپمنٹ: پروگرام کے اس حصے میں ویلیو چین سپورٹ فنڈ کے قیام کے ذریعے آن فارم، آف فارم اور نان فارم زرعی کاروبار کو ترویج دینا اور 220 ویلیج پروڈیوسر گروپس کا قیام شامل ہیں۔ پروگرام کے وسط مدتی جائزے میں ویلیج پروڈیوسر گروپس کو ویلیج ایگریکلچر کواپریٹو سوسائٹیز میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ ویلیج ایگریکلچر کو اپریٹوز ایک قانونی ادارے کی صورت میں کواپریٹو ڈٰپارٹمنٹ کے زیر نگرانی مستقبل میں کام کریں گے۔
ای ٹی آئی پروگرام کے تحت 162 ویلیج ایگریکلچر کواپریٹؤ سوسائٹیز (وی اے سیز) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن مین 15 خواتین پر مشتمل کواپریٹو سوسائٹیز ہیں گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں 72 فروٹ پلانٹ نرسریز اور 513 خوبانی کے باغات قائم کیے جا چکے ہیں اس کے علاوہ 20 سے زائد زرعی اجناس کے ویلیو چین کی بہتری میں زمینداورں کو مالی و تکنیکی مدد فراہم کی گئی ہیں یوں پروگرام کے اس حصے میں مجموعی طور پر 50,256 فارمزز کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہیں۔
جی بی آر ایس پی معاہدے کے تحت شروع کیے گئے پی سی جی ایس کے اجراء اور انتظام سمیت وی اے سیز (VACs) کی ادارہ جاتی مضبوطی، گردشی فنڈ مینجمنٹ، کامن ا ایسیٹ فنانسنگ، زرعی تعلیم، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی سمیت 7 فراہمی کے قابل کام شامل ہیں۔ 50 ایگری ٹیک فیلوز کو بھرتی کر کے گلگت بلتستان کے منتخب سرکاری اسکولوں میں تعینات کیا گیا تاکہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی طلباء میں زرعی تعلیم، زرعی کاروبار، غذائیت، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی فراہم کی جا سکے۔ ترقی پسند وی اے سیز اور فور پیز کے لئے مسابقتی گرانٹس کا اعلان کیا گیا۔
3۔ محکمہ زراعت توسیع: اس سال فارمر فیلڈ ڈے، فصل کی کٹائی سے پہلے اور بعد میں ہینڈلنگ، پروسیسنگ اور پیسٹ مینجمنٹ سمیت 83 تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جس سے 2,421 کسانوں اور عملے ( 1، 358 مرد اور 1,063 خواتین) کو فائدہ ہوا۔ تینوں ریجن میں 19 نئی نجی نرسریاں قائم کیں مجموعی طور پر 72 نرسریاں اب تک قائم کی جا چکی ہیں۔
4۔ محکمہ زراعت تحقیق: 7 آلو کے بیج کے سٹور، 3,557 زمینداروں کے تربیت، 3 ٹشو کلچر لیب کی بحالی اور 338 میٹرک ٹن آلو کی پیداوار محکمہ زراعت کی نمایاں کامیابیاں ہیں۔ اس سال بیج آلو کی افزائش کا عمل ہر سطح پر جاری رہا۔ ٹشو کلچر، ماڈل فارمز، اور منتخب وی اے سی اور برادریوں کے ساتھ کھیت میں۔ کسان ایگریکلچر کوآپریٹو سوسائٹی نصیر آباد ہنزہ کے ساتھ معاہدے کے تحت لیڈی روزیٹا کے بیج آلو کے 205 تھیلے 37 کاشتکاروں میں تقسیم کیے گئے جبکہ بگروٹ گلگت میں 25 کلو گرام کے 246 تھیلے تقسیم کیے گئے۔ اس اقدام سے 60 میٹرک ٹن بیج آلو کی پیداوار متوقع ہے۔ 8,700 ان وٹرو پودے اور 52,000 چھوٹے کند تیار کیے۔
5۔ لینڈ ٹائٹلنگ: گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو (جی بی بی او آر) نے 4,029 ایکڑ پر محیط 5 آئی ایل ڈیز کے لئے زمین کی پیمائش اور دستاویزات کا عمل شروع کیا ہے۔ ان میں سے 3,329 ایکڑ پر زمین کی پیمائش مکمل ہو چکی ہے، جس میں 3 اسکیمیں بھی شامل ہیں۔ دو اسکیموں کے لئے یہ عمل جاری ہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے ) کے مابین مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہوئی ہے جس کے تحت گلگت بلتستان کے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے لئے دونوں ادارے مشترکہ کاوش کریں گے اور ترجیحی بنیادوں پر ای ٹی آئی پروگرام کے تحت آباد اور تقیسم شدہ زمینوں کو حکومت گلگت بلتستان کے منظور شدہ لیڈ ٹائٹلنگ پالیسی کے تحت جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
6۔ پروگرام میں خواتین کی شراکت داری: ویلیو چین ڈیولپمنٹ کے لئے امدادی خدمات کے تحت اس پروگرام سے 50,256 کسان مستفید ہوئے ہیں، جن میں ویلج ایگریکلچر کوآپریٹو (وی اے سی) کے 40، 613 کسان شامل ہیں۔ ان 50، 256 کسانوں میں سے 15، 392 خواتین ہیں، جو اس حصے میں مجموعی طور پر شرکت کی شرح 31 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس پروگرام میں 15 خواتین کے لیے مخصوص ویلج ایگریکلچر کوآپریٹوز قائم کیے گئے ہیں اور ان وی اے سیز کا انتظام اور انتظام صرف خواتین کسان کرتی ہیں۔
مزید برآں، مجموعی طور پر 351 خواتین قائدانہ عہدوں پر فائز ہیں اور وی اے سیز کے اندر فیصلہ سازی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس پروگرام نے 320 سے زیادہ بے روزگار گریجویٹس کو روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں، جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ 13,471 خواتین کسانوں کو زراعت کی توسیع جیسے پیداوار اور فصل کی کٹائی کے بعد کے انتظام، غذائیت، کسانوں کے لئے فیلڈ ڈے اور ایکسپوزر وزٹ کے بارے میں مختلف تربیتیں فراہم کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر اس پروگرام سے 104,464 گھرانے مستفید ہوئے ہیں، جن میں 11,684 خواتین کی سربراہی والے گھرانے بھی شامل ہیں۔ اس پروگرام سے مستفید ہونے والی انفرادی خواتین کی تعداد کا تخمینہ 399,575 ہے۔
پروگرام پر عملدرآمد کی راہ میں حائل مشکلات: گلگت بلتستان کے سخت موسمی حالات اور مختصر کام کا دورانیہ پروگرام پر عملدرآمد کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کام کا مختصر موسم اور غیر متوقع موسمی پیٹرن بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ سیلاب سے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان، خاص طور پر مکمل کی گئی اسکیمیں، عوام کے پاس محدود وسائل کی وجہ سے، بحالی کے لیے کمیونٹی کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہیں۔
مختلف صلاحیتوں اور فطری چیلنجوں کے ساتھ متعدد لائن محکموں کی عمل درآمد کے شراکت داروں کے طور پر شمولیت مجموعی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور عمل درآمد میں تاخیر کرتی ہے۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات ( پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ) ، کواپریٹو ڈیپارٹمنٹ، محکمہ زراعت توسیع و ریسرچ، گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو، کواپریٹو ڈیپارٹمنٹ، جی بی آر ایس پی، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، واٹر منیجمنٹ اینڈ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر پروگرام پر بیک وقت عملدرآمد کرنا ایک مشکل امر ضرور ہے۔
اسی طرح مالی و انتظامی معاملات کو حکومت پاکستان، ایفاد اور اے آئی سی ایس کے مالی قواعد و ضوابط اور پالیسیوں کے عین مطابق ڈھال کر چلانا بھی ایک پیچیدہ عمل ہے اسٹیٹ بینک کی جانب سے متعارف کرائے گئے فنانشل مینجمنٹ سسٹم میں تبدیلیوں کی وجہ سے کمیونٹی کو بلوں کی ادائیگی میں نمایاں تاخیر ہوئی ہے جس سے منصوبے کی ٹائم لائنز متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیمی ڈھانچے اور آپریشنل ضروریات کو ایڈجسٹ کیے بغیر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی توسیع پروگرام پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ ان تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود ای ٹی آئی انتظامیہ پروگرام کی کامیابی کے لئے مخلصانہ کاوشیں کر رہی ہے تاکہ گلگت بلتستان معاشی ترقی میں ملک کے باقی صوبوں سے پیچھے نہ رہے اور یہاں کے باسی بھی خوشحال زندگی بسر سکیں۔






