سولہ دسمبر کی تلخ یادیں
پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر کا دن ایک سانحہ کی علامت بن چکا ہے، جو نا صرف ایک قومی المیہ تھا بلکہ اس نے پاکستان کے عوام کے دلوں میں گہرے زخم بھی چھوڑے ہیں۔ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے حملے نے نہ صرف پاکستانی قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا، بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف ایک نیا پیغام بھی دیا۔ اس دن دہشت گردوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ پر جو ظلم ڈھایا، وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کی یادیں آج بھی ہر دل پر نقش ہیں۔
16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ صبح کے اوقات میں ہوا۔ حملہ آوروں کی تعداد سات تھی، اور یہ حملہ پاکستان طالبان تحریک کے دہشت گردوں نے کیا تھا۔ حملہ آور اسکول کے اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود بچوں، اساتذہ اور دیگر عملے کو یرغمال بنا لیا۔ ان دہشت گردوں کا مقصد اسکول میں پڑھنے والے فوجیوں کے بچوں کو نشانہ بنانا تھا، کیونکہ پاکستان کی فوج اور اس کے ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے۔ حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کر دی اور درجنوں بچوں، اساتذہ اور عملے کو ہلاک کر دیا۔
اس حملے میں 144 افراد اپنی جانوں سے گئے، جن میں 132 بچے شامل تھے۔ بچے نہ صرف پاکستانی قوم کا مستقبل تھے، بلکہ وہ ایک ایسے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ حملے کے بعد جب میڈیا نے اس کی تفصیلات نشر کیں، تو پورا ملک غم و غصے سے بھرا ہوا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی شدت اور معصوم افراد پر اس کے اثرات کو اجاگر کیا۔
اس دن آرمی پبلک اسکول میں پڑھنے والے بچے جب صبح کے وقت اسکول پہنچے، وہ بے فکر تھے اور اسکول کی معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ کلاسز جاری تھیں، بچے پڑھائی میں مشغول تھے، کھیل کود کے لئے بھی منصوبہ بندی ہو رہی تھی، لیکن اچانک اسکول میں دہشت گرد داخل ہو گئے۔ ایک بچہ جو اس سانحے کا عینی شاہد ہے، بتاتا ہے کہ ہم کلاس میں بیٹھے تھے اور استاد ہمیں سبق پڑھا رہے تھے کہ اچانک باہر سے فائرنگ کی آواز آئی۔ ہم سب خوفزدہ ہو گئے اور سمجھ ہی نہیں پائے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر ایک دم دہشت گرد اندر آ گئے اور انہوں نے ہمیں زمین پر گرنے کا حکم دیا۔ وہ مسلسل گالیاں دے رہے تھے اور ہمیں دھکیل رہے تھے۔ میں اور میرے دوست ایک دوسرے کے قریب ہو گئے، خوف کے مارے ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ ایک اور بچہ جسے حملے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا، بتاتا ہے کہ ہمیں بچانے کے لئے کچھ اساتذہ نے ہمیں چھپانے کی کوشش کی، لیکن دہشت گردوں نے ہمیں چھپنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ ہمیں بس موت کے خوف میں جینا پڑا۔ اس دن میرے دل میں ڈر اور غم کا ایسا طوفان تھا جو آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔
آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کا مقصد صرف فوجیوں کے بچوں کو قتل کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد پاکستانی قوم کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ حملہ آوروں کی کوشش تھی کہ وہ قوم کی اخلاقی قوت کو کمزور کر دیں اور دہشت گردی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کریں۔ لیکن اس حملے نے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ اس کے برعکس، پاکستان کی حکومت، فوج، اور عوام نے اس واقعے کے بعد یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ پوری قوم نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا عہد کیا۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستانی معاشرتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کے خلاف ایک نئی سوچ پیدا کی۔ پاکستان کی حکومت نے اس دن کے بعد دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے۔ نیشنل ایکشن پلان کا آغاز کیا گیا جس میں دہشت گردوں کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کرنے، دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے، اور شدت پسندوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ پاکستان کی فوج نے بھی اس حملے کے بعد آپریشن ضرب عضب کو تیز کیا، جس کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ کیا گیا۔ اس حملے کے بعد پاکستانی قوم نے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کا بین الاقوامی سطح پر بھی گہرا اثر پڑا۔ دنیا بھر میں اس حملے کی شدید مذمت کی گئی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اقوام متحدہ نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مختلف ممالک اور عالمی تنظیموں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اپنے اقدامات میں تعاون کی پیشکش کی اور اس بات کا عہد کیا کہ اس طرح کے وحشیانہ حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چند اہم ممالک نے بھی اس سانحے کے بعد پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور سعودی عرب شامل تھے۔ ان ممالک نے اپنے بیانات میں اس حملے کی سخت مذمت کی اور دہشت گردوں کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا۔
آرمی پبلک اسکول کے شہید بچوں کی یاد میں ہر سال 16 دسمبر کو ملک بھر میں خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن کو پاکستان میں ”یومِ شہداء“ کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے اور شہیدوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو نہ بھولیں اور ان کے مشن کو جاری رکھیں۔
16 دسمبر 2014 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک قومی المیہ تھا بلکہ اس نے پوری دنیا کو دہشت گردی کی حقیقی شکل دکھا کر یہ ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے پیچھے کسی کی اخلاقی یا سیاسی حمایت ہونی چاہیے۔ یہ حملہ ایک سبق تھا کہ اگرچہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکلات اور قربانیاں ہیں، لیکن ہم کبھی نہیں ہاریں گے۔ شہید بچوں کی قربانیاں ہماری قوم کے عزم اور طاقت کی علامت ہیں، اور ان کی قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا اثر پاکستان کے ہر فرد کے دل میں ہمیشہ رہے گا۔


