کیا آپ کبھی جنت میں گئے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کافی مضحکہ خیز سوال ہے۔ ذو معنی اور اشتعال انگیز بھی۔ ذو معنی کہ جنت جانے کے لئے مرنا شرط ہے، حساب کتاب کے مراحل ہیں اور کون شخص جنت میں نہیں جانا چاہتا۔

یہ اسی نسبت سے اشتعال انگیز بھی ہے۔ اگر آپ نے ادب نہیں پڑھا، مارک ٹوین نہیں پڑھا، چیخوف نہیں پڑھا، جان ملٹن، ڈکنز اور بورخیس کو بھی نہیں پڑھا، اور اس تحریر کو بھی اور اسے کوئی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے آگے نکل گئے۔

لیکن میں اکثر جنت جاتا رہتا ہوں۔ میرے سب استاد اور کئی دوست جنت جاتے ہیں۔ لیکن کیونکہ ہم زندہ ہیں اور یہ دنیا ہے لہذا اس کی جنت بھی عارضی ہے اور اکثر ہمیں جہنم تک بھی لے جاتی ہے۔ میرے کافی دوست جنت کے مقابلے میں جہنم جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارا ماحول اکثر جنت جیسا پر سکون منظر پیش کرنے کی بجائے جہنم کا سا پر شورش دکھائی دیتا ہے۔

مارک ٹوین نے کہا تھا ” اگر سکون چاہتے ہو تو جنت جاؤ، اگر کمپنی چاہتے ہو تو جہنم میں“۔

ہمیں جہنم کا ذکر نہیں کرنا چاہیے کہ بقول ٹالسٹائی ” سب پر مسرت خاندان ایک سے ہوتے ہیں اور ہر افسردہ خاندان کی افسردگی کا اپنا طریقہ ہوتا ہے“۔ دنیا جب کسی کے لئے جنت اور جہنم بنتی ہے تو اکثر تعریفیں بدل جاتی ہیں، اور موضوع کو جنت تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ میں کہہ رہا تھا میں اکثر جنت جاتا ہوں۔ اس کی اپنی سرحدیں ہیں، اپنے ضوابط اور اپنے مقسوم۔ وہاں مختلف افراد سے ملتا ہوں اور اکثر کو میری ذات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہاں پر آپ کی موجودگی ہی آپ کے ماضی، حال اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ وہاں امیر غریب، کالے گورے، چھوٹے یا بڑے میں کوئی فرق نہیں۔

وہاں ٹائم مشینیں دستیاب ہیں جو آپ کو جس تاریخ پہ جانا چاہیں لے جاتی ہیں۔ جس سلطنت کی سیر کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، کوئی ویزہ نہیں لگوانا پڑتا اور ہر پاسپورٹ کی ایک سی قدر ہے۔ جس قرارداد کو منظور ہوتے یا رد ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، اس کو اسی پہلو سے دیکھ سکتے ہیں۔ وہاں کوئی آپ کو کچھ بھی پڑھنے سے نہیں روکتا اور آپ اٹلس کو دیکھتے چند لمحات میں زمین کے گرد چکر لگا سکتے ہیں۔ عظیم بورخیس نے کہا تھا“ میں ہر وہ شخص ہوں جس سے میں ملا ہوں، ہر وہ ادیب ہوں جسے میں نے پڑھا ہے“ آپ وہاں خود کو کسی ناول کا کوئی کردار سمجھتے ہوئے اس کی زندگی جی سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک لائبریری میں ہی ممکن ہے۔ آپ سائنس پڑھیں تو خود کو لیب میں کھڑا پا سکتے ہیں۔ تاریخ پڑھیتے کسی واقعے کو آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ بشریات پڑھتے ہوئے بشری تہذیب و ثقافت سمجھ سکتے ہیں۔ سیاسیات کوئی بہتر قرارداد بنانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔

آخر پر یہی کہ لائبریری کو جنت میں نہیں کہتا، بورخیس نے کہا تھا۔ اور بورخیس کی ہی بات کو آگے پہنچاتے کہتا ہوں کہ میں ہی بورخیس ہوں کہ میں نے اس کو پڑھا ہے۔

“I have always imagined that paradise will be a kind of library”
–Jorge Louis Borges

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •