کتوں کی ریٹائرمنٹ
خبر کے مطابق پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ میں 8 سال تک خدمات سرانجام دینے والے کھوجی کتوں کو ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کی تقریب میں آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ اور پولیس کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس تقریب میں کتوں کو تعریفی اسناد کے ساتھ ساتھ گولڈ میڈل بھی دیے گئے۔ خبر کے مطابق اس سے پہلے 8 سال خدمات سرانجام دینے کے بعد اِن کتوں کو طبی موت مار دیا جاتا تھا۔ تاہم اس سال ایک غیر سرکاری تنظیم سے طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں انہیں ریٹائرڈ کر کے اُس تنظیم کے حوالے کر دیا گیا جو انہیں گود لینے کے خواہش مند افراد کے سپرد کر دے گی۔
کھوجی کتے بالعموم جرمن شیفرڈ نسل کے ہوتے ہیں اور انہیں منشیات، دھماکہ خیز مواد، گم شدہ افراد و اشیاء اور جرائم کے شواہد کی تلاش کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد کو پکڑنے کے لئے تربیت دی جاتی ہے۔ مگر وہ رہتے کتے ہی ہیں۔
اس خبر کے ساتھ چھپنے والی تصاویر کو جب ہم نے اپنی نظر سے غور کے ساتھ دیکھا تو ہمیں انسانی افسر، افسرانہ شان میں ہی دِکھے مگر کتوں کے بارے میں ہمارا تاثر مختلف تھا : وہ کچھ افسردہ، کچھ حیران اور چند سوالوں سے پریشان دکھائی دیے۔ اُن کی افسردگی، حیرانی اور پریشانی کی کئی وجوہات ہوں گی، مگر ہمیں لگا کہ وہ جن الجھنوں کا شکار ہیں انہیں درج ذیل انداز میں بیان کیا جاسکتا ہے :
· یہ عام کتے تو ہیں نہیں بلکہ ایسے کام کرتے ہیں جو انسان نہیں کر سکتا، تو کہیں اُن کو ریٹائرمنٹ کا وہی مفہوم تو ذہن نشین نہیں کروا دیا گیا کہ بس اب تم کسی کام کے نہیں رہے، اُس وقت تک آرام ہی آرام جب تک تمہارا کام تمام نہیں ہو جاتا۔
· کہیں وہ یہ تو نہیں سوچ رہے کہ اتنی منفرد اور اعلیٰ تربیت اور اتنے عظیم کام سرانجام دیتے دیتے ہمیں ”آرام“ کی ٹوکری میں جب ڈالا جائے گا تو ہم پھر کریں گے کیا؟
· کتوں کی عمومی خصوصیات کو بھی ذہن میں رکھیں تو خیال آتا ہے کہ کہیں یہ اِس سوچ میں تو نہیں کہ اس سے بہتر تو طبی موت ہی تھی کہ ریٹائرمنٹ والا اذیت ناک ”آرام“ تو ان سے برداشت ہی نہیں ہو گا؟
· کتا وفادار، قناعت پسند، مالک کی رضا کا طلب گار، مالک سے ناراض نہ ہونے والا، بھوک برداشت کرنے والا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ کرتا رہے۔ اب گود لینے والوں مالکوں کے گھروں تک محدود ہونے کے بعد کہیں اُنہیں بھی اپنے ساتھیوں کی بے رخی، دوست نما دشمنی اور طوطا چشمی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا؟
· کہیں اسپیشل برانچ کے کتا ڈیپارٹمنٹ کے دروازے اُن پر بند تو نہیں ہو جائیں گے؟
ہمیں تو یہ بھی ڈر ہے کہ اپنی تربیت اور اُوپر سے فارغ البالی کی وجہ سے کہیں وہ اپنے مالکوں کے لئے تھوڑی سہولت اور زیادہ مصیبت ہی نہ بن جائیں کہ اعلیٰ ذہنی، جسمانی صلاحیتوں اور خاص تربیت کے ساتھ ساتھ پھرتی سے کام کرنے والی مخلوق کو جب ریٹائر کر دیا جاتا ہے تو وہ اپنے کو اور اپنوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
خبر کے ساتھ چھپنے والی تصاویر دیکھتے ہوئے یہ بھی احساس ہوا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے انسان افسران نے جو اُن سے سلوک کیا وہ اُس سے تو بہت خوش ہیں لیکن وہ اپنے پیٹی بھائیوں کے مستقبل میں ظاہر ہونے والے ممکنہ رویوں کے بارے میں کسی نہ کسی وسوسے کا شکار ضرور ہیں۔ ہمیں یقین تو نہیں مگر اندازہ ہے کہ کتوں میں آپس میں ٹانگ کھینچنے، حسد کرنے، چغلی کھانے، غیبت کرے اور انتقام لینے کے کچھ نہ کچھ جذبات ہوتے ہیں۔ ہمارا یہ اندازہ اپنے بچپن کے چند ایک زور دار مشاہدات پر مبنی ہے، جس میں وجہ نزاع بننے والی جنس مخالف کے حصول کے لئے مقابلہ ہوا تو پانی پت کی تیسری جنگ کا منظر دیکھنے کو ملا۔

ہمیں ذاتی طور پر کتوں کی ریٹائرمنٹ کا یہ انداز اچھا لگا کہ انہیں سرٹیفکیٹ کے ساتھ ساتھ گولڈ میڈل بھی دیے گئے مگر ایک بات کھٹکتی ہے کہ یہ سلوک تو انسانوں نے کتوں کی خدمات کے اعتراف میں کیا، اگر کہیں کتوں کے افسر بھی کتے ہی ہوتے تو کیا وہ بھی اُن کی ریٹائرمنٹ پر اسی طرح کا سلوک کرتے؟ یہ بات اس لئے زیادہ کھٹکتی ہے کہ انسان اپنے انسان ساتھیوں کی ریٹائرمنٹ پر اُوپر اُوپر سے کتنے ہی دُکھی نظر آئیں، اندر اندر سے تو اُن کے دل میں لڈو ہی پھوٹ رہے ہوتے ہیں کہ یہ جائے تو ہماری ترقی کی باری بھی آئے، یقین نہ آئے تو ریٹائرمنٹ پر چھپنے والی تصاویر کو غور سے دیکھ لیں۔ بعض انسانوں اور جگہوں پر تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خوف اور وسوسوں کے مارے ہوئے لوگ ریٹائر ہونے والے پر اُسی دفتر کے دروازے مکمل بند کر دیتے ہیں جس کی آبیاری اور نشوونما میں انہوں نے خود کو بھی بھسم کر لیا ہوتا ہے۔ امید ہے اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک یہ کتے ایسے کسی رویے کا سامنا نہیں کریں گے کیونکہ انہیں الوداع کہنے والے شاید کتے تو نہیں ہیں۔


