پامسٹری کی کرامت
یہ واقعہ آج سے چالیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔
کینیڈا میں چند سال گزارنے کے بعد جی میں خیال آیا کہ پاکستان کی سیر کی جائے اور اپنے عزیزوں، اپنے رشتہ داروں، اپنے پیاروں اور اپنے یاروں سے ملاقات کی جائے۔ اس وقت میرے پاس دو پاسپورٹ تھے۔ ایک پاکستانی اور ایک کینیڈین پاسپورٹ لیکن اتنا وقت گزرنے کی وجہ سے میرا پاکستانی پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا تھا۔ اب میرے پاس پاکستان جانے کے دو راستے تھے
یا تو میں کینیڈین پاسپورٹ پر ٹورسٹ ویزا لگواؤں
یا نیا پاکستانی پاسپورٹ بنواؤں
میں نے فیصلہ کیا کہ میں پہلی دفعہ پاکستان جا رہا ہوں تو پاکستانی پاسپورٹ پر ہی جاؤں۔ چنانچہ میں نے درخواست جمع کروائی اور نیا پاکستانی پاسپورٹ بنوایا۔ پاکستان کا ٹکٹ خریدا اور ٹورانٹو سے پی آئی اے کی پرواز سے کراچی پہنچ گیا۔ مجھے وہاں سے چند گھنٹے بعد لاہور کی پرواز لینی تھی۔
کراچی ائرپورٹ پر دو قطاریں دکھائی دیں۔
ایک قطار پاکستانیوں کی لیے تھی جو واپس گھر آ رہے تھے
دوسری قطار غیر ملکی مسافروں کی تھی جو پاکستان سیر کرنے جا رہے تھے۔
میں پاکستانی شہریوں کی قطار میں کھڑا ہو گیا۔ طویل مسافت کے بعد مسافر تھکے ہوئے جمائیاں لے رہے تھے۔
میرے آگے ایک چھوٹے سے قد کا مسافر تھا۔
جب دو گھنٹوں کے انتظار بسیار کے بعد ہم امیگریشن افسر کے پاس پہنچے تو میں نے مجھ سے اگلے مسافر اور امیگریشن افسر کا مکالمہ سنا جو کچھ یوں تھا
افسر: یہ آپ کا نیا پاسپورٹ ہے؟
مسافر: جی ہاں
افسر: آپ نے یہ نیا پاسپورٹ کب حاصل کیا؟
مسافر: پچھلے مہینے
افسر: پرانا پاسپورٹ کہاں ہے؟
مسافر: ٹیکساس میں
افسر: ایسا کیوں ہے؟
مسافر: نیا پاسپورٹ ملنے کے بعد میں سمجھا مجھے پرانا پاسپورٹ ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے
افسر: آپ کو اپنا پرانا پاسپورٹ اپنے ساتھ رکھنا چاہیے تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ آپ پاکستان سے کب گئے تھے۔
مسافر: افسر میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان لوٹ رہا ہوں۔
افسر اور مسافر کا مکالمہ سن کر مجھے احساس ہوا کہ اس مسافر کی کہانی میری کہانی کی طرح ہے۔
میں بھی پرانا پاسپورٹ اپنے ساتھ نہ لایا تھا۔
اب میں سوچنے لگا کہ افسر اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
افسر نے کہا
اس دفعہ تو میں آپ کو جانے دیتا ہوں لیکن اگلی دفعہ آپ اپنا پرانا پاسپورٹ ساتھ رکھیں۔
مجھے یہ جان کر قدرے تسلی ہوئی کہ افسر ہمدرد ہے لیکن ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک اور افسر آیا۔ دوسرے افسر نے پہلے افسر سے کچھ سرگوشی میں کہا اور پہلا افسر اٹھ کر چلا گیا اور دوسرا افسر اس کرسی پر بیٹھ گیا۔ میری قسمت دیکھیں کہ دوسرا افسر پہلے افسر کی طرح مہربان نہ تھا۔ اس نے مجھ سے کہا
آپ پرانے پاسپورٹ کے بغیر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ آپ کو امیگریشن کی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ
آپ کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے
جیل بھیجا جائے
یا واپس کینیڈا بھیج دیا جائے۔
افسر کے لہجے میں تحکم تھا جو مجھے اچھا نہ لگا
افسر مجھے ایک کمرے میں لے گیا جہاں چند اور مسافر بھی بیٹھے تھے۔ افسر نے مجھ سے کہا
آپ یہاں انتظار کریں۔ جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کا نام پکارا جائے گا اور آپ عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔
اس لمحے میں نے سوچا کہ میرا نیا پاکستانی پاسپورٹ بنوانا مجھے مہنگا پڑا۔ اگر میں کینیڈین پاسپورٹ پر آتا تو شاید مجھے ایسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اس کمرے میں جو لوگ بیٹھے تھے وہ بھی امیگریشن عدالت میں بلائے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔
میں نے ان لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ ایکسپائرڈ پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے وہ اپنے پرانے پاسپورٹ کی تجدید کروانا بھول گئے تھے۔
ایک مسافر کا نام پکارا گیا
پھر دوسرے مسافر کا
پھر تیسرے مسافر کا
چونکہ وہ مسافر لوٹ کر نہ آئے اس لیے مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ ان کی زندگی کا کیا فیصلہ ہوا۔
اب میری باری تھی۔ میرا کسی امیگریشن عدالت میں جانے کا یہ پہلا موقع تھا۔
جب ایک افسر نے کہا
خالد سہیل
تو میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور عدالت کے کمرے میں داخل ہوا۔
میرے سامنے ایک میز تھا جس پر ایک افسر بیٹھا تھا۔ میز کی دوسری طرف ایک خالی کرسی تھی۔
دائیں طرف تین کرسیوں پر تین افسر بیٹھے تھے۔
میز پر میرا پاسپورٹ پڑا تھا۔
افسر نے مجھے بیٹھنے کو کہا اور میں بیٹھ گیا۔
افسر نے پوچھا آپ کہاں رہتے ہیں؟
میں نے کہا کینیڈا میں۔
آپ کینیڈا میں کیا کام کرتے ہیں؟
میں نے کہا میں ایک سائیکاٹرسٹ ہوں
افسر کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی اور کہنے لگا
کیا آپ پامسٹری جانتے ہیں؟
میں نے سوچا یہ کیسا امیگریشن افسر ہے جو نفسیات کا رشتہ پامسٹری سے جوڑ رہا ہے۔ میرے جی میں نجانے کیا آیا میں نے کہا
جی ہاں جانتا ہوں
اس افسر نے اپنی دونوں ہتھیلیاں میز پر رکھ دیں
میں نے افسر کی دونوں ہتھیلیوں کو غور سے دیکھا۔ ماضی کا تجربہ تو دختران خوش گل کی نازک ہتھیلیوں کو دیکھنے کا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ میں ایک امیگریشن افسر ایک مرد کے کرخت ہاتھ اور سخت ہتھیلیاں دیکھ رہا تھا کیونکہ حالات نازک موڑ اختیار کر چکے تھے۔
میں کافی دیر تک بڑے غور سے ہتھیلیاں دیکھتا رہا اور سر کھجاتا رہا
پھر میں نے کہا
آپ کی لکیریں بہت دلچسپ ہیں۔ دو اہم باتیں بتانا چاہوں گا
ضرور بتائیں۔ افسر نے بڑے شوق سے کہا
آپ کے دفتر میں کوئی صاحب کام کرتے ہیں جو آپ سے حسد کرتے ہیں
افسر نے دوسری طرف بیٹھے تین افسروں کی طرف دیکھا قہقہہ لگایا اور کہا
وہ ضرور عبدالجبار ہو گا۔ وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے اور میری نوکری لینا چاہتا ہے
باقی تین افسر بھی زور زور سے ہنسے
مجھے اندازہ ہوا کہ میرا ایک تیر تو نشانے پر لگا۔ کمرے میں جو ٹینشن تھی وہ کم ہو گئی۔ میری نفسیات کام کر رہی تھی۔
پھر میں نے کہا
آپ کے خاندان میں ایک خوبصورت عورت ہے جو آپ کو بہت پسند کرتی ہے لیکن وہ اپنے پیار کا اظہار نہیں کر سکتی کیونکہ وہ بہت شرمیلی ہے
افسر نے ایک اور قہقہہ لگایا اور دوستوں سے کہا
وہ ضرور میری کزن عارفہ ہوگی
اور وہ سب بھی ہنسے
افسر نے مجھے میرا پاسپورٹ لوٹاتے ہوئے کہا
آپ بہت قابل سائیکاٹرسٹ ہیں
اور میں دل ہی دل میں مسکرایا
میں پاسپورٹ لے کر کمرے سے باہر نکلنے لگا تو ساتھ بیٹھا ایک افسر اٹھا اور اس نے باہر جانے والا دروازہ بڑے زور سے بند کیا۔
میں چند لمحوں کے لیے گھبرا گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ میرے خلاف فیصلہ نہ سنا دے۔
وہ افسر مڑا مسکرایا اور کہنے لگا
ڈاکٹر صاحب جانے سے پہلے ہمارے ہاتھ بھی دیکھتے جائیں۔
اور میں بھی مسکرانے لگا
۔


