میرا تن من نیلو نیل
مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ چکی ہے۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔
چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا۔
بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی۔
ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سے سوراخ سے باہر بہہ نکلا تھا۔
ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا، ہاتھ اور پاؤں کہیں۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا۔
ملتان میں پنکھے سے لٹکائی جانے والی بیٹی کا جسم تو مضروب تھا ہی گلا بھی دوپٹے کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا۔
گجرات میں ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی سب ہڈیاں چکنا چور تھیں۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں بچی کا موجود ہونا تھا۔
یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے۔
پھر بھی ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے اور آپ تمام مرد برادری کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتی ہیں؟ کیا نیک فطرت مردوں کا کال پڑ گیا؟
ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں، بے شک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا بھی ایک سوال ہے؟ ہمیں پوچھنا ہے سب مردوں سے کہ گھریلو تشدد کے سلسلے میں وہ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں؟ مخالفت؟ موافقت؟ اگر آپ گھریلو تشدد کے مخالفین میں سے ہیں تو آپ اس کے خاتمے کے لیے کیا سوچتے ہیں؟ آپ کا کردار اس میں کیا ہونا چاہیے؟ اور اگر آپ گھریلو تشدد کے حق میں ہیں تو کیا کبھی تجربہ کرنا چاہیں گے کہ جسم پہ ایک بھی ضرب لگے تو جسم کا کیا حال ہوتا ہے؟ آپ اس کو جسٹیفائی کیسے کرتے ہیں؟ اگر آپ کی بیٹی اور بہن اس کا شکار بنیں تب آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ کیا آپ کو دوسرے انسانوں پہ ہوتا ظلم مضطرب نہیں کرتا؟
اور اگر آپ نہ مخالف ہیں نہ موافق اور اس قضیے سے لاتعلق رہتے ہوئے ایک طرف ہو کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو تب آپ منافقین میں گنے جائیں گے کیونکہ ہر زندہ روح کی ایک رائے، کردار اور فرض ہوتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ مسئلہ مرد و عورت کا ہے ہی نہیں، یہ طاقت اور اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی اتھارٹی کی بھوک ہے جو اپنے سے کمزور کو گھائل کر کے اپنے دانت تیز کرتی ہے۔ معاشرے میں عورت کمزور ترین طبقہ ہے جس کے گرد شکنجہ کسنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ عورت کا قتل معاشرے کے گدلے جوہڑ میں کچھ دن کے لیے ارتعاش پیدا کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے جب تک ایک اور نہ ماری جائے۔
انصاف کی تلاش میں ورثا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ تاریخ پہ تاریخ پڑتی ہے، ضمانتیں ہوتی ہیں اور فائلیں شب و روز کی گرد میں دبتی چلی جاتیں ہیں۔ نہ قانون بدلتا ہے نہ لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ریاست عورتوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے کو تیار ہوتی ہے۔
حل کیا ہے؟
معاشرے کا ہر فرد اس کے متعلق نہ صرف آگہی رکھے بلکہ اس کو انتہائی برا سمجھتے ہوئے اس کے خلاف آواز اُٹھائے۔ آوازوں کا قافلہ بنے جو نہ صرف دھرتی کو ہلائے بلکہ آسمان میں بھی شگاف ڈال دے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے، انسانیت کا تقاضا ہے کہ عدم سے آنے والی روحوں کو کسی خانے میں تقسیم نہ کیا جائے اور طاقتور جسم، کمزور جسم کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش سے باز رہے۔ دنیا تب ہی گلزار ہو گی!


"ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں، بے شک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے۔”
–
ان معاملات پر کون بے حس ہوگا جو سراہے گا یا دامے درمے سخنے "مظلوم” کی مدد کو آگے نہیں آئے گا۔
اس مضمون کی متعدد باتوں کو اصلاح کی ضرورت ہے۔
عورت معاشرے کا کمزور ترین طبقہ نہیں ہے یہ بچے ہیں جن کو کمزور ترین کہا جاسکتا ہے اور یہ لڑکے بھی ہوسکتے ہیں اور بچیاں بھی۔
بالغ عورت تو بہت کچھ کرسکتی اگر کرنا چاہے۔ اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے گرد بندھی زنجیروں کو توڑ دے۔ یہ ظاہر ہے معاشرے یا نظام یا خاندان سے بغاوت ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں انقلاب بھی آسکتا ہے اور موت بھی۔
عورتوں پر مظالم صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوتے۔ ہماری عدالتیں جس نظام کے تحت کام کرتی ہیں وہ ایک فضول اور ناکارہ نظام ہے جس سے انصاف کی توقع رکھنا۔ کریلے کی بیل پر آم کا پھل لگنے کی توقع جیسا ہے۔
لیکن یہ مسائل تو مغربی یا ترقی یافتہ ممالک میں بھی واقع ہوتے جہاں انصاف اور عدالتی نطام ہم سے سینکڑوں گنا بہتر ہے۔ کیا وہاں عورتوں پر تنخواہ سے لے کر ہراسگی اور زیادتی کے واقعات نہیں ہوتے جن کا نتیجہ موت پر نکلتا ہے۔ ہمارے یہاں تو بیٹی کی پیدائش پر ظلم مرد تو کم کرتا ہے کبھی کھاتے کھولیں تو معلوم ہوگا خود دوسری عورت جو ساس یا نند کی شکل میں ہوتی ہے وہ بیٹی کی ماں پر زیادہ ظلم ڈھاتی ہے۔
متعدد گھروں میں مرد پھر بھی اس ٹریپ میں نہیں آتے لیکن جب ماں اور بہن کی طرف سے ان پر روزانہ یہ طنز کے قطرے گرتے ہیں تو ان کے پتھر میں بھی سوراخ ہوجاتا ہے۔
یہ کہانی زمیندار گھرانوں میں اور زیادہ ہے ۔
عرب ممالک میں ہمارے مقابلے میں عورتوں پر کم ظلم نہیں ہوتا لیکن وہاں باپ کو اتنی تکلیف اس لئے نہیں ہوتی کہ متعدد عرب قبائل میں لڑکی کا حق مہر اتنا ہوتا ہے کہ لڑکی کے باپ پر شادی کے اخراجات یا جہیز کا بوجھ نہیں پڑتا۔ لیکن اس کا نقسان یہ نکلتا ہے کہ بیوی کو برابر کا مقام نہیں مل پاتا اور وہ صرف ایک خریدی گئی جنس تصور کی جاتی ہے۔
–
آپ کا اوپر والا جملہ کے "ہر بار ایک مرد ہی ہوتا ہے”۔
ڈسکہ میں مرنے والی "زہرہ” کا آپ نے تذکرہ کرتے ہوئے خوب صورتی سے ساس اور نند کی بجائے "سسرال والوں” کی اصطلاح استعمال کرلی۔ واہ !
–
حقیقیت تو یہ ہے کہ پاکستانی نطام میں عورت کی سب سے بڑی دشمن عورت ہی ہے۔ ہر واقعے کے پیچھے تحقیق کریں تو مردوں سے زیادہ آگ لگانے میں عورت کا ہاتھ بھی ہوگا۔ (ظاہر ہے ہر جگہ نہیں)۔ لیکن متعدد جگہوں پر اگر دوسری عورت چاہے تو مرد ہاتھ مطلوم عورت پر اٹھنے سے روک سکتی ہے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرتی۔
–
چند سال پہلے لاہور سے سیالکوٹ آتے موٹر وے پر ایک شادی شادہ خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ۔ مجرم مرد تھے اور پکڑے گئے۔ لیکن کیا ہمیں احساس ہے کہ وہ کیا وجہ تھی کہ وہ بے چاری پڑھی لکھی عورت اتنی رات گئے لاہور سے سیالکوٹ سفر کرنے پر مجبور ہوئی ؟ اس کی ساس کا وہ دباؤ کہ کچھ ہوجائے تم نے رات اپنے میکے میں نہیں بلکہ سسرال میں گزارنی ہے ورنہ میں تمہارے شوہر کو ۔۔۔۔۔
–
پچھلے سال سندھ خیرپور میں پیر اسد شاہ کے گھر ایک معصوم بچی "فاطمہ فرو” نے ہر طرح کے ظلم برداشت کرتے ہوئے ۔ اسد شاہ نے بچی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اپنی جگہ کیا اس گھر کی عورت نے ظلم کو روکنے میں کوئی کردار ادا کیا ؟
اسی طرح میں متعدد پڑھی لکھی اور متمول خواتین کو جانتا ہوں جو اپنے گھر کام کرنے والی ملازماؤں پر تشدد کرکے اپنی فرسٹریشن نکالتی ہیں۔ مرد بھی اس کو نہ روکنے یا اپنا حصہ ڈالتے ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر گھر کی عورت چاہے تو کیا یہ ظلم روکا نہیں جاسکتا۔
متعدد خواتین جو عورتوں کی حقوق کی بات کرتی ہیں اور اینکر صحافی خواتین (ایک بڑی تعداد ہے) جو اپنے گھر کام کرنے والی کم عمر ملازمہ یا نوکر پر بے دریغ ظلم کرتی ہیں۔
–
دور کیوں جائیں۔ ایاز میر کے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کا معاملہ دیکھ لیں۔ کیا لڑکے کی ماں سب کچھ نہیں دیکھ رہی تھی کہ گھر میں کیا ہورہا ہے ؟
–
پچھلے سال برطانیہ میں قتل ہونے والی بچی سارہ شریف کو دیکھ لیں۔ ترقی یافتہ ملک ہے۔ گھر میں دو مرد تھے لیکن آگ دوسری بیوی اور سوتیلی ماں بینش بتول لگاتی تھی۔ کیا وہ اپنی ہم جنس پر ہونے والے ظلم کو روک نہیں سکتی تھی یا اداروں کو آگاہ کرسکتی تھی۔
–
بہرحال جس طرح مکھیاں ہمیشہ صاف جسم کو چھوڑ کر جسم کے گندے حصے یا ناسور پر بیٹھتی ہیں ہمارے یہاں پدرسری معاشرے اور مردوں کی برائیاں کرکے روتے رہنا ایک عام چلن بن گیا ہے۔
–
جہیز یا بیٹا نہ ہونے کے معاملے پر گھر کی بہو پر تشدد عورتیں زیادہ کرتی ہیں۔ اسی طرح متعدد بہو اس لئے مارکھاتی ہیں کیوں کہ ساس کا پریشر ہوتا ہے کہ بہو اپنے گھر والوں کو مجبور کرے کہ اس کا بھائی گھر کی نکمی لڑکی سے بالضرور شادی کرے۔
–
حیرت تو یہ ہے کہ ساس جس چاؤ سے اپنی بھتیجی یا بھانجی گھر لاتی ہے کچھ عرصے بعد وہی چاند سے بہو آنکھ کے تارے سے اسے زندگی کا ناسور دکھنے لگتی ہے۔
–
کل یہاں ایک مضمون چھپا۔ جیا امیتابھ بچن چڑچڑی کیوں ہے؟
–
کہانی میں سارا الزام امیتابھ کی بے وفائی پر ڈال دیا گیا جو 35 سال پہلے ختم ہوچکا۔ اور اصل معاملہ خاتون لکھاری پی گئیں۔
جیا بچن کی 50 سالہ بیٹی ۔ شویتا کی شادی ایک امیر لڑکے نکھیل آنند سے ہوئی جو خود بھی راج کپور کا نواسہ ہے۔ اس کی ماں یعنی شویتا کی ساس خود ایک پرابلم چائلڈ رہی ہے۔ شویتا خود بھی بڑی اولاد اور اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے ایک مغرور اور سنکی لڑکی رہی نتیجہ اس کی ساس اور شوہر سے نہیں نبھی اور وہ کئی سالوں سے اپنی ماں باپ یعنی امیتابھ اور جیا کے گھر بیٹھی ہوئی ہے۔
تنک مزاج شویتا بچن نے سب سے پہلے ایشوریہ اور اپنے بھائی ابھیشک کے درمیان مسائل کھڑے کئے جس لڑائی میں جیا بچن نے ہمیشہ ایک روایتی ساس کے طور پر بیٹی کا ساتھ دیا اور یوں چند سال سے ایشوریہ بھی گھر چھوڑ کر جاچکی ہے۔ اور قصور کس کا ۔ امیتابھ اور ابھیشک بچن کا !
واہ رے دنیا !
میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف مرد۔
افسوس اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ ہر مظلوم عورت پر ہونے والی زیادتی کے پیچھے ایک مرد تو نظر آجاتا ہے لیکن ہر کامیاب اور اچھی عورت کے پیچھے (اچھے مرد) کبھی نظر نہیں آتے جو تعداد میں ان خراب مردوں سے کہیں زیادہ ہیں جن کو ملعون اور مطعون کیا جاتا ہے۔
کس طرح یہ اچھے مرد اپنے خاندان یا معاشرے سے بغاوت کرکے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلاتے ہیں یا کھیل یا من پسند فن کی تربیت حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں اور معاشرے اور خاندان کے لوگوں کے دباؤ کو بھی برداشت کرتے ہیں۔
بہو پر تیل چھڑک کر آگ لگانے والی ساس اور نند کا کبھ ذکر بد نہیں ہوتا جب کے گھروں میں مٹی کے تیل کے چولہے صرف بہو کے لئے پھٹتے ہیں کبھی نند یا ساس کے لئے نہیں !