عشق کی تقویم اور گوڈیل کا نظریہ حیات بعد الموت
پوسٹ ٹروتھ کے اس ہنگام میں جب کہ معلومات، علم، اور حکمت کے درمیان شناخت کی سرحدیں مٹ رہی ہیں، ہر ذی شعور انسان ایک ان دیکھے وجودی بحران میں مبتلا ہے۔ ترک ناول نگار، الف شفق، کے مطابق بعض اس کا ادراک نہیں کر پا رہے ہیں اور بعض جان بوجھ کر باقی صدیقی کے اس شعر کی جیتی جاگتی مثال بنے ہوئے ہیں :
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو
مغربی ایشیا سے بحیرہ اسود تک، جسے میکنڈر، ہارٹ لینڈ اور فرانکوپان، سلک روڈز کہتے ہیں، اس وقت ایک خوفناک جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ گلوبل ساؤتھ پر اس وقت مایوسی کے وہ بادل چھائے ہیں، جو پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں مغربی دنیا کو لپیٹ میں لئے ہوئے تھے۔ تہذیبی کشمکش میں جب کہ ہمارے ہاں ”Madness of the crowds“ کی وجہ سے خرد اور دانش کی زمینوں میں دھول اڑ رہی ہے، یورپ اور شمالی امریکہ میں Libertarian سوچ سے ایک اور تقویم کے خد و خال سنوارے جا رہے ہیں۔
پیٹر تھئیل بہت سوں کے نزدیک ایک متنازعہ شخصیت ہوں گے۔ پے پال کے باس کے طور پر شہرت پانے والے اس جرمن نژاد امریکی نے فیسبک سے لے کر سپیس ایکس تک، اور Palantir کے ذریعے دفاعی اور جاسوسی کے اداروں میں خطیر سرمایہ کاری کے ذریعے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔ کئی لوگوں کے علم میں نہیں ہو گا مگر تھئیل ہی وہ شخص ہے جس نے ٹرمپ کی سیاسی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ؛ نائب صدر، جے ڈی ونس، کو بھی سیاست میں وہی لائے ہیں، اور ونس انہیں باقاعدہ اپنا مینٹور مانتے ہیں۔ آج سے دس سال پہلے ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ bytes اور atoms میں ہم ترقی کا وہ توازن نہ رکھ سکے جس سے کائنات اور نوع انسانی کا تصور تبدیل ہو جاتا: یعنی ٹیکنالوجی اور سماجی ارتقا میں ایک وسیع خلیج حائل ہو گئی ہے۔ تھئیل کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم موت سے اب تک کیونکر نجات حاصل نہ کرسکے، یا پھر کم از کم انسانی عمر میں اضافہ کیوں نہ ہوسکا۔ پلانٹر ٹیکنالوجیز اس وقت بایو ٹیکنالوجی اور جیرونٹولوجی میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہی میں سے ایک کمپنی کا یہ دعویٰ ہے کہ پہلا انسان جو ہزار سال تک جی سکے گا، روئے زمین پر اس وقت زندہ ہے، تاہم مزید تفصیلات دینے سے وہ ابھی گریزاں ہے۔
ارنسٹ بیکر کی کتاب ”The Denial of Death“ آپ میں سے بہت سوں نے پڑھی ہوگی۔ موت اور فنا کے سامنے بے بسی انسان کا ایک قدیمی وجودی اور فلسفیانہ اشکال ہے، جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے کئی سماجی اداروں، مذاہب اور دیگر علوم کی بنیاد پڑ گئی۔
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
ہست و بود کے اس گنجلک کے متعلق میر تقی میر کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے :
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
2023 میں ریلیز ہونے والی کرسٹوفر نولن کی شہرہ آفاق فلم ”Oppenheimer“ کے ایک منظر میں آئنسٹائن اور ڈاکٹر کرٹ گوڈیل کو دکھایا گیا ہے۔
آئنسٹائن کے بقول Institute of Advanced Studies میں اس کا کام تمام ہو چکا تھا۔ اب یہاں رکنے کا صرف ایک ہی مقصد تھا، اور وہ تھا گوڈیل کے ساتھ شام کی چہل قدمی کرنا۔
اتفاق سے اس وقت گوڈیل کی سوانح عمری ”Journey to the edge of reason“ میرے زیر مطالعہ ہے۔
Set Theory، Incompleteness theorems کے علاوہ گوڈیل کو Mathematical Platonism کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ ریاضی، منطق، اور کمپیوٹر میں قابل قدر خدمات کے علاوہ وہ فلسفے اور مذہب میں بھی خاصی درک رکھتے تھے۔ اگرچہ اپنے مذہبی خیالات کو وہ نجی زندگی تک محدود رکھتے تھے، تاہم اپنی والدہ، مریان گوڈیل، کے نام لکھے گئے چار خطوط میں اس نے مذہب، حیات بعد الموت پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ گوڈیل مادیت پسند نہیں تھا بلکہ وہ کانٹ اور گوٹفریڈ لائبنیز سے خاصا متاثر تھا۔ 1940 میں آسٹریا سے ہجرت کے بعد وہ واپس دوبارہ اپنے گھر نہیں گیا۔ اپنی ماں اور بھائی سے ایک بار 1951 میں ملاقات کا موقع ملا۔ گوڈیل کو اپنی والدہ سے خاصی قربت اور محبت تھی۔
اپنے خطوط میں گوڈیل اس زندگی کے اختتام پر دوسری، مگر مکمل اور خامیوں سے پاک، زندگی کے لئے مضبوط منطقی جواز پیش کرتا ہے۔ گوڈیل کے مطابق اگر انسانی زندگی میں عقلیت پسندی کا عنصر پایا جاتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے یقیناً روح کی بقا ضروری ہے۔
انسان ایک فروغ پذیر نوع ہے جس کی تکمیل اس مختصر عمر میں ہونا ناممکن ہے۔ چوتھے خط میں وہ اپنے Incompleteness theorems اور منطق سے حیات بعد الموت کے لیے بڑے خوبصورت دلائل پیش کرتا ہے۔
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا
اور بھی ہیں زمانے جس کا نہیں کوئی نام
اپنے زیر مطالعہ بائبل میں اس نے پنسل سے ”کورنتھئنز کے نام سینٹ پال کے خطوط“ کو نشان زد کیا ہے، جس کی آیت نمبر 44 میں سینٹ پال کہتا ہے کہ ایک تناور درخت کے وجود کے لئے بیج کا ختم ہونا ضروری ہے، عین اسی طرح ایک مکمل اور روحانی زندگی کے لئے اس مادی وجود کا فنا ہونا ضروری ہے۔ گوڈیل کے مطابق سینٹ پال الہام (Prophetic vision) کے ذریعے درست اور منطقی نتیجے پر پہنچا۔
گوڈیل چونکہ ویانا کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، اس لئے نازی جرمنی کی دہشت ان کے تحت الشعور میں بیٹھ گئی تھی۔ امریکہ آنے کے بعد بھی اس کو یہ وہم لاحق ہو گیا کہ اس کے کھانے میں زہر ملایا جا رہا ہے۔ آخر میں اس نے خوراک لینے سے بالکل انکار کر دیا اور یہی اس کی موت کی وجہ بنی۔ ایک طرف اگر یہ خوبصورت اور زرخیز ذہن ایک واہمے کی گتھی نہیں سلجھا سکا، تو دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو اپنی موت کے ذریعے اپنے اس آفاقی تھیورم کو کہ ”ایک نظام میں موجود عناصر کے ذریعے اس نظام کی مکمل سچائی دریافت نہیں کی جا سکتی“ کو وہ ثابت کر گیا۔ بقا کی تلاش میں سرگرداں گوڈیل ایک حماقت خیز واہمے سے شکست کھا گیا۔ مگر اس کے نظریات اور خیالات خاصے امید افزاء ہیں۔ گوڈیل کے نظریات اور منطقی دلائل شاید کئی صدیوں بعد انسانی بقاء کی راہ ہموار کردے۔
ہمارے اپنے عبقری زمانہ، خان عبد الغنی خان، کیا خوبصورت شعر کہہ گئے ہیں :
چغی وہی اجل، ملا، تہئی اوری کہ نہ اوری
تشہ خاورہ نہ دہ غنی، څنګہ بہ شی خاوری



