الفاظ کا صحیح چناؤ
انسانی زندگی میں ان کے استعمال کیے گئے الفاظ اور لب و لہجے کا ایک اہم رول ہوتا ہے۔ انسان کا کردار انسان کے بولے گئے الفاظ کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔ اگر انسانی معاشرے کی بول چال ٹھیک ہے مہذب ہے تو سمجھو کہ یہ معاشرہ ترقی یافتہ ہے۔ کسی بھی انسان میں چھپے ہوئے رازوں کو معلوم کرنے کا بہترین ایکسرے کسی انسان کی بول چال ہے۔ اگر آپ کسی کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں یا کسی سے ہم کلام ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ہم کلام ہونے سے پہلے اپنے الفاظ پہ غور کیا کریں کہ میں جو الفاظ بولنے جا رہا ہوں کیا ان سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوتی؟ جب ہم یہ سوچیں گے کہ الفاظ کا صحیح چناؤ اور ایک دوسرے سے ہم کلام کیسے ہونا ہے تو پھر محبت بھی ہوگی اور احترام بھی۔
اس وقت ہمارے ہاں معاشرے میں جن الفاظ کا چناؤ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً قابل مذمت ہیں چاہے وہ سیاستدانوں کی طرف سے ہوں یا پھر عوام کی جانب سے۔ معاشرے کی مثبت تشکیل گالم گلوچ یا غیر مہذب لفظوں سے نہیں ہوتی بلکہ اچھے اور معیاری لفظوں سے ہوتی ہے۔ معیاری اور سنہرے الفاظ استعمال کرنے والے لوگوں کے ہر جگہ چرچے ہوتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو مثالیں بھی دیتے رہتے ہیں کہ فلاں معاشرے کے لوگ انتہائی مہذب اور شائستہ انداز میں الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں اور ان کی گفتگو میں جو شائستگی ہے وہ شاید کسی میں ہو۔ مگر ہمارے معاشرے میں کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی کئی مواقع پر ایسے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ بندہ ہوش و حواس کھو دیتا ہے کہ یار اگر یہ پڑھا لکھا انسان اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو پھر عوام سے اچھے اور میٹھے الفاظ کی توقع رکھنا خام خیالی ہی ہو گی۔ میں نے اس چیز کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے کہ جس شخص کے الفاظ میں شائستگی ہو وہ ہمیشہ جیت جاتا ہے۔
ہمارا سب سے بڑی المیہ یہ ہے کہ ہم معاشرے میں اس چیز پر بالکل دھیان نہیں دیتے کہ الفاظ کے صحیح چناؤ یا غلط چناؤ سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم اس چیز پہ توجہ دینے کی سعی نہیں کریں گے تو سمجھو کہ ہم فیل ہو گئے کیونکہ اس جدید دور میں آپ کا مستقبل آپ کے الفاظ سے جڑا ہوا ہے۔ مستقبل کا جڑا ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں بلکہ آپ کے مستقبل کو سنوارنے اور تاریک بنانے میں الفاظ کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔


