گل ورین اشاعت خاص اور مجلاتی صحافت


پشتو افسانہ نویس فہمیدہ کمال کی ادارت اور جوان سال نثر نگار آفتاب گلبن کی سعی تمام سے تسلسل اور جدت و تنوع کے ساتھ شائع ہونے والا پشتو سہ ماہی۔ ’گل ورین‘ ( گل پاش) گزشتہ کئی سالوں سے علم و ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔ مردان سے شائع ہونے والے اس ادبی، علمی اور ثقافتی کتابی سلسلے کی خاص بات مختلف موضوعات جیسے کرونائی ادب، خواتین افسانہ نویس نمبر، اور دوسری متفرق اشاعتیں ہیں۔ موضوعات اور ادبی منہاج کی حیثیت سے نئے تخلیقی تجربے کو وجود دینے میں اساسی کردار کا حامل یہ مجلہ ادبی لا مرکزیت کے دور میں نو آموز لکھاریوں او ر محققین کو ایک نئے منطقی، علمی اور فنی انداز سے لکھنے کا مرکز مہیا کر کے تخلیق و تحقیق کے بیش بہا مواقع فراہم کر رہا ہے اور با ایں وجہ علمی اور ادبی حلقوں میں بے چینی سے اس کی اشاعت کا انتظار رہتا ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران شائع شدہ بارہ شماروں کا ہر ایک موضوع کے لحاظ سے گویا ایک نئی اور منفرد کتاب ہے۔ ابتدائی دو شمارے فہمیدہ کمال اور سبا گل سباون کی ترتیب و تدوین سے شائع ہوئے۔ جس میں ’خواتین افسانہ نویس‘ کی اشاعتِ خاص پشتو ادبی تاریخ میں موضوعاتی طور پر سبقت و امتیاز کی حامل ہے۔

اگرچہ پشتو مجلاتی اور ادبی صحافت کی تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ’پشتون، اسلم، عدل، انصاف، رہبر، غنچہ، قند، اولس، اباسین، جمہور اسلام، پلوشہ، دوران، لیکنی، جرس، تماس، خکلا، لیکوال، مرکہ، دستار، الفت، و یاڑ، انعام، ننگ ناموس، نورنگ، مرام، حجرہ، گلبن، سپین غر، تلوسہ، ملغلرہ، پلوسہ، سانگہ، ٹولنہ، غگ، پاسون، شنہ زرغونہ، شیخ بدین، سپیدے، مزل، اور دیگر نام سامنے آتے ہیں۔ تاہم دورِ حاضر میں بجا طور پر منفرد حیثیت کا حامل گل ورین حجم، متن اور تنوعِ مضامین کے لحاظ سے گویا تمام ارتقائی سفر کا ماحصل ہے۔

محققہ و مصنفہ صفیہ حلیم کے مطابق خیبر پختونخوا کے ابتدائی مجلوں میں ’سرحد، انجمن، پیام حق، حمایت اسلام، پختو، نن پرون، وطن اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ، استقلال، رنا، مرام، جیندے، تاترہ، سیند، پت، کاروان، وگمے، شملہ، امیل، کلپانی، خال اور دردانے بھی وقتاً فوقتاً علم و ادب کی آبیاری کرتے رہے۔ ادب اطفال میں پشتو کا واحد مجلہ رنا بن ( فصل روشنی ) تحقیقی ادارہ مفکورہ سے بڑی باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔

اردو ابتدائی مجلوں میں الاخلاق، یار شاطر، خیبر، ہاتف، سنگ میل، دلچسپ، افغان کے نام آتے ہیں۔ تاہم جدید دور میں جریدہ، ابلاغ، آواز نو، خیالِ نو، قیادت، نوائے ملت، الحق، نیلاب، طوفان ڈائجسٹ، احساس، صفحات، املاک، تسلسل، کاروان حوا وغیرہ مسلم حیثیت کے حامل ہیں جس کی مزید تفصیلات عثمان شاہ کی کتاب ’صوبہ سرحد میں ادبی صحافت ( 1854 سے 2007 تک ) میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ ادب اطفال میں اردو مجلہ کونپلیں قابل ذکر ہے۔

پانچ سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل زیر بحث اشاعت خاص میں ’نسوانی ادب نمبر ( اکتوبر۔ نومبر 2024 ) ‘ موضوع کی جزئیات و کلیات اور قدیم و جدید علمی و ادبی تصورات کا شرح و بسط سے کلی احاطہ کرتا ہے۔ پشتو ادب میں ظاہر و باطن کے لحاظ سے اس بہترین مرقع کا مثیل و نظیر ملنا مشکل و محال ہے۔ اور یوں دانش جویانِ ادب کی تعمیر فکر کے لئے خشتِ اول کا کام دیتا ہے۔ مجلہ متنی اور موضوعاتی لحاظ سے تحریک نسائیت، رجحان اور ڈسکورس، نسائیت: ادب ایک نظر میں، تانیثیت اور روایتی/ شفاہی ادب، پشتو ادب میں تصور نسائیت، متفرقات، بیسویں صدی کی تین قابل فخر ہستیاں، معاصر نسائی ادب اور شاعری جیسے حصے اعلیٰ پائے کے علمی شہ پاروں اور قدیم و جدید افکار کے امتزاج سے مزین ہے۔ اس اشاعت خاص کا ہر مقالہ اپنے دامن میں ایک علمی پس منظر لئے ہوئے ہے۔ اور محققین فن تحقیق کے نئے اور روایتی طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے موقف کو زیادہ منطقی انداز میں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ مواد کے ربط و ترتیب میں بھی خوش سلیقگی اور پختگی فکر نظر آتے ہیں جس پر مدیرہ و معاون مبارک باد کے مستحق ہیں۔

پشتو ادبی تاریخ میں خواتین افسانہ نویس سیدہ بشریٰ بیگم، زیتون بانو، مبارک سلطانہ شمیم، ڈاکٹر سلمٰی شاہین، عصمت بی بی، صفیہ حلیم، ثروت جہان کوکب، رفعت خٹک، فہمیدہ کمال، سیدہ حسینہ گل، کلثوم زیب، فرشتہ بہار، سارہ خان، بلوچستان سے شفا کاکڑ، آرزو زیارتوالہ، اور افغانستان سے کبریٰ جان مظہری، پروین فیض زادہ ملال، وگمہ سبا عامر، شریفہ شریف، ہیلہ پسرلی اور دیگر نے جہان اور غمِ جہاں کو اپنی ہی نظر سے اپنے فن پاروں میں منعکس کیا ہے جس کا جداگانہ نفسیاتی تجزیہ کم ہی کیا گیا ہے۔ گل ورین اس تقاضے کے پورا کرنے کی عملی سعی میں سرخرو نظر آ رہا ہے۔

خمخانہ ادب کے پرانے بادہ کش، مزاح نویس اور ڈرامہ نگار پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایوں ہما اپنی تحقیقی کتاب ’سرحدی صوبہ کے د صحافت او ادبی مجلو روایت ( 1854 تا 1975 ع)‘ میں انصاف، الصادقہ، لار، پشتو، اسلام، انجمن، پیام حق، آزاد، تحفہ سرحد، المست، انگار، سیلاب، ستڑے مہ شے، جمہوریت، ہلال نو، خپلواک، ژوند، رنڑا، امن، کوھسار، وگمہ، صنوبر، شہباز، انجام، بانگ حرم وغیرہ کا جبکہ تعلیمی اداروں کے مجلوں کے ضمن میں، شفق، نیلاب، ہشتنغر، مالاکنڈ، کاغان، کنہار، چنار، ، خیبر، کرم، گندھارا، گومل کا ذکر کرتے ہیں۔ جس میں سینا، ہنڈ، سلاتورا، ایڈورڈین، باگرام، خیاباں، آرٹس اینڈ لیٹرز، پیوٹاج، جبکہ سندی تحقیقی مجلوں میں پشتو، پلٹنہ، تکتو، پشکلاوتی، اراکوزیا، اور پختونخوا کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں طلوع افغان، کابل، آئینہ عرفان، اتحاد مشرقی، وگمہ، اور دیگر بے شمار مجلوں نے زبان و ادب کی آبیاری میں بنیادی کردار ادا کیا اور چراغ سے چراغ روشن رکھنے کا یہ عمل تادم موجود جاری ہے۔ جن میں گل ورین صف اول میں رواں دواں ہے۔

Facebook Comments HS