کشان سلطنت سے منڈی بہاؤ الدین


منڈی بہاؤ الدین کا خطہ ہمیشہ سے تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ علاقہ مختلف ادوار میں کئی تہذیبوں کا گہوارہ رہا۔ جن میں گندھارا تہذیب نمایاں مقام رکھتی ہے۔ گندھارا تہذیب یونانی، ساکا، پارتھی اور کشانوں کی تہذیبوں کی ملاوٹ نظر آتی ہے۔ منڈی بہاؤ الدین کے علاقے سے مٹی سے بنی ہوئی جانور کی مورتی دریافت ہوئی ہے جس کا تعلق کشان سلطنت کے دور سے محسوس ہوتا ہے۔ جانور کی مورتی کی دریافت نہ صرف گندھارا دور کے کاریگروں کی اپنے فن پر گرفت اور عظمت کی عکاس ہے بلکہ اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ اس مورتی کی دریافت اس حقیقت کو بھی تقویت دیتی ہے کہ یہ علاقہ ہزاروں سال سے فن، ثقافت، اور تجارت کا مرکز رہا ہے۔

منڈی بہاؤ الدین میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی نایاب مورتی کشان سلطنت کے دور کے کاریگروں کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس خطے سے اس سے قبل بھی مختلف ادوار کے آثار دریافت ہو چکے ہیں، لیکن اس حالیہ دریافت نے علاقے کی تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ مورتی کو مٹی (Terracotta) سے تیار کیا گیا ہے اور جانور کی شکل میں بنایا گیا ہے، جو گندھارا آرٹ کی خاصیت میں سے ایک ہے۔ اس کی بناوٹ، معیار اور جزئیات کی باریک بینی اس کی قدر اور اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

اس مورتی کو زرعی زمینوں سے دریافت کیا گیا ہے۔ اکثر کسان جب اپنی زمینوں میں ہل چلانے کے دوران کچھ کھودتے ہیں تو انہیں ماضی کے آثار مل جاتے ہیں، جو ہزاروں سال پرانی تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح کے نوادرات کا ملنا ایک نہایت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے علاقے کی تاریخی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ منڈی بہاؤ الدین کے علاقے سے زمین کی سطح سے ملنے والے آثار اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علاقے قدیم ادوار میں تہذیبوں کے مرکز تھے۔

گندھارا تہذیب تقریباً ایک ہزار سال کے عرصے تک محیط رہی اور اس کا عروج پانچویں صدی عیسوی تک برقرار رہا۔ اس دوران، کشان سلطنت نے اس تہذیب کو پروان چڑھایا۔ کشان دور میں نہ صرف فنونِ لطیفہ کو عروج ملا بلکہ بدھ مت کے مذہبی اثرات نے گندھارا آرٹ کو ایک نئی شکل دی۔ کشان حکمرانوں، خاص طور پر کنشک یا کنیشکا، نے بدھ مت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا اور گندھارا آرٹ کو سرکاری سطح پر لاگو کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مقامی کاریگروں نے مجسمہ سازی اور تعمیرات کے ذریعے بدھ مت کی تعلیمات کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس فن کے تحت پتھر اور مٹی کے مجسمے، بدھ مت کی علامات، اور مختلف جانوروں کے نمونے تیار کیے گئے جو مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے حامل تھے۔

منڈی بہاؤ الدین سے دریافت شدہ مورتی گندھارا فن کی اسی روایت کا ایک نادر نمونہ ہے۔ اس مورتی کو مٹی (Terracotta) سے بنایا گیا ہے اور جانور کی شکل میں تراشا گیا ہے۔ اس پر باریک بینی سے کی گئی نقش نگاری اور ساخت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ کاریگروں کی مہارت کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ مٹی کے مجسمے اس دور میں عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی تھے کیونکہ پتھر کے مقابلے میں مٹی کی دستیابی آسان تھی اور یہ سستا ذریعہ تھا۔ ان مجسموں کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا تھا، جن میں مذہبی رسومات، تزئین و آرائش، اور بچوں کے کھلونے شامل تھے۔

یہ مورتی نہ صرف گندھارا آرٹ کی ایک اہم مثال ہے بلکہ اس کی دریافت اس بات کی بھی عکاس ہے کہ گندھارا کے اثرات صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں تھے، بلکہ اس کا دائرہ وسیع تھا۔ یہ مجسمہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گندھارا تہذیب کے اثرات پورے شمالی ہندوستان اور پاکستان کے وسیع حصے میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس دور کے فنون میں بدھ مت کے اثرات نہ صرف مذہبی حیثیت رکھتے تھے بلکہ ثقافت اور روزمرہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

منڈی بہا الدین کا علاقہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطے میں کئی اہم آثار قدیمہ پہلے بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ ماضی میں یہاں سے سکندر اعظم کے حملے، گپتا دور، اور کشان سلطنت کے نشانات مل چکے ہیں۔ اس حالیہ دریافت نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ یہ علاقہ نہ صرف قدیم دور میں آباد تھا بلکہ یہاں ثقافتی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔ یہ علاقہ اس وقت تجارتی راستوں کا حصہ تھا اور یہاں مختلف اقوام کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ خطہ ان علاقوں میں سے ایک تھا جہاں تجارتی راستے آپس میں جڑتے تھے۔ یہاں کی مٹی اور دیگر قدرتی وسائل نے اس علاقے کو اہمیت دی اور یہ جگہ مختلف اقوام کے درمیان تجارت اور ثقافتی ورثے کے تبادلے کا مرکز بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے ملنے والے نوادرات نہ صرف ایک تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ علاقے میں ہونے والی ثقافتی تبدیلیوں اور مذہبی اثرات کی بھی جھلک پیش کرتے ہیں۔

منڈی بہاؤ الدین سے دریافت شدہ ایک اور نادر نمونہ رام پیاری محل عجائب گھر گجرات کو عطیہ کیا گیا تھا۔ اس فنون لطیفہ کو گندھارا آرٹ گیلری کے ایک کیبن میں ”ڈھوک کاسب منڈی بہاؤ الدین“ میں رکھا گیا ہے۔ اس کیبن میں رکھے ہوئے نوادرات کو محمد ندیم اختر، عثمان علی اور مسٹر ٹام ہائیڈ برٹش کونسل اسلام آباد نے ڈونیٹ کیے ہیں۔ یہ قدم اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے اور عوام تک پہنچانے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ رام پیاری محل کا یہ حصہ اس علاقے کے آثار قدیمہ کو اجاگر کرتا ہے اور ان کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا تاکہ نوادرات آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔

گندھارا آرٹ اور اس کی ثقافت کو محفوظ کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان میں آثار قدیمہ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور ان نوادرات کی حفاظت کرنا ضروری ہے تاکہ یہ ہمارے تاریخی ورثے کا حصہ بن سکیں اور دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی تہذیب سے روشناس کرایا جا سکے۔ گندھارا کے فنون کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ یہ تاریخی آثار عالمی سطح پر اپنی اہمیت قائم رکھ سکیں۔

منڈی بہا الدین میں دریافت ہونے والی ان مورتیوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ علاقہ قدیم دور میں تہذیبوں کے سنگم کے طور پر موجود تھا۔ گندھارا آرٹ کی یہ دریافت ہمیں اس دور کے سماجی، مذہبی اور ثقافتی رویوں کے بارے میں سیر حاصل معلومات فراہم کرتی ہے۔ کشان دور میں مذہب اور فنون کا آپس میں گہرا تعلق تھا۔ بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق، فنون لطیفہ سے اپنے عقائد کا اظہار انسان کے روحانی سفر کا ایک اہم حصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ مت کی علامتوں اور ان کے پیروکاروں کی تصاویر کو بڑی مہارت کے ساتھ مجسمہ سازی میں ڈھالا جاتا تھا۔ ان مجسموں میں جانوروں کی تصویریں بھی شامل تھیں جو بدھ مت کی تعلیمات میں موجود ہمدردی اور قربانی کو ظاہر کرتی تھیں۔

یہ مورتی نہ صرف اس دور کے لوگوں کی فن میں مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کی دریافت سے اس خطے کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ مورتی کو گندھارا آرٹ گیلری میں رکھنے کا مقصد صرف اس تاریخی ورثے کو محفوظ کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی اہمیت کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچانا تھا۔ اس مورتی کی موجودگی گندھارا آرٹ کی شان و شوکت کی علامت ہے اور اس کی دیکھ بھال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

منڈی بہاؤ الدین سے ملنے والی ان نادر مورتیوں کی بدولت نہ صرف علاقے کی تاریخی حیثیت اجاگر ہوئی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس خطے میں ہزاروں سال قبل زندگی موجود تھی۔ سطح زمین اور زرعی زمینوں سے ملنے والے نوادرات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ علاقہ تہذیبی ورثے سے مالا مال ہے۔ اس اہم تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ یہ نوادرات ہمارے قومی تشخص کو نمایاں کر سکیں۔ ان مورتیوں کی دریافت منڈی بہاؤ الدین کی قدیم تہذیبوں کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا کو اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

Facebook Comments HS