تھر کے موروں کی فریاد سنو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رانی کھیت کراچی کے لالو کھیت کی طرح کوئی علاقہ نہیں مگر مرغیوں اور موروں میں پائی جانے والی اس بیماری کا نام ہے جس نے سندھ کے تھرریگستان میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔

سندھ کے تھر میں گذشتہ کچھہ سالوں سے مور اور اور انسانوں کے بچے تھوک کے حساب سے مر رہے ہیں۔

لاکھوں مربعہ کلومیٹر پر مشتمل تھر ریگستان کا اسی فیصد حصہ ہندوستان میں ہے۔ اور باقی سندھ، پاکستان میں۔ اس کو دنیا کا واحد۔ فرٹائیل دیزرٹ۔ کہا جاتا ہے۔

سندھی تھر کی ایک اپنی دنیا ہے۔ کھربوں روپے کی معدنیات، جس کی مثال آج کل تھر کا کوئلا ہے۔ باز، ہِرن اور مور جیسے خوبصورت جاندار، سریلی آواز والے گلوکاراور ذائقے سے بھرپور کھانا بنانے والے باورچیوں سے تھر کا ریگستان بھرا پڑا ہے۔

تھر کے ہر گائوں میں اور ریت کی ہر بِھٹ پرآپ کو ایک سریلا فنکار ملے گا۔ اگر کسی کو اچھے میٹھے آواز کی تلاش ہے تو تھر اس ٹیلنٹ سے بھرا پڑا ہے۔

تھر میں جب قحط ہوتا ہے تو غریب تھری، خاص کر صرف مرد، محنت مذدوری کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

واقفیت کی بنیاد پر تھر کے نوجوان میں نے اسلام آباد تک کے گھروں میں باورچی کا کام کرتے دیکھے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ غریب لوگ جنہوں نے اپنے گھروں میں زندگی بھر شاید ہی کبھی گوشت پکایا ہو وہ اتنے لذیذ پکوان پکاتے ہیں کہ سندھ میں مشھور ہے کہ باورچی ہو تو تَھری۔

ان تھریوں میں بائی ڈفالٹ ایک مسئلہ ہے، اس کو آپ ان کی اچھائی کہیں یا برائی، فیصلہ خود کریں۔ اگر کوئی تھری تھر سے سینکڑوں میل دور آپ کے گھر میں دوپہر کا کھانا پکا رہا ہے اور اس کو پتہ چلا کہ تھر میں ( زوردار بارش) یعٰنی۔ وسکارا۔ ہوا ہے تو وہ ادھ پکی سالن کی ہانڈی اس کے بعد آپ کو خود پکانا ہوگی۔ تھری اسی لمحے تھر کی راہ لیگا ، کبھی کبھی تو باقی تنخواہ لئے بغیر ہی یہ جا، وہ جا۔ دھرتی کے ساتھہ ایسی محبت پہ قربان۔ ۔ ۔ ۔ !

اس تھر کو نظر لگ گئی ہے۔ وفاقی خواہ سندھ کی حکومت نے اس قیمتی ترین زمین اور غریب ترین لوگوں کے ساتھہ ایسا سلوک کیا ہے، جیسے ان پر آسیب کا کوئی سایہ ہو۔

گذشتہ سال قومی اسیمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بنیادی انسانی حقوق نے ایوان میں رپورٹ پیش کی کہ تھر میں صرف ایک سال میں پانچ سال تک کے 828 بچے جاں بحق ہوئے اور ان کے مرنے کا سبب خوراک کی کمی تھی۔

مگر میڈیا کی مستند رپورٹس ہیں کہ مئی 2016 تک ڈھائی سال میں 1300 بچے تھر میں خوراک کی کمی کے باعث جاں بحق ہوئے۔ معنٰی 43 بچے ہر ماہ!

انسانی موروں کی زندگی پر بے حس حکمرانوں نے کچھ نھیں کیا تو خوبصورت مور پرندے کی موت ان پر کیا اثر کرے گی۔

آج کل تھر میں مور کی موت آئی ہوئی ہے۔ سالوں کا حصاب کریں گے تو لاتعداد مور تھر میں رانی کھیت بیماری سے مر چکے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں صرف ایک ماہ میں چھاچھرو، کھنیسر، اسلام کوٹ اور نگرپارکر کے ایریا میں ڈیڑھہ سو سے زیادہ مور مر چکے ہین۔

بیماری میں مرنےوالی خبر سے بھی زیادہ انتہائی دردناک سرکاری رپورٹ سامنے آئی ہے کہ یہ مور بیماری سے نہیں بھوک سے مر رہے ہیں۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں سندھ کے محکمہ فاریسٹ اور وائیلڈ لائیف نے ایک میٹنگ میں تھر میں موروں کے مرنے والے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ، مور بیماری سے نہیں بھوک سے مر رہے ہیں۔

سماجی خدمت کے ادارے، اور اقوام متحدہ کے وہ ادارے جو بچوں کو، انسان کا ہو یا جانور کا، بھوک سے نہ مرنے دینے کا عزم لئے ہوئے ہیں کو کچھہ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ ورنہ ِ تھر کے نام پر پراجیکٹ لینی والی این جی اوز تو مور بچانے کے پراجیکٹ پربھی بار بار فنڈنگ لے چکی ہیں۔ اوروہ سندھ حکومت ان معصوم بچوں اور موروں کو بھوک سے مرنے سے کیا بچائے گی جس کے مٹھی اور عمرکوٹ کے فوڈ ڈپارٹمنٹ کے گوداموں سے اناج کی ہزاروں بوریاں یا تو چوری ہوتی ہیں یا رکھے رکھے خراب ہوجاتی ہے۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •