تبدیلی کی تلاش: آئینہ دیکھنا ممنوع ہے؟
پاکستان میں تبدیلی کی بات کرنا ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ یہ بات اتنی عام ہو گئی ہے کہ اگر کسی محفل میں کوئی شخص کہے کہ ”پاکستان میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی“ ، تو لوگ اسے ایسے دیکھتے ہیں جیسے اس نے کوئی کفر کر دیا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی پر ہماری بحثیں زیادہ تر باتوں تک محدود رہتی ہیں، عمل میں نہیں آتیں۔
ہم پاکستانیوں کی ایک خاص عادت ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کسی اور کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ اگر حالات خراب ہیں، تو یہ کسی اور کی غلطی ہے۔ ہم اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرتے کہ شاید ان مسائل میں ہمارا بھی کچھ کردار ہو سکتا ہے۔ اور یہ رویہ ہمیں ایک مسلسل سراب کے پیچھے دوڑاتا رہتا ہے : تبدیلی کے سراب کے۔
دیکھیں، ہم سب کو شکایت ہے کہ سیاستدان کرپٹ ہیں۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ سیاستدان کہاں سے آتے ہیں؟ کیا یہ مریخ سے اترتے ہیں؟ نہیں، یہ ہمارے ہی بیچ سے اٹھتے ہیں۔ اور یہ جو کرپشن کا نظام ہم پر مسلط ہے، یہ بھی ہماری اپنی عادتوں کا نتیجہ ہے۔ رشوت دینے کا موقع ملے، تو ہم فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔ ٹریفک سگنل توڑنے کا موقع ہو، تو ہم خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب یہی رویہ بڑے پیمانے پر نظر آتا ہے، تو ہم شور مچانے لگتے ہیں کہ ملک کا نظام خراب ہے۔
یہاں طنزاً کہنا بنتا ہے کہ شاید ہم واقعی کسی ایسے ”مسیحا“ کے انتظار میں ہیں جو آسمان سے اترے گا، ہماری تمام مشکلات حل کرے گا، اور ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ لیکن اس دوران، ہم خود کچھ بھی نہیں کریں گے۔ کیونکہ، ظاہر ہے، تبدیلی لانا تو کسی اور کا کام ہے
یہی رویہ ہمیں ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ تعلیم سے لے کر صحت تک، معیشت سے لے کر ماحولیات تک، ہم سب دوسروں پر انگلی اٹھانے میں ماہر ہیں۔ ہمارے اسکولوں کی حالت خراب ہے؟ حکومت کی غلطی۔ اسپتالوں میں سہولیات نہیں؟ نظام خراب ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے؟ بین الاقوامی سازش۔ لیکن کبھی یہ سوال کیا کہ ہم نے خود ان مسائل کے حل کے لیے کیا کیا؟ شاید کچھ نہیں، کیونکہ یہ سوچنا بھی ہم پر بہت بھاری ہے۔
آئیے ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ہم سب کو شکایت ہے کہ معاشرہ بے حس ہو چکا ہے۔ لیکن کیا ہم خود اس بے حسی کا حصہ نہیں؟ اگر کوئی سڑک پر مدد کے لیے آواز لگائے، تو ہم اس کی مدد کرنے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی حادثہ ہو، تو ہم سب سے پہلے اپنے موبائل نکال کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور جب ہم اس رویے کو معاشرے میں دیکھتے ہیں، تو کہتے ہیں : ”لوگ بدل گئے ہیں، پہلے زمانے کے لوگ بہت اچھے تھے۔“
یہ طنز ہی نہیں، ایک کڑوی سچائی بھی ہے کہ ہم اپنے مسائل کو دوسروں پر ڈالنے میں ماہر ہو چکے ہیں۔ یہ رویہ ہمیں اس مقام پر لے آیا ہے جہاں ہم خود کو بے اختیار اور مجبور سمجھنے لگے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ تبدیلی کی اصل طاقت ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ تبدیلی باہر سے نہیں آتی، یہ اندر سے آتی ہے۔ یہ ایک فرد سے شروع ہوتی ہے اور پھر پورے معاشرے میں پھیلتی ہے۔ لیکن ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ خود کو بدلنا سب سے مشکل کام ہے۔ دوسروں کو الزام دینا بہت آسان ہے، اور یہی آسان راستہ ہم نے چن لیا ہے۔
اب ذرا تصور کریں، اگر ہم صرف اپنے روزمرہ کے معاملات میں اصولوں کی پابندی شروع کر دیں، تو کتنا فرق پڑ سکتا ہے۔ اگر ہم ٹریفک قوانین کا احترام کریں، اپنے محلے کو صاف رکھیں، اور دوسروں کے ساتھ ایمانداری سے پیش آئیں، تو یہ ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے لیے ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہو گا، اور یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی کسی بڑی اور انقلابی حرکت کے ذریعے آتی ہے۔ لیکن حقیقت میں، تبدیلی چھوٹے چھوٹے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو اخلاقیات کا درس دیں، انہیں دوسروں پر الزام دینے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں، تو ہماری آنے والی نسل ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔
لیکن کیا ہم یہ سب کرنے کے لیے تیار ہیں؟ شاید نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ محنت اور وقت مانگتا ہے، اور ہم شارٹ کٹ کے شوقین ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ کوئی جادوئی حل ہمیں تمام مشکلات سے نجات دلائے گا۔ اور جب یہ امید پوری نہیں ہوتی، تو ہم مایوسی کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور کہتے ہیں : ”یہ ملک کبھی نہیں بدلے گا۔“
یہ سوچ نہ صرف غلط ہے، بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں ایک ایسے دائرے میں قید کر دیتی ہے جہاں ہم اپنی طاقت اور قابلیت کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ آئینہ دیکھنے کی ہمت کریں۔ تبدیلی کی تلاش میں دور دراز کے خوابوں میں گم ہونے کے بجائے، خود کو دیکھیں اور سوال کریں : ”میں نے اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے آج تک کیا کیا ہے؟“ یہ سوال مشکل ضرور ہے، لیکن ضروری بھی ہے۔ کیونکہ جب ہم خود کو بدلیں گے، تبھی معاشرہ بدلے گا۔
یاد رکھیں، تبدیلی کے سفر کا آغاز ہمیشہ ایک فرد سے ہوتا ہے۔ اور وہ فرد آپ ہی ہیں۔

