ذکر فلسفے سے بیوفائی کا
فلاسفی کو تمام علوم کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ مذہب، سائنس، ریاضیات، فلکیات، تاریخ نویسی چاہے ادب و فن ہو، ان تمام علوم نے فلسفے کے شکم سے ہی جنم لیا ہے فلسفہ کا علم ایک ایسی کشادہ شاہراہ ہے جس کہ ذریعے انسان ذہانت، دانشمندی اور آگاہی کہ دیس میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل سچ اور حقیقت کی جستجو اور تلاش ہی انسان کو فلسفے کی جانب راغب کرتی ہے۔ انسان نے جب کبھی بھی فلسفے کی عینک سے کائنات کے مناظر اور زندگی کا مشاہدہ کیا اسے چیزیں واضح نظر آنے لگتی ہیں۔ فلسفے کی دوربین سے انسان دنیا کو دور دور تک دیکھنے کی طاقت رکھتا ہے یہ اس علم کا سب سے بڑا کمال ہے۔ دنیا کے فلسفیوں نے ہر دور میں انسان کی رہنمائی کی ہے۔ فلسفے کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی تاریخ۔ فلسفے کہ سہارے ہی انسان کی سوچ نے اپنے قدموں پر چلنا شروع کیا۔
ابتدا میں انسان نے کائنات، خدا کے وجود اور اپنے ہونے کہ احساس اور زندگی کہ بارے میں سوالات تلاش کیے۔ جیسا کہ کائنات کا کیسے وجود میں آنا؟ انسان کی زندگی کے بنیادی مقاصد؟ وغیرہ۔ ان سوالات کے جوابات کی ذمے داری فلسفے پر ہی عائد تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا فلاسفی کے میدان میں مزید وسعت آنے لگی۔ مختلف فلاسفرز نے کائنات کے باریک باریک موضوعات سے لے کر زندگی کے اہم مسائل اور معاملات پر غور و فکر کرنا شروع کیا۔ مثال کے طور پر سچ کیا ہے؟ جمالیات کی تعریف، عشق کے جذبات، خوشی کی نفسیات، دکھ کے اسباب، زندگی کے معنی و مفہوم کے بارے میں جوابات اکٹھے کرنے کی کوشش۔ مطلب کہ کائنات، دنیا اور انسانی جذبات اور زندگی کہ الجھے ہوئے دھاگے کو فلسفیوں نے ہی سلجھانے کی کوشش کی ہے۔
انسان نے اس علم سے اس لئے بھی محبت کی ہے کہ فلسفے کے محل میں ذہانت کے خزانے موجود ہیں۔ جب کوئی شخص فلسفے کی چوکھٹ پر اپنے قدم رکھتا ہے تو اپنی لاعلمی کا احساس اس کہ دل میں پیدا ہوتا ہے۔ فلسفی کی تاثیر انسان کے اندر علم کی پیاس کو بڑھاتی ہے۔ فلسفہ انسان کہ ذہن میں حق اور سچ کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔ فلسفے کا علم موسم سرما کی تیز دھوپ ہے جس سے ذہانت اور دانشمندی سے انسان اپنی خودی کو گرماتا ہے۔ فلسفیوں نے ہزاروں سالوں تک انسان کے سوچنے کی صلاحیتوں کو سونے کی طرح چمکایا ہے۔ عام لوگوں کے مقابلے میں فلسفی سوچ رکھنے والے انسانوں کی گفتار سے دانش کے موتی برآمد ہوتے ہیں۔ ان کہ سوچ اور فکر کا انداز مختلف رنگوں کی طرح نرالا ہوتا ہے۔ ایک جگہ یہ بحث جاری تھی کہ ”گھوڑے کہ منہ میں کتنے دانت ہوتے ہیں؟ اس ہجوم میں ہر کوئی اپنے تخمینی طور پر جوابات پیش کر رہا تھا۔ اسی مجموعے میں ایک نوجوان فلسفی کا گزر ہوا اس نے تحمل سے جواب دے کر سب کو لاجواب کر دیا کہ کیوں نہ گھوڑے کا منہ دیکھ کر خود اسی بات کی تصدیق کر لی جائے۔
بدقسمتی سے آج کہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور مشینوں کے شور میں فلسفہ کی آواز مدھم ہونے لگی ہے۔ فلسفے کو مشینوں کہ نیچے روندنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دیگر علوم نے بھی اس شعبے کہ ساتھ نافرمان اولاد جیسا سلوک کیا ہے۔ فلسفہ کے بارے میں جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائے قائم کی جاتی ہے کہ اب فلسفے کا کردار نہیں رہا۔ اسے بے معنی اور بے مطلب علم سمجھا جاتا ہے۔ آج کے گلوبل دور میں فلسفے کی اہمیت سے سرعام انکار کیا جاتا ہے۔ افسوس آج فلسفہ ڈھلتے سورج کی مانند زوال کا منظر پیش کر رہا ہے۔
ول ڈیورانٹ اپنی کتاب ”The Pleasure Of Philosophy“ میں فلسفہ کا نوحہ اس طرح لکھتے ہیں کہ ”آج کہ دور میں فلاسفی سے پیار نہیں رہا۔ سائنس فلسفے کی اولاد ہے۔ ایسی اولاد جس نے اس کی وراثت کر کے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور اصل مالکن کو گھر سے بھی بے دخل کر دیا۔ ایک زمانہ تھا جب عظیم شخصیات نے فلسفے پر اپنی جان نچھاور کی۔ سقراط نے زہر کا پیالہ نوش کیا۔ افلاطون آئیڈیل ریاست قائم کرنے کہ لئے اپنی جان پر کھیلے۔ برونو کو فلسفے کی محبت کے جرم میں زندہ جلایا گیا۔
انسانی ذہن نے فلاسفی کہ سہارے ہی ترقی کا سفر طے کیا ہے۔ فلسفے نے بڑی دلیری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظلم و جبر اور جہالت کے اندھیروں سے مقابلہ کیا۔ ہر قسم کی فرعونت کو فلسفے نے ہی للکارا ہے اور دانشمندی کہ ساتھ انسان کا دفاع کیا ہے۔ دور ماضی میں فلسفے کی روشنی سے ہی سماج میں نئی حرارت کی قوت پیدا کی جاتی تھی۔ فلسفے کو نہایت ہی قابل احترام علم کہ طور پر دیکھا اور مانا جاتا تھا۔
نہایت افسوس ہے آج سائنس و ٹیکنالوجی کہ دور میں فلسفہ کے شعبے کو بوڑھی عورت کی طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ سائنس اور جدید علوم نے فلسفے سے بیوفائی کی ہے۔ اور فلسفہ خاموشی سے اپنے عروج و زوال کی کہانی کا تماشا برداشت کر رہا ہے۔
آج کے جدید دور میں فلسفے کی اہمیت سے انکار کرنے کا بڑا سبب سچ اور جھوٹ میں تفریق ختم ہونا ہے۔ جھوٹ کو مسلسل دہرایا جاتا ہے کہ وہ جھوٹ بھی سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کہ نتیجے میں ان دنوں ہمارے معاشرے میں جرات مندانہ موقف کی کمی ہے۔ اس دوران سائنس اور ٹیکنالوجی کے سیلاب میں ڈوبتا ہوا فلسفہ کنارے کی تلاش میں ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ فلاسفی کے معنی عقل سے محبت کرنا ہے۔ دنیا کی جن قوموں نے علم سے محبت کی ہے انہوں نے ہی ترقی کی جانب پیش قدمی کی ہے۔ بنیادی طور پر آج بھی ہم فلسفے کے مطالعے اور مشاہدے کے بعد ہی ایک نئے سماج کی تعمیر ممکن بنا سکیں گے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر ہی فلسفے کا اہم مقصد اور حسن ہے۔


