ایک انسان دوست ’سالک‘ : ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، آپ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں اور اپنے شعبے میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ ایسے اہم پیشے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ادب کے میدان میں بھی ایک منفرد اور اعلیٰ مقام پر متمکن نظر آتے ہیں۔ آپ ادیب، شاعر، ترجمہ نگار، خود نوشت نگار، ٹک ٹاکر اور کالم نگار ہیں۔ آپ پچیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور ’ہم سب‘ میں مختلف موضوعات پر آٹھ سو سے زائد کالم رقم کر چکے ہیں۔
ہم آج ان کی خود نوشت ’سالک‘ پر بات کریں گے۔
ایک خود نوشت عام طور پر صیغۂ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے جس میں اکثر میں کی تکرار ہوتی ہے اور خود نمائی کا عنصر غالب ہوتا ہے لیکن یہ خود نوشت اپنے طور پر یوں منفرد ہے کہ یہ صیغۂ واحد متکلم میں نہیں، بلکہ مصنف نے اپنے لیے ایک استعاراتی نام ’خضر‘ اختیار کیا ہے۔ خضر اپنے اس سفر میں اپنے عزیزوں، دوستوں، فنکاروں، فلسفیوں اور دانشوروں کو بھی اپنا ہم سفر بناتا ہے۔ اس نے اپنی آپ بیتی کو چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی صورت بیان کیا ہے اور ہر کہانی کوایک استعاراتی عنوان عطا کیا ہے۔ یہ سب کہانیاں قاری کو علم و دانش، فلسفے اور اخلاقیات کا درس دیتی ہیں۔ جیسا کہ مصنف خود کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں :
”آٹو بائیو گرافی تحریر کرنا خود کو دوسروں سے متعارف کروانا ہے۔ اور اس عمل کے دوران مصنف خود اپنی ذات کی پرتیں کھولتے کھولتے خود آگاہی کے عمل سے دوچار ہوتا ہے۔ خضر کی کہانی ایک انسان کی کہانی سے شروع ہوئی لیکن پھر وہ پھیلتے پھیلتے پوری انسانیت کی کہانی بن گئی۔“ (ص 9، 10 )
کتاب بہت خوب صورت موضوعات کا احاطہ کرتی ہے، جو مصنف کے تجربہ کو بیان کرتے کرتے انسانیت کے لیے درس کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں۔ دوستی کے عنوان سے لکھی یہ تحریر دیکھیے :
”خضر کی ایک چھوٹی بہن تھی جس کا نام دوستی تھا۔ ایک دن کھیلتے ہوئے خضر نے اسے بے دھیانی میں دھکا دے دیا اور وہ گر گئی۔ ان کے والد نے خضر سے کہا کہ وہ اپنی چھوٹی بہن سے معافی مانگے۔ والد کا مشورہ سن کر خضر نے پہلے سر کھجایا پھر اپنا تھوک اور غرور نگلا اور پھر معافی مانگی۔ خضر کے لئے وہ ایک تکلیف دہ تجربہ تھا لیکن اس نے اس تجربے سے سبق سیکھا۔ اس نے نہ صرف اپنی بہن بلکہ ہر اس عورت کا احترام کرنا سیکھا جس سے وہ اپنی زندگی میں ملا۔“ (ص 25 )
ادب کے بارے میں مصنف کی رائے ملاحظہ کیجیے : ”عظیم ادیبوں کی تخلیقات اپنے عہد کے مساءل، خوابوں اور آدرشوں کی ترجمانی کرتی ہیں اور اپنے قارئین کے دل میں امید کے دیے جلاتی ہیں۔ ادب عالیہ میں دانائی مضمر ہوتی ہے ایسی دانائی جو انسانیت کو ارتقا کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔“ (ص 117، 118 )
مل جل کر کام کرنے کے بارے میں مصنف اپنا تجربہ اور نقطۂ نظریوں بیان کرتے ہیں : ”خضر کو اپنے ادبی دوستوں کے ساتھ مل کر کتابیں لکھنے کا بہت شوق تھا۔ اسے اپنی نانی اماں کا یہ قول پسند تھا کہ ایک اور ایک دو نہیں، گیارہ ہوتے ہیں خضر کو سرخ فام انڈین چیف بلیک ایلک کا یہ قول بھی عزیز تھا کہ دنیا کا کوئی بھی بڑا کام ایک انسان اکیلے نہیں کر سکتا خضر کا کہنا تھا کہ مل کر کام کرنا اکیلے کام کرنے سے زیادہ بامعنی ہوتا ہے“ (ص 120 )
’تاریک رخ‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں : ”خضر کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ زندگی کے روشن رخ کے ساتھ ایک تاریک رخ بھی ہے۔ خضر جب اپنے ارد گرد ظلم جبر اور تشدد دیکھتا تو سوچتا کیا انسانیت تشدد کی اس تاریک رات کی کوکھ سے پرامن صبح پیدا کر سکے گی یا خانہ جنگیوں اور مہلک ہتھیاروں سے اجتماعی خود کشی کر لے گی۔ لیکن پھر اسے یہ جان کر حوصلہ ہوا کہ تاریک رات کے بعد روشن صبح طلوع ہوتی ہے۔“ (ص 138، 139 )
ایک سو پینسٹھ صفحات کی یہ کتاب ایسے ہی شاندار موضوعات پر مبنی ہے جو قاری کو زندگی کرنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ کتاب کی زبان سلیس اور عام فہم ہے، علم و ادب، نفسیات اور فلسفے کی گتھیاں سلجھاتی اور قاری کے ذہن کو جھنجھوڑتی ہے۔ مصنف ایسے پر مغز موضوعات کو اتنے ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری کی دل چسپی قائم رہتی ہے، گویا دل سے نکلی بات دل تک پہنچ جاتی ہے۔ کتاب کے مصنف ان رہ نوردوں میں سے ہیں جو ہر راہ اور ہر پگڈنڈی پر علم و دانش کے موتیوں کے ساتھ ساتھ، دوستی، محبت اور بھائی چارے کے موتی بھی بکھیرتے جاتے ہیں۔ آپ ایک ایسے قبیلے سے ہیں جو بہرحال اپنے اپنے حصّے کی شمعیں جلا کر اجالے پھیلاتے رہتے ہیں۔ یہ کتاب ان کی بیسیوں کتابوں میں ایک دلکش اضافہ ہے اور یقیناً اپنے قاری داد وصول کرے گی۔


