روزمرہ کی نفسیات
معروف مصنف اور ماہر نفسیات ایڈم گرانٹ نے گزشتہ دنوں اپنے فیس بک پیج پر ایک ریسرچ شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ ”ہم اسکرین پر پڑھنے کی نسبت کاغذ پر پڑھنے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔“ 54 کیس اسٹڈیز اور 1,71,000 افراد پر تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوا کہ ہم پرنٹ مواد کو ڈیجیٹل مواد کی نسبت زیادہ گہرائی سے سمجھتے ہیں، بشرطیکہ وہ مواد معلوماتی ہو، کہانی پر مبنی نہ ہو۔ ”کاغذ کا فائدہ ہر عمر کے لیے یکساں ہے اور وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔ پرنٹ کتابیں زندہ باد۔
مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے جب کوئی مصنف مجھے اپنی کتاب اس لیے بھیجتا ہے کہ میں اسے پڑھوں اور اس پر اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک لکھاری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہم عصر ادیبوں کی تخلیقات کی حوصلہ افزائی کرے اور انہیں عام قارئین تک پہنچانے میں کردار ادا کرے۔
محترمہ صادقہ نصیر نے حال ہی میں اپنی کتاب ”روزمرہ کی نفسیات“ بھیجی۔ نیلے رنگ کے ٹائٹل پیج کی حامل یہ خوبصورت کتاب دیکھ کر اور پڑھ کر خوشی ہوئی۔ 200 صفحات پر مشتمل کتاب ماروا پبلشرز، لاہور نے شائع کی ہے۔ کتاب اعلیٰ معیار کے کاغذ اور ہارڈ بائنڈنگ پر مشتمل ہے، جس کے معیاری کاغذ اور بہترین فونٹ نے کتاب کی افادیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ کتاب دیکھنے، پڑھنے، اور ہاتھ میں پکڑنے پر ایک خاص خوشگوار احساس پیدا کرتی ہے۔
صادقہ نصیر پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔ میری ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا اور ان کی کتاب نے ہمارے تعلق کو مضبوط کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب کا انتساب ”دنیا میں پھیلتی اور بڑھتی بے سکونی کے نام“ کیا ہے، جو انسان کی فطرت کے تاریک گوشوں سے نکل کر دنیا میں افراتفری اور خوف کی صورت میں نقص امن کا استعارہ ہے۔
21 ابواب پر مشتمل یہ کتاب منفرد اسلوب اور موضوعات کی بدولت ایک شاندار کاوش ہے۔ کتاب پر معروف ماہر نفسیات اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ میرے دل کی باتیں ہیں۔ یقیناً، ایک ادیب دوسرے ادیب کے خیالات کو بہتر سمجھتا ہے۔ میرے لیے یہ امر اہم ہے کہ بڑا ادیب چھوٹے موضوعات پر لکھے جو انسانوں کو بہتر بنانے اور معاشرے کی بھلائی کے لیے تحریک دے۔ کچھ مصنفین قارئین پر ظلم کرتے ہیں اور اپنے علم کو علاج کے لیے نہیں بلکہ اپنے مزاج کو تھوپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مصنفین کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل موضوعات کو عام فہم زبان میں پیش کریں اور قارئین کے لیے آسانی پیدا کریں۔
کتاب کے تعارف میں صادقہ نصیر لکھتی ہیں کہ انہوں نے ”روزمرہ کی نفسیات“ کو موضوع بنانے کی وجہ یہ بتائی۔ ”اپنے کیریئر کے تمام عرصہ میں مریضوں کا علاج کرتے ہوئے یہ تشنگی رہی کہ وہ لوگ جو عام طور پر نارمل دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ خفیہ طور پر ایسے رویوں کی گٹھڑی لیے گھوم رہے ہیں اور بہت اچھے مانے جا رہے ہیں لیکن ان کے باوجود درحقیقت نہ صرف بیمار ہیں بلکہ یہ بہت شدت کے ساتھ چھوت کی طرح اپنی بیمار رویوں سے اپنے ارد گرد کے لوگوں کو لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ ذہنی بیماریوں کے یہ مظاہرے انسانوں اور رویوں کی صورت میں معاشرے میں چور رویے بن کر رہتے ہیں۔ یہ رویے انفرادی اجتماعی سوچ بن کر ایک بیمار معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔“ (صفحہ 15 ) ڈاکٹر خالد سہیل لکھتے ہیں۔ ”کینیڈا کی ماہر نفسیات، لکھاری اور دانشور صادقہ نصیر نے اپنی سماجی ذمہ داری کو بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا ہے اور انسانی نفسیات کے گنجلگ، دشوار اور پیچیدہ مسائل کے بارے میں عام فہم زبان میں مضامین لکھ کر ایک سماجی خدمت سر انجام دی ہے۔“ (صفحہ 18 )
کتاب کے تمام ابواب دلچسپ، اہم، اور سادہ زبان میں تحریر کیے گئے ہیں۔ چونکہ نفسیات ایک مشکل مضمون ہے، ہمارے معاشرے میں اب تک اسے پوری طرح قبول نہیں کیا گیا۔ پہلا باب ”مشاہدہِ باطن“ بہت دلچسپ لگا، جس میں ایک جملے نے مجھے خاصا متاثر کیا۔ ”ایک چوکس اور سمارٹ طالب علم خود اپنے ذہن میں جھانکتا ہے اور اپنی مثبت صلاحیتوں کا کھوج لگا کر ان سے فائدہ اٹھتا ہے اور اس شعبے میں چمکتا ستارہ بن سکتا ہے۔“ (صفحہ 27 ) میں اس کتاب کے بارے میں مزید بے شمار باتیں لکھ سکتا ہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کی تشنگی برقرار رہے۔ میں یہاں صرف کتاب کی فہرست آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں تاکہ آپ کی دلچسپی بڑھے اور آپ یہ کتاب خریدیں، پڑھیں اور اپنی زندگی میں اس سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔
1۔ مشاہدہِ باطن (صفحہ 19 )
2۔ اوسط ذہانت کے لوگوں کے عمومی رویے اور خصائل (صفحہ 31 )
3۔ زندگی کا عدم توازن (صفحہ 46 )
4۔ ذہنی صحت اور جسمانی صحت کا تعلق (صفحہ 53 )
5۔ حسد انسانی شخصیت کا منفی پہلو (صفحہ 59 )
6۔ سائیکو پیتھ (صفحہ 79 )
7۔ پیری فقیری اور گندے تعویذ کے کاروبار کی نفسیات (صفحہ 104 )
8۔ کیا خاندان جرم سازی کی فیکٹریاں ہیں؟ (صفحہ 110 )
9۔ ایک عورت کی ماہواری کے پورے خاندان پر اثرات (صفحہ 117 )
10۔ پوسٹ پارٹم ڈپریشن (صفحہ 125 )
11۔ والدین کا اپنے بچوں سے حسد (صفحہ 134 )
12۔ کام چوری کی نفسیات اور وجوہات (صفحہ 140 )
13۔ کیا جپھی (ہگ) محبت کی دوا ہے؟ (صفحہ 145 )
14۔ شادی کا بندھن ٹوٹنے کی نفسیاتی وجوہات (صفحہ 150 )
15۔ کہ آپ شادی کے قابل ہیں؟ (صفحہ 157 )
16۔ ٹین ایج کے نفسیاتی بحران (قسط اول) (صفحہ 164 )
17۔ ٹین ایج کے نفسیاتی بحران (قسط دوم) (صفحہ 169 )
18۔ ٹین ایج کے نفسیاتی بحران (قسط سوم) (صفحہ 175 )
19۔ ٹین ایج کے شدید نفسیاتی بحران (قسط چہارم) (صفحہ 180 )
20۔ ذہنی امراض کا علاج اور سیلف ہیلپ (صفحہ 185 )
کتاب کا آخری باب ”گرین زون تھیراپی“ (ڈاکٹر خالد سہیل کا فلسفہ ذہنی صحت) ایک خوبصورت تحفہ ہے۔



