سقوط دمشق، خانہ جنگی اور ممکنہ تقسیم

ملک شام کا قیام جدید شکل میں 28 ستمبر 1941 کو فرانس سے آزادی کے بعد ہوا، لیکن اسے مکمل آزادی 17 اپریل 1946 کو ملی۔ یہ دن شام میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ علوی خاندان، جو حافظ الاسد کے ذریعے اقتدار میں آیا، شام میں 1970 سے اب تک اقتدار میں رہا ہے۔ حافظ الاسد نے 13 نومبر 1970 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت حاصل کی اور 2000 تک شام کے صدر رہے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے بشار الاسد نے اقتدار سنبھالا اور 8 دسمبر 2024 تک اقتدار میں رہے۔ شام جو کبھی مشرق و سطیٰ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا۔ جس میں شرح خواندگی تقریباً 95 فیصد ہے۔ 2011 سے مختلف ممالک کی جانب سے مداخلت اور مذہبی انتہا پسند تنظیموں کو مالی امداد اور اسلحہ کی فراہمی کی، پشت پناہی، اور خانہ جنگی کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو گیا۔ 8 دسمبر 2024 کو سقوط دمشق کے بعد شام کا ایک بڑا حصہ مذہبی انتہا پسند تنظیم ”ہیت تحریر الشام“ کے قبضے میں چلا گیا، جس کی قیادت احمد حسین الشارع، المعروف ابو محمد الجولانی کر رہا ہے۔ الجولانی اس کا فوجی نام ہے۔ جس سے مراد شامی گولان کی پہاڑیاں ہیں۔ جو اس کی آبائی جگہ ہے۔ الجولانی القاعدہ، داعش، النصرہ اور اسلامک اسٹیٹ آئی ایس آئی ایس میں اعلیٰ مناصب پر رہا۔ اور تقریباً ان تمام تنظیموں میں نمبر دو پوزیشن پر رہا۔ الجولانی نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کر کے ایک آزاد تنظیم کے طور پر کام کرنے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں النصرہ اور اسلامک اسٹیٹ کے درمیان کھلا تنازعہ پیدا ہوا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے مئی 2013 میں الجولانی کو ”خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا اور اس کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالرز انعام مقرر کیا۔ تاہم آج الجولانی اور اس کی تنظیم“ ہیت تحریر الشام ”کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، باوجود اس کے کہ القاعدہ، داعش، اور النصرہ جیسے گروہ اب بھی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔
یہ تنظیمیں مذہبی اقلیتوں اور عام لوگوں کے قتل عام، فرقہ ورانہ تشدد، عورتوں اور بچیوں کی عصمت دریوں، ان کو جنسی غلام بنانے، اور ان کی کھلی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے بدنام ہیں۔ ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں باقاعدہ منڈیاں لگتی تھیں، جہاں خواتین اور بچیوں کو جانوروں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ ان دہشت گردوں کے انسانیت سوز مظالم کی داستانیں دنیا بھر میں مشہور ہیں، لیکن ان پر عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔
2011 میں شام میں جس شورش کو ہوا دی گئی، اس میں امریکہ، مغربی ممالک، ترکی، سعودی عرب، قطر، اور متحدہ عرب امارات نے بھرپور حصہ لیا۔ ان ممالک نے ان دہشت گرد تنظیموں کو اربوں ڈالرز فراہم کیے، ہتھیار دیے اور ان کو تربیت دی تاکہ اپنے سیاسی اور معاشی مفادات حاصل کر سکیں۔ مسلم امہ کا نام اکثر سننے کو ملتا ہے۔ اور اسلامی دنیا کے اتحاد کے دعوے اکثر کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ غیرجانبدار مورخین جب تاریخ لکھیں گے، تو شام کی تباہی میں ان ممالک کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عراق، لیبیا، اور شام سیکولر ملک تھے۔ بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، طب اور جنسی مساوات کے میدان میں دیگر اسلامی ممالک سے بہت آگے تھے۔ لیکن آج یہ ممالک مذہبی انتہا پسندوں کے نرغے میں ہیں، تباہ ہو چکے ہیں اور کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ، اور بالخصوص سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ، دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ وہ طے کرتے ہیں کہ کہاں جمہوریت ہو گی اور کہاں بادشاہت اور کہاں ملٹری حکومت کرے گی۔ یہ ممالک اپنے مفادات کے مطابق مختلف نظاموں کی حمایت کرتے ہیں۔
جمہوریت بلاشبہ آمریت، بادشاہت، اور ڈکٹیٹرشپ سے بہتر نظام ہے، آج جمہوریت ایک بہترین نظام ہے۔ اور اس کا کوئی متبادل نظام موجود نہیں۔ لیکن یہ حق ہر ملک کے عوام کو حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے اندر پرامن اور جمہوری انداز میں حکومتوں کو تبدیل کریں۔ بین الاقوامی برادری کو جہاں بھی آمریت، بادشاہت، یا فوجی حکومت ہو، وہاں کی اپوزیشن جماعتوں کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی ممکن ہو سکے۔ گولی کے بجائے ووٹ کے ذریعے تبدیلی ہی دیرپا اور حقیقی طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
طاقتور ممالک کے میڈیا ہاؤسز اور پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے کسی بھی ملک یا حکمران کے خلاف یا حق میں مہم چلاتے ہیں۔ یہ مہمات فوجی مداخلت اور جنگ کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں۔ عراق، لیبیا، افغانستان، اور شام، ان تمام ممالک میں تباہی کی یہی کہانی ہے۔ صدام حسین کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں لاکھوں عراقی مارے گئے اور کئی ملین بے گھر ہو گئے۔ بعد میں کہا گیا کہ صدام کے پاس مہلک ہتھیاروں کی اطلاعات غلط تھیں، لیکن ان جنگوں کی قیمت کون ادا کرے گا؟ یہی کہانی لیبیا، افغانستان، اور شام میں بھی دہرائی گئی۔
سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن اور جان کیری کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ القاعدہ، طالبان، داعش، اور دیگر تنظیمیں کس کی مدد سے وجود میں آئیں۔ آج الجولانی کو ایک ”ہیرو“ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سی این این پر اس کے انٹرویوز نشر ہو رہے ہیں، اور دنیا بھر میں انتہا پسند تنظیمیں اس کی حمایت میں جشن منا رہی ہیں۔ افغانستان کے طالبان کے جھنڈے اور شام میں عبوری وزیر اعظم محمد البشیر کے ٹیبل پر رکھے ہوئے جھنڈے کی مماثلت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ اس تمام کھیل میں یہ ایک پیادے سے زیادہ کچھ نہیں۔
شام میں کچھ لوگوں کو نام نہاد انقلاب پر خوشی سے رقص کرتے ہوئے میڈیا پر بار بار دکھایا جا رہا ہے۔ ہم نے دشمن کی لاشوں پر رقص کرنے کا سنا تھا، لیکن اپنے ملک کی لاش پر اور اپنی شناخت کے مٹنے پر رقص کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ یہ منظر مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کی چالاکیوں اور پروپیگنڈا مشینری کی طاقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ تمہارے ملک کا نقشہ بدل رہا ہے، ملک کی شناخت مٹ رہی ہے، تم سے بنیادی انفراسٹرکچر اور سہولتیں چھینی جا رہی ہیں، تمہارے ملک کو پتھر کے عہد میں دھکیلا جا رہا ہے، لوگوں کے گلے کاٹنے والے تمہارے ملک پر قابض ہو رہے ہیں، اور تم محوِ رقص ہو!
دنیا کے بیشتر ممالک کا میڈیا، بشمول پاکستان، اور دیگر پروپیگنڈا مشینری شام کی حکومت کی جانب سے ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں پر غم و غصے میں مبتلا ہیں۔ لیکن انہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم انسانوں کے قتل عام، گلے کاٹنے عورتوں اور بچیوں کی عصمت دری، اور ان کی کھلی مارکیٹ میں جانوروں کی طرح خرید و فروخت یاد نہیں۔ کل کے دہشت گرد آج کے ہیرو بن چکے ہیں۔ عقوبت خانے اور جیلیں شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں نہ ہوں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹس جو تمام ممالک کے بارے میں جاری ہوتی ہیں۔ ان پر ایک نظر ڈالی جائے۔ تو اس حمام میں تقریباً سارے ہی ایک جیسے ہیں۔ گوانتاناموبے اور ابو غریب جیل کی ویڈیوز کل کی بات ہیں۔ پاکستان کے اندر ہزاروں جبری گمشدگیوں کے کیس عدالتوں میں ہیں، اور کئی دہائیوں سے لوگ اپنوں کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔
مذہبی انتہا پسند ہمیشہ ایک آلے کے طور پر استعمال ہوتے آئے ہیں، ہو رہے ہیں، اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ بن لادن، ملا عمر، الظواہری، بغدادی، الجولانی، حلبی، قطبی، خراسانی، جلیبی، قلفی یہ سب مختلف ناموں اور شکلوں میں عالمی ایجنڈے اور ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے لیے استعمال ہوتے رہیں گے۔ مذہبی انتہا پسند محض مہرے ہیں جو بالآخر اپنے منطقی انجام تک پہنچتے ہیں۔
شام، جو کبھی مشرق و سطیٰ کا سب سے ترقی یافتہ ملک تھا، آج خانہ جنگی اور دہشت گردوں کے قبضے میں ہے۔ یہ جنگ قدرتی وسائل پر قبضے کی ہے۔ عالمی طاقتیں شام کو ایک کیک کے ٹکڑوں کی طرح تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔ آج جب شام کی تباہی پر بات کی جاتی ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تباہی عالمی طاقتوں کی مفاداتی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے دہشت گرد، خواہ وہ القاعدہ کے ہوں یا داعش کے، صرف ایک مہرے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف شام بلکہ دیگر سیکولر اور نسبتاً ترقی یافتہ مسلم ممالک کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔
شام کی موجودہ صورتحال عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار اور نیو ورلڈ آرڈر کی ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جہاں ایک دہشت گرد کل کا ولن ہوتا ہے اور آج کا ہیرو۔ یہ کھیل جاری رہے گا، جب تک کہ دنیا طاقت کے بجائے انصاف پر مبنی عالمی نظام قائم نہیں کرتی۔

