میرے ابو کہاں ہے؟ کوئی ہے جو جواب دے سکے
جناب آصف علی زرداری آج کل دوسری بار صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہیں۔ جب پہلی بار صدر مملکت کی ذمہ داری نبھا رہے تھے تو اسی دوران بحیثیت صدر پاکستان ان کا ایک بیان یوم آزادی کے موقع پر ایوان صدر سے جاری کیا تھا جو قومی اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ نوائے وقت نے اس بیان سے جو شہ سرخی لگائی تھی وہ کچھ یوں تھی کہ ”پاکستان کو ملائیت کی ریاست بنانے کی ہر کوشش مسترد کرتے ہیں، زرداری“ ۔ آگے تفصیل میں اس بیان کا متن کچھ یوں ہے کہ ”پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند، لبرل اور فلاحی مملکت بنائیں گے۔ پاکستان کو ایک ترقی پسند ریاست بننے کے لئے عوام کی فلاح و بہبود مقدم رکھنے پڑے گی اور ملک کو خوف کے حصار سے نکلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے روز ہم پاکستان کو ایک ملائیت کی ریاست بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کبھی ملائیت کے لئے نہیں بنا تھا۔ اسے کبھی بھی ملائیت کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک جمہوری اور ترقی پسند ملک بننے میں بڑی رکاوٹ وہ تنظیمیں ہیں جو نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا چکی ہیں اور پاکستان کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے عوام کو عسکریت پسندوں اور مذہبی منافقین سے آخری دم تک لڑنے کے لئے کہا۔ ( روزنامہ نوائے وقت 14 اگست 2018 ) ۔ جاری کردہ بیان کا متن بلاشبہ ملکی و قومی مفاد میں تھا اور متقاضی تھا کہ اس پر عمل درآمد بھی کیا جاتا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں شاید اور جس کا نتیجہ موجودہ حالات کی شکل میں سامنے موجود ہے۔ صدر مملکت نے جس ملائیت کے خطرہ کی نشاہدہی کی تھی وہ تو اب خود ان کے آبائی صوبہ سندھ میں پہنچ چکی ہے اور خوب رنگ دکھا رہی ہے۔
انسان تو انسان جانور بھی اس کی زد میں ہیں۔ سندھ میں ایک اونٹ کا پاؤں کاٹنے کے بعد میر پور خاص میں سو سے زائد بے زبان بکریوں کو زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا اور اب 13 دسمبر کومیر پور خاص میں ہی ایک احمدی شہری امیر حسن مرڑانی کو فجر کی نماز پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مقام افسوس ہے کہ نہ عبادت گاہیں محفوظ رہیں اور نہ عبادت کرنے والے۔ اخبارات کی خبروں کے ریکارڈ کے مطابق سال رواں میں اب تک طاہر اقبال چیمہ 4 مارچ کو بہاولپور، راحت احمد باجوہ اورغلام سرور کو 8 جون کو منڈی بہاؤالدین، ڈاکٹر ذکاء الرحمٰن 27 جولائی کو لالہ موسیٰ میں مذہبی انتہا پسندوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے جولائی 2024 میں پاکستان میں احمدیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے انہیں تحفظ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
جناب صدر مملکت، ان حالات میں ملائیت کے آگے بند باندھنے کے لئے اسی فکر اور عزم کی اشد ضرورت ہے جیسا کہ پارلیمنٹ کے اندرترامیم کی منظوری کے لئے دکھائی جاتی ہے۔ اس کو بھی اندرونی ملکی سلامتی اور بقاء کا مسئلہ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے جن کی حفاظت کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری بھی ہے۔ اسی ماہ 5 دسمبر کو راولپنڈی میں دن دیہاڑے ایک پاکستانی احمدی شہری طیب احمدکو عقیدہ کی بنیاد پر کلہاڑی سے ذبح کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق جب قاتل مہمان مقتول پر کلہاڑی سے وار کر رہا تھا تو مقتول کے منہ سے نکلا تھا کہ ”مجھے نہ مارو میں یہاں مہمان آیا ہوں“ ۔ اپنی جان بچانے کی خاطر شاید مقتول کی یہ آخری کوشش تھی جو ناکام ہوئی اور تیس سالہ نوجوان ظالم قاتل نے ایک نہ سنی اور ایک ناحق معصوم انسان کو خون میں نہلا کر اپنی اس نفرت کی آگ بھجائی جس کا سبق دہائیوں سے معاشرے کے اندر ذرائع ابلاغ اور سرکاری سرپرستی میں پڑھایا جا رہا ہے۔ ”مجھے نہ مارو میں یہاں مہمان آیا ہوں“ جملہ پڑھ کر 24 سال قبل میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں زخمی حالت میں خون آلودہ چہرہ کے ساتھ بیڈ پر لیٹے اس معصوم لڑکے کا جملہ ذہن میں گونجنے لگا تھا جو اس کے لرزتے کانپتے ہونٹوں سے نکلا تھا کہ ”میرے ابو کہاں ہیں؟ اس لڑکے کے والد اور چچا دونوں فجر کی نماز کے وقت مذہبی دہشت گردی کے حملہ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور یہ لڑکا دیگر زخمیوں کے ساتھ لاہور کے ہسپتال میں موجود تھا۔ یہ 30 اکتوبر 2000 کی صبح تھی اور ضلع سیالکوٹ میں واقع گھٹیالیاں میں احمدیہ عبادت گاہ میں نمازی فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد واپس گھروں کو جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اسی دوران عبادت گاہ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ کلاشنکوفوں سے مسلح افراد نے اندر داخل ہوتے ہی وحشیانہ طریقے سے فائرنگ شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے عبادت گاہ انسانی خون اور گوشت سے آلودہ ہو گئی تھی۔ مذہبی دہشت گردی کے اس واقعہ میں چار احمدی ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد شدید زخمی تھی جن میں بچے بھی شامل تھے۔ زخمیوں کو بعد ازاں علاج کے لئے لاہور کے میو ہسپتال میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ممبرز کی حیثیت سے ہم ان زخمیوں کی عیادت کے لئے میو ہسپتال پہنچے تھے۔ پولیس کا کڑا پہرہ تھا۔ وارڈ میں داخل ہوئے تو وہاں خون آلودہ کپڑوں اور بستروں کو دیکھ کر سبھی ساکت ہو کر رہ گئے تھے۔ ہم کو الگ الگ بیڈ پر جانا تھاجہاں زخمی لیٹے ہوئے تھے۔ میں اس بیڈ کے پاس گیا جہاں دس گیارہ سال کا لڑکا نیم بیہوشی کی حالت میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک نرس پاس کھڑی تھی۔ اس نے مجھے اس بچے کی حالت کے بارے میں بتایا تو میں نے بچے کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔ میری نظریں اس معصوم سے چہرہ پر تھیں جس کے پھول جیسے گال پر ابھی بھی خون کے نشان موجود تھے۔ بچے نے میرے ہاتھ کا لمس محسوس کیا تو بے ساختہ ایک جملہ اس کے منہ سے نکلا تھا جو مجھے آج بھی یاد ہے اور شاید کبھی بھی بھلا نہ پاؤں اور وہ جملہ یہ تھا کہ“ میرے ابو کہاں ہیں؟ یہ جملہ کہتے ہوئے میرے ہاتھوں پر بچے کے گرم گرم آنسوؤں کے قطرے گر رہے تھے۔ اس مذہبی دہشت گردی میں اس معصوم زخمی بچے کے والد اور چچا دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ نیم بے ہوشی کے عالم میں بھی وہ اپنے شفیق باپ کو یاد کر رہا تھا جو دنیامیں نہیں رہے تھے۔
بچے کے اس سوال کا جواب نہ کسی کے پاس ہے اور نہ کوئی دے سکے گا۔ کیونکہ یہاں ہوس اقتدار میں سبھی بہرے بھی ہیں اندھے بھی اور گونگے بھی۔ اگست 2009 میں گوجرہ میں جب مسیحیوں کی پوری کالونی جلا ڈالی گئی تھی تو بھی وہاں دلخراش مناظر میں ایک منظر ایک جلے ہوئے گھر میں دیکھنے کو ملا۔ جل کر خاکستر ہونے والے ایک گھر میں جب داخل ہوتے ہی ہر طرف دھواں دیکھا۔ ایک عورت صحن کے کونے میں دو اینٹوں کا ایک چولہا بنا کر کچھ پکا رہی تھی اور قریب ہی چند سال کا لڑکا بھی بیٹھا تھا۔ عورت سے جب آنکھیں ملیں تو آنکھوں میں نمی اور دکھ درد اور بے بسی اور لاچارگی عیاں تھیں۔ خوف و دہشت کے وہ مناظر بھی بھلائے نہیں بھولتے۔ اسی طرح جون 2006 میں جنڈو ساہی سیالکوٹ میں احمدی گھروں اور دکانوں کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی گئی تھی جس میں ایک عبادت گاہ بھی شامل تھی۔ وہاں بھی چھپے ہوئے پاکستانی احمدی متاثرین میں سے ایک نے روتے ہوئے یہ بتایا تھا ”کہ میری بیٹی کا سارا جہیز بھی لوٹ کر لے گئے اور گھر کو آگ لگا دی گئی“ ۔ جڑانوالہ کا واقعہ بھی ابھی زیادہ پرانا نہیں ہوا سبھی کو یاد ہے کہ وہاں کیسی بربریت کی گئی تھی۔ کرم کے علاقے میں تین دن کی لڑائی میں سو سے زائد انسان لقمہ اجل بنے۔ تسلسل کے ساتھ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان اندرونی طور پر سازشوں میں گھر چکا ہے اور پاکستان مخالف قوتیں پاکستان کا امیج عالمی سطح پر خراب کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اور یہ سب کچھ ملائیت کے جھنڈے تلے ہو رہا ہے۔ آپ اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے پاکستان کو شدید اندرونی خطرات سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور بانی پاکستان کے تصور پاکستان کو زندہ کریں جو آزادی کے بعد سے اب تک پس پشت ڈالا گیا ہے۔


