محبت! انسانی وجود کی تکمیل کا احساس ہے
محبت انسان کا صحت مند اور خوشگوار احساس ہے۔ اگر محبت کا درست تصور اور اس سے وابستہ کیفیات کی بنیادی معلومات حاصل نہ ہوں تو یہی خوبصورت احساس تکلیف، درد، کرب، اذیت اور نفسیاتی بیماری ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ویسے ہی ہمارے معاشرے میں محبت کی محدود آنکھ سے تشریح کی گئی ہے۔ جس میں ڈرامائی اور تصوراتی عناصر نمایاں ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں محبت ناکامی، ڈپریشن اور ماتم کی علامت بن گئی۔ پاکستان کے ادب میں خصوصاً محبت کے تصور کو ناکامی اور مایوسی کے المیوں سے جوڑا گیا ہے۔ ہمارے ادب میں فکشن کے کردار محبت میں ناکامی کے بعد تلخ حالات کہ رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ ان پر ڈپریشن جیسی کیفیات کا احساس حاوی رہتا ہے۔ جب ہم عالمی ادب کا مطالعہ کریں تو ان کہ فکشن اور افسانوں میں عاشق محبت میں ناکامی کا ہار پہننے کہ بعد بھرپور توانائی کہ ساتھ زندگی میں آگے بڑھتا ہے۔ اور اپنے کردار میں ارتقائی منازل سے گزرتے ہوئے ناکامی سے کامیابی کا سفر طے کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں محبت کے منفی تصورات نے نوجوانوں کو فرسٹریشن کے مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹک ٹاک جنریشن نے محبت کو محض جنسی عیاشی کا سامان بنایا ہے۔ جنھیں عشق کہ نام پر شہوانیت کے وائرس نے اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔ ان کے ذہنوں میں محبت کا تصور مرد اور عورت کہ مابین جنسی ملاپ کہ ارد گرد ہی گھومتا ہے۔ ادب میں بھی زیادہ تر شاعری اور دیگر تصنیفات کہ ذریعے نوجوانوں کے ذہن کی تشکیل اسی رخ سے کی گئی ہے۔ درحقیقت برصغیر کے معاشرے نے محبت کو غلط عینک سے دیکھا ہے۔ جس کی بنا پر غلط تصورات ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ اسی لئے ہم محبت کہ اصل جوہر کو نہیں سمجھ سکے۔
محبت دو انسانوں کو آپس میں تحلیل کرنے کی سرگرم قوت کا نام ہے۔ دو الگ وجود کو نئی طرز پر تعمیر کرنے میں محبت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ محبت انسان کی ذات کے خلا کو مکمل کرنے میں سازگار عمل ہے۔ کیوں کہ انسان محبت کہ سوا اپنی ذات میں ادھورا ہے۔ وہ اپنی ذات کے خلا کو پُر کرنے کی خاطر محبت کی انگلی پکڑے زندگی کی جانب دوڑتا ہے۔ جب جوانی کی دہلیز پر قدم پڑتے ہیں تو انسان کے جذبات کا تناؤ بڑھتا ہے۔ جوں جوں عمر کی سرحد پار کرتا ہے وہی جذبات پختگی پر پروان چڑھتے ہیں۔
محبت کے مثبت و منفی دونوں پہلو ہیں۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں محبت کے منفی رویے کو اہمیت دی گئی ہے۔ ہمارے خیال میں محبت انسان کو نفسیاتی تباہی کا شکار کرتی ہے۔ جبکہ تعمیری محبت انسان کی شخصیت سنوارنے کا بہترین نسخہ بھی ہے۔ مایوسی کی گھنی گھٹاؤں میں محبت انسانی زندگی میں امید کی روشنی اور صبح کی خبر لاتی ہے۔ سندھی ادب کے نامور شاعر شیخ ایاز لکھتے ہیں۔ ”عشق تمہیں نئی آنکھیں، نئے کان، نئی زبان عطا کرتا ہے، تم ایک بار اس تجربے سے گزر کر تو دیکھو“ دراصل انسان محبت سے ہی اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ محبت انسانی وجود کی تکمیل ہے۔ بقول فیض احمد فیض
محبت کی نفسیات پر ارک فرام کی 1956 ء میں شایع ہونی والی کتاب ”The Art Of Loving“ قابل ذکر ہے جس کتاب میں انہوں نے محبت کے نفسیاتی، سماجی، معاشی اور فلسفیانہ پہلوؤں کہ ساتھ محبت کی فطرت کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مصنف نے بڑی پختگی سے محبت کے غلط تصورات کو رد کر کے نئے تصورات پیش کیے ہیں۔ ایرک فرام محبت کے جذبات کو محض محبوب اور محبوبہ تک محدود نہیں کرتے بلکہ اس جذبے کا وسیع کینوس بناتے ہوئے انسان کی فطرت سے جوڑا ہے۔ ان کہ نقطہ نظر کہ مطابق انسان محبت سیکھے بغیر محبت کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ یہ مثال ایسی ہے جیسے سیکھے بغیر گاڑی چلانا کسی حادثے کا سبب بنتا ہے۔ مصنف نے محبت کو سیکھنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے محبت کو باقاعدہ فن کا درجہ دیا ہے جسے مشق کہ ذریعے سیکھا جا سکتا ہے پر انسان محبت میں ناکامی کے بعد محبت کے فن میں دلچسپی نہیں لیتا۔ نہ ہی وہ محبت کہ فن کو سیکھنا چاہتا ہے۔
اگر ہم محبت کے فلسفیانہ پہلو کا تجزیہ کریں تو دراصل یہ تنہائی اور اکتاہٹ کے نتیجے میں انسان محبت میں ہی پناہ تلاش کرتا ہے۔ محبت انسان کے تلخ حالات میں وقتی تسکین کا کام کرتی ہے۔ انسان اپنی داخلی کیفیات، اذیت پسندی، بوریت، ڈپریشن اور مایوسی کو تعمیری محبت کے سہارے ہی ختم کر سکتا ہے کیوں کے محبت انسان کی روح کی وہ سرگرمی ہے جو آزاد اور خود مختار صورت میں پروان چڑھتی ہے۔ محبت پنچھی کی طرح آزاد ہے۔ اسے قید کرنا ناممکن ہے۔
محبت میں کسی ایک وجود کی برتری بھی انسانی جذبات کا استحصال ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عاشق اپنے محبوب کی چوکھٹ پر اپنی ذات کو سرینڈر کرتا ہے۔ دراصل یہ عمل بھی انسان کے ذات اور احساسات کی نفی کرتا ہے۔ یہ محبت کا ابنارمل رویہ ہے۔ محبت تو ایک دوسرے کہ وجود کو تسلیم کرنا، ذات کا احترام، خیال و قدر کرنا اور ذمے داری قبول کرنے کا نام ہے۔
ہر مکتبہ فکر نے محبت کی وضاحت اپنے الگ انداز میں کی ہے۔ علم نفسیات کے مطابق مخالف جنس میں جذباتی اور جنسیاتی کشش کو محبت کا نام دیا گیا ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے محبت کو شہوانیت کی نگاہ سے دیکھا اور محبت کو انسانی جنس کی تسکین قرار دیا۔ ایرک فرام بھی بنیادی طور پر نفسیات دان تھے۔ انہوں نے فرائیڈ کی نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے محبت کو انسان کی فطرت سے منسوب کیا۔ انسان جب تعمیری انداز میں محبت کرتا ہے تو اس کی ذات میں خود آگاہی کا شعور پیدا ہوتا ہے۔


