سوچنا منع ہے


ہمارے محلے کے مولوی صاحب روزانہ نماز فجر کے بعد مائیک پر درس دیتے ہیں تاکہ محلے کا کوئی نکڑ و کنارا ان کی خوش الحانی سے محروم نہ رہے، ایک روز ناصحانہ انداز میں فرمانے لگے کہ یہ جو ایک کلیشے سا بنا ہوا ہے کہ ”سنو سب کی لیکن مانو اپنے من کی“ یہ انتہائی خطرناک قسم کا ذہنی رجحان ہے، جس کے اثرات گمراہی کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں، بہت سارے لوگ انہی چکروں میں اپنا مسلک تبدیل کر لیتے ہیں اور کچھ تو مذہب سے ہی کنارا کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر وہابی یا دیوبندی ہو جاتے ہیں، اپنا مسلک تبدیل کر لینا بھی ایک طرح کی گمراہی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے خود بھی گمراہی سے بچیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں۔ اپنے مسلک کے علاوہ کسی دوسرے کی مت سنو اور اپنے مسلک کے ہی امام کے پیچھے نماز و جمعہ اور عیدین پڑھنے کو ترجیح دیں تاکہ فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔

اب موصوف دوسرے اپنے ہی ہم مذہب فرقوں کو فتنے گردان رہے ہیں حالانکہ وہ خود بھی تو فتنہ ہیں، کیونکہ وہ بھی تو ایک فرقہ ہی ہیں، بدلتے حقائق سے بے نیاز یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم آج انٹرنیٹ کی بدولت سوشل میڈیا اور معلومات کے سیلاب کے دور میں جی رہے ہیں۔ تم ابھی روزی روٹی کے چکروں میں آپس میں ہی دست و گریباں ہو، تم کیا جانو کہ نجانے کتنے فتنے منہ کھولے کھڑے ہیں جو چیٹ جی پی ٹی اور دیگر ٹیکنالوجی کی صورت میں نوجوانوں کو صبح نو کی نوید سنا رہے ہیں اور اب سوال یہ ہے کہ جو نوجوان نئے افکار سے استفادہ کر رہے ہیں ان کو بھلا کیسے روکا جا سکتا ہے؟

یہ مولانا صاحب اکثر وظائف بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں عمل کرلو تو قرضے کا بوجھ آپ کے سر سے اتر جائے گا، فلاں کرو گے تو آپ کا رزق کشادہ ہو جائے گا۔ ایک لمحے کے لیے ان کی بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے سرکار، کہ آنجناب خود کیوں ہسپتالوں کے چکر کاٹتے رہتے ہیں؟ آپ کا کام تو امامت کروانا تھا تو پھر تعویذ گنڈے کا تکلف کیسا جناب؟ اور ان تعویزوں کی اقسام بھی ہیں اور اسی حساب سے ریٹ بھی ہوتے ہیں، کیا ان تعویزوں سے حاصل شدہ کمائی غریبوں کو دان کی جاتی ہے یا قادر مطلق کے راستے پر خرچ کی جاتی ہے؟

یہ بھوک کتنی ظالم ہوتی ہے نا! ذرا سا بھرم بھی رہنے نہیں دیتی۔ کیا جنازے، نکاح یا ختم، فی سبیل اللہ پڑھائے جاتے ہیں؟ اگر قادر مطلق کی درست تابعداری اور حکم کی بجا آ وری کے بعد بھی آپ کی پوری نہیں پڑتی تو پھر عوام کو وظائف بتانے کا کیا مقصد؟

گزشتہ دنوں ہیپاٹائٹس اور دل کی بیماریوں کے متعلق وظائف بتا رہے تھے کہ اگر یہ عمل کر لیا جائے تو ہیپاٹائٹس اور دل کی بیماریوں سے نجات مل جائے گی۔ ایک روز فرما رہے تھے کہ رزق کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہیے، رزق تو دنیا میں آ نے والا خود اپنے ساتھ لاتا ہے اور جتنی مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگی ہم اکثریت میں رہیں گے۔ ٹھیک ہے جناب! مان لیتے ہیں ممکن آپ درست فرما رہے ہوں، لیکن بصد احترام کچھ سوالات ذہن میں آ رہے ہیں اگر مناسب سمجھیں تو جواب عنایت فرما دیجیے۔

کیا ہمارا مذہب و عقیدہ یا مسلک اس قدر کمزور ہے جو کسی ایرے غیرے کے سوال کی چوٹ برداشت نہ کر سکے یا ذرا سا مختلف بیانیہ کان میں پڑ جانے سے ہم متزلزل ہو سکتے ہیں؟ اگر حقانیت یا اپنے مذہب و عقیدے کے سچ ہونے کا دعویٰ دل و دماغ اور ایمان کی اتھاہ گہرائیوں سے ہے تو پھر دوسرے موقف یا مختلف سوچ کے فتنے سے کس بات کا ڈر؟ ڈرنا تو جھوٹ کو چاہیے نا، سچ تو سامنے ہوتا ہے، اسے ثابت کرنے کے لیے کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اگر اس کے برعکس ہو رہا ہے، لوگ سوال اٹھانے لگے ہیں یا اکثریت فتنوں کی طرف مائل ہو کر لپکنے لگی ہے تو پھر ہمیں بھی سوچنا ہو گا نا کہ آ خر کیا وجہ ہے کہ پختہ ایمان و یقین والے ڈگمگائے لگے ہیں؟

حالیہ سروے تو یہی بتا رہے ہیں کہ لوگ مذہب بیزار ہوتے جا رہے ہیں، اب اسے گمراہی کہیں یا افکار تازہ کے اثرات یا فتنوں کا حملہ؟ کچھ بھی کہیں کیا فرق پڑتا ہے لیکن ایک بات تو بہرحال طے ہے کہ مذہب کو خاصے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن صاحبان جبہ و دستار آ پس میں ہی الجھتے رہتے ہیں۔

اگر عملیات و وظائف سے رزق کشادہ ہو جاتا ہے تو سرکار ہر جمعرات کی صبح امام صاحب مسجد کا اسپیکر کھول کر لوگوں سے چندے کی اپیل کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ آپ کے بتائے ہوئے وظائف کا اثر صرف عوام پر ہی ہوتا ہے خود اس کی برکات سمیٹنے میں ناکام کیوں رہ جاتے ہیں؟ کتنی عجیب بات ہے نا جس در کی چوکھٹ سے سب کو سب کچھ ملتا ہے آپ وہیں کھڑے ہو کر چندے کی صدائیں لگا رہے ہوتے ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ ہم ایسے سادہ لوحوں کو حیرانی ہوتی ہے جب ہم درگاہوں اور مساجد کے دروازوں پر غلے نصب دیکھتے ہیں جس میں وہی لوگ پیسے ڈال رہے ہوتے ہیں جو اندر گڑگڑا کر دولت کی فراوانی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جو قادر مطلق ہے اور سب کو نوازتا ہے اس کو اپنا نظام حیات چلانے یا اپنا گھر جسے مسجد کہتے ہیں کو چلانے کے لیے چندے کی ضرورت درکار ہوگی؟ اگر اسے ضرورت نہیں تو پھر ان غلوں پر کن کی اجارہ داری قائم ہے؟

اگر وظائف سے جسمانی بیماریوں کا تسلی بخش علاج ممکن ہے تو ہسپتال مریضوں سے کیوں بھرے پڑے ہیں؟ اور اگر ہمارا روحانی علاج اس قدر موثر ہے تو کرونا کے انجکشن منظر عام پر آنے سے پہلے ہم کہاں تھے؟ بلکہ ایس او پیز کے تحت دنیا بھر میں عبادت گاہیں بند کر دی گئی تھیں اور اس وبا کی زد میں وہ لوگ بھی آ گئے تھے جو خاصے صاحب تقویٰ و طہارت تھے۔

Facebook Comments HS