کوٹہ: ایک انوکھی وجہ شہرت کا حامل قدیم اور جدید شہر


پرانے وقتوں میں کوٹہ شہر کو کوٹاہ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ راجستھان کے جنوب مشرق میں واقع ایک قدیم شہر ہے۔ دریائے چنبل کے کنارے جے پور سے اڑھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ اس کی آبادی بارہ لاکھ سے زائد ہے۔ جے پور اور جودھ پور کے بعد یہ راجستھان کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے کوٹہ کی وجہ شہرت اس شہر میں موجود اہم کوچنگ سنٹر ہے جہاں بھارت کی اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے امتحانات کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ جس کی تفصیلات میں آئندہ صفحات میں بیان کروں گا۔

کوٹہ شہر کسی زمانے میں یہاں قائم بونڈی کی راجپوت ریاست کا ایک حصہ تھا۔ بعد ازاں اس نے بونڈی سے علیحدگی حاصل کر لی اور یہ ایک آزاد ریاست بن گیا۔ کوٹہ میں موجود کئی شاندار عمارتیں بھی اس کی وجہ شہرت ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ مشہور ایک ایسا باغ ہے جہاں دنیا کے ساتوں عجوبے بنائے گئے ہیں، جن میں تاج محل بھی شامل ہے۔ اس کی مختصر تاریخ آپ کی دلچسپی کا باعث ہوگی۔

یہ تمام تر معلومات میں نے Imperial Gazetteer of India، v۔ 15، p۔ 412 میں موجود کوٹاہ کے نام سے لکھے گئے ایک مضمون سے لی ہیں یہ مضمون نیٹ پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ آر پی شاشتری کی کتاب Jhala Zalim Singh ( 1730۔ 1823 ) ، the De۔ facto Ruler of Kota: Who Also Dominated Bundi and Udaipur، Shrewd Politician، Administrator، and Reforme سے بھی کافی معلومات ملی ہیں۔

ان کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ کہ بارہویں صدی عیسوی میں ایک چوہان راجپوت سردار راؤ دیو نے یہاں موجود پہلے سے قائم ریاست کو فتح کیا اور اپنی ریاست جس کا نام بونڈی تھا کی بنیاد رکھی۔ اس علاقے میں مغل حکمرانوں کی آمد کے بعد یہ ریاست مغل سلطنت کی حلیف بن گئی۔ کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں بونڈی کے ایک مقامی حکمران راؤ رتن سنگھ نے اپنے بیٹے جس کا نام مادھو سنگھ تھا کو کوٹہ کا علاقہ دے دیا۔ کوٹہ کا راجہ جوان بھی تھا اور عقل مند بھی۔ اس کے دور میں ریاست کوٹہ نے بے حد ترقی کی۔

اس علاقے میں کئی راجاؤں کے درمیان لڑائیاں ہوئی لیکن ایک لڑائی افسانوی رنگ کے لیے ہوئی ہے۔ یہ لڑائی تیرہویں صدی میں بنڈی کے جیت سنگھ اور کوٹیا بھیل کے درمیان ہوئی۔ جس میں کوٹیا کو شکست ہوئی۔ اس کی بہادری سے متاثر ہو کر جیت سنگھ نے اس علاقے کا نام کوٹہ رکھا۔ یہ بھی بہادروں کی قدر کا ایک طریقہ تھا۔ اس نے مزید یہ کیا کہ کوٹیا کا سر ایک مناسب جگہ پر دفن کروایا اور اس جگہ پر نشانی بھی بنائی جس پر لوگ آج بھی جاتے ہیں۔ خاص طور پر شاہی خاندان کے لوگ ہر سال یہاں حاضری دیتے ہیں۔

کوٹہ کا قلعہ ایک قابلِ ذکر عمارت ہے۔ اس کا ریمپ ایک سیدھی چڑھائی کی مانند ہے۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ا سی وجہ سے یہ ایک محفوظ قلعہ مانا جاتا تھا۔ یہاں پر کئی اور محل بھی موجود ہیں جو ان راجپوت راجاؤں کی یادگاریں ہیں۔ میں نے جو پڑھا اس کے مطابق ان میں سے اکثر عمارتیں اس دور کی ہیں جب اس ریاست کے والیان نے انگریزوں کے ساتھ صلح کر لی تھی اور امن کو جنگ پر ترجیح دی تھی۔ میرے لیے یہ بات بہت عجیب تھی کہ اس ریاست کے ایک والی کے نام کے ساتھ بریگیڈیئر کا لاحقہ بھی لگا ہوا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ریاست کے راجپوت حکمران، انگریزوں کی فوج میں باقاعدہ شامل ہوتے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ مغل فوج میں بھی عہدیدار ہوا کرتے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں دونوں طرح کے راجپوت سردار موجود تھے۔ ایک وہ جنہوں نے اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے جان دینا پسند کیا اور دوسرے وہ جو دربار میں کرسی پر بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ تاریخ نے دونوں کو یاد رکھا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں جب کبھی ہمارے بزرگ کسی کی دولت کی مثال دیتے تو وہ بھیم سنگھ کا نام استعمال کرتے تھے۔ میں جب اس علاقے کی تاریخ پڑھ رہا تھا تو میں نے مہاراؤ بھیم سنگھ کا نام بھی پڑھا۔ جس سے اس علاقے میں میری دلچسپی بڑھ گئی۔ میں نے مختلف لوگوں کی تحریروں میں پڑھا کہ بھیم سنگھ کے دور میں اس ریاست نے بے حد ترقی کی وہ پہلا شخص تھا جسے مہاراؤ کا لقب دیا گیا۔ یہ لقب یقینی طور پر اسے کسی دربار سے ہی ملا ہو گا۔

میں نے پچھلے صفحات میں ایک شخص زلیم سنگھ کا ذکر کیا تھا جو کوٹہ کی ریاست کا ایک جنرل تھا۔ کوٹہ کے راجہ کی وفات کے وقت اس کا بیٹا نابالغ تھا، اس وجہ سے ریاست کا انتظام زلیم سنگھ کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے انگریزوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں 1835 ء میں جھال اور ریاست کا وجود عمل میں آیا۔ مغل دربار سے اس ریاست کے بہت قریبی تعلقات تھے۔ یاد رہے اس ریاست کی بنیاد ہی مغل بادشاہوں نے رکھی تھی۔ ایک وقت آیا جب شاہجہاں اپنے بیٹے اورنگزیب کے خلاف لڑ رہا تھا تو یہاں کے راجپوت راجہ راؤ مادھو سنگھ نے بوڑھے مغل بادشاہ شاہ جہاں کا ساتھ دیا اور اس جنگ میں شاہجہاں کی طرف سے لڑتے ہوئے اس کے پانچ بیٹے مارے گئے۔ زندہ بچ جانے والے چھٹے بیٹے کے جسم پر پچاس سے زائد زخموں کے نشان تھے۔ کئی جگہ بیٹوں کی بجائے بھائیوں کا ذکر ہے۔ صحیح کیا ہے؟ مجھے معلوم نہ ہوسکا۔

کوٹہ اور برطانوی راج

تاریخ میں لکھا ہے کہ زلیم سنگھ کی رہنمائی میں جس ریاست نے انگریزوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے اس کا نام کوٹہ تھا اور اس طرح یہ شمالی ہندوستان کی پہلی راجپوت ریاست تھی جس نے انگریزوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب زلیم سنگھ کے کہنے پر ہوا جس کے بدلے اسے ایک الگ علاقہ دے دیا گیا جہاں اس نے جھالاور نامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اس طرح اس نے انگریزوں کے قدم جمانے میں مدد کرنے کا صلہ پا لیا۔ اس شہر میں کوٹہ حکمرانوں کے بنائے ہوئے محلات ابھی بھی موجود ہیں جو قابلِ دید ہیں۔

Facebook Comments HS