فورٹی رولز آف لو (چالیس چراغ عشق کے ) ایک موضوعاتی مطالعہ


فورٹی رولز آف لو اگر ایک عام قاری پڑھتا ہے تو اسے یہ وہم لازمی ہوتا ہے کہ اس نے کوئی کلاسیک ادبی شاہکار پڑھ لیا ہے۔ لیکن اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ فورٹی رولز آف لو نے ایلف شفق کو عالم گیر شہرت دی ہے۔ لیکن کوئی کتاب مشہور ہو جائے تو یہ اس کے شاہکار ہونے کا پیمانہ نہیں ہے۔

ناول فلسفہ، تصوف، عشق، روحانیت، شاعری اور اس کی اثر پذیری، قدیم و جدید دور میں عورتوں کے سماجی مسائل، مذہبی تعصب اور تسکین ذات کے موضوعات سامنے لاتا ہے۔

اس ناول میں دو کہانیاں ہیں۔ پہلی کہانی درمیانی عمر کی امریکی ہاؤس وائف ایلا کی ہے۔ ایلا تین بچوں کی ماں ہے اور اپنی گھریلو اور شادی شدہ زندگی سے ناخوش ہے۔ وہ ایک لٹریری ایجنسی میں جاب شروع کرتی ہے، وہیں اسے اے زی زہرا نامی مصنف کے ناول پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ناول کا عنوان ”سویٹ بلاسفیمی“ ہے اور یہ تیرہویں صدی کے شاعر اور عالم مولانا رومی اور ان کے راہبر شمس تبریزی کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ شمس کی مولانا رومی کی زندگی میں آمد ان کی شخصیت اور افکار کو کیسے تبدیل کرتی ہے، ان کی زندگی میں نامعلوم خلش اور جستجو کس طرح اختتام کو پہنچتی ہے اور شمس کے عشق کے متعلق چالیس اصول کس طرح رومی کے مکتب مفکر کو کئی درجے تک تبدیل کر دیتے ہیں۔ سویٹ بلاسفیمی ناول فورٹی رولز آف لو کے اندر ایک ناول ہے۔ شیکسپئر کے پلے ود ان آ پلے والی تکنیک کی طرح ناول ود ان آ ناول۔ اور یہ ”مٹی“ ، ”پانی“ ، ”ہوا“ ، ”آگ“ اور ”خلا“ ، پانچ ابواب میں تقسیم ہے۔

فورٹی رولز آف لو کے اچھے پہلو کتاب پڑھنے والے سب لوگ جانتے ہیں۔ مجھے اس کے اوجھل پہلوؤں پر بات کرنی ہے۔

مجموعی طور پر یہ ایک پاپولسٹ موو تھی۔ عوامی جذبات اور امنگوں کو پیش نظر رکھ کر لکھی جانے والی کتاب۔ ہر خطے اور مذہب کے ماننے والوں کو رام کرنے کا سامان اس کتاب میں اہتمام سے موجود ہے۔ یورپ کے لیے رومی، مشرق کے لیے روحانی و مذہبی ٹچ اور تفریح چاہنے والوں کے لیے رومانس۔ دنیا کے مختلف خطوں کی اور کچھ حد تک ایک دوسرے سے مخالف ثقافتوں کو ناول میں جگہ دے کر اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے منسلک رکھنے کی کوشش کی گئی۔ ایلف نے پوری ریسرچ کر کے مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق پراڈکٹ لانچ کی۔ ایلف نے روحانیت، صوفی ازم، الوہیت اور آفاقیت جیسے موضوعات چن کر ایک خاکہ بنایا اور اس میں اپنے مقاصد اور ایجنڈے پر پورا اترنے والے بیانیے کے رنگ بھرے۔

رومی کو بلا امتیاز ہر مذہب میں مقبولیت حاصل ہے۔ عوام و خواص دونوں رومی کی شاعری پسند کرتے ہیں۔ ایلف شفق نے شہرت و کامیابی کے لیے رومی اور شمس کو استعمال کیا۔ ان کے کردار لکھتے ہوئے اپنے ایقان اور نظریات عیار پن سے ان میں ٹھونس ڈالے۔ کیمیا اور شمس کا وہ مکالمہ پھر سے پڑھیں جس میں شمس کیمیا کو قرآنی آیات کے مطلب سمجھاتا ہے۔ پہلے وہ ترجمہ پڑھیں جو سورت نساء کی آیات کا شمس نے کیا۔ پھر گفتگو کا اگلا حصہ جہاں شمس کہتا ہے کہ؛ ”ہم میں سے ہر ایک کے اندر (خواہ وہ مرد ہو خواہ عورت) مردانگی اور نسوانیت دونوں کچھ مختلف درجات اور رنگوں میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب ہم اسے قبول کرتے ہیں تبھی ہم یکتائی سے ہم آہنگ ہوتے۔“

کیمیا کچھ حیران ہو کر پوچھتی ہے :
”Are you telling me that I have manliness inside me?“
شمس کہتا ہے :
”Oh، yes، definitely۔ And I have a female side too۔
کیمیا کا اگلا سوال:
”And Rumi? How about him?“
”Every man has a degree of womanliness inside.“
یہ صاف صاف پڑھنے والوں کو جینڈر آیڈنٹٹی کے کرائسس میں مبتلا کرنا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

اسی دوران شمس کیمیا کو شانے سے پکڑ لیتا ہے پھر اس کی انگلیاں کیمیا کے چہرے تک چلی جاتی ہیں۔ یہ ایسی حرکت تھی جو شمس کے کردار کو زیب نہیں دیتی تھی۔ اس کے بعد ایک اور باب میں شمس اور کیمیا کا ہی ایک اور مکالمہ جس میں کیمیا اس سے قدر و قسمت کے متعلق بات کرتی ہے۔ تھوڑا سا آگے جا کر وہ کہتی ہے :

”But God wants us to be clear. Otherwise there would be no notions of haram or halal,______.“
شمس اس سے نگاہ ہٹائے بنا جواب دیتا ہے :
”In love boundaries are blurred.“
(کیا کچھ سمجھ آئی ہے؟ یا روحانیت اور محبت کا لیبل لگی ہوئی اصل میں بے راہ روی کی بوتل پی لی؟ )
رومی اور شمس کا تعلق پہلے سے معتوب تھا۔ ایلف نے جس انداز سے اسے لکھا اس پر مزید سوال اٹھتے ہیں۔

کرداروں کا سیاہ سفید یا سرمئی ہونا برا نہیں ہوتا، منافق ہونا برا ہوتا ہے۔ مثلاً ایلا کو گلہ ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ بے وفائی کر رہا ہے۔ اور وہ خود کیا کر رہی ہے؟ اسے ڈیوڈ پر رنج تھا لیکن وہ اس کے متعلق اس سے بات تک نہیں کرتی بلکہ موقع ملتے ہی عزیز کے ساتھ سٹیج سیٹ کر لینے میں جت جاتی ہے۔ اگر کوئی غیر تسلی آمیز، بے مستقبل کے شادی شدہ تعلق میں ہو تو اس کے لیے یہ درست اور جائز ہو گیا کہ وہ جھوٹ بولے، افیئر شروع کر لے؟ ایلا کے اندر شوہر کی نظر میں بے مائیگی کا احساس اتنا ہی زیادہ تھا تو اسے پہلے پوائنٹ پر چھوڑ دیتی۔ کیا مجبوری تھی اس کے ساتھ رہنے کی؟ اگر ایلا کی کہانی کی ابتدا ایک طلاق سے، یا سنگل مدر کے نکتے سے شروع ہو کر کلائمکس تک آتی تو اس کے معنی کافی مختلف ہوتے لیکن اس صورت میں ایلف باجی کا ایجنڈا کدھر جاتا۔

ایلا کی پوری کہانی اخلاق، انصاف، اور ذات شناسی کی قدروں کا مذاق اڑاتی ہے۔

عزیز زاہرہ کے کردار کو ایک ماڈرن صوفی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے البتہ صوفی نہیں۔ صوفی سے زیادہ وہ ایک ’ہپی‘ لگتا ہے، تھوڑا سا ہچ ہائیکر۔ اسے ذہنی سکون کی تلاش تھی، تصوف یا تلاش معرفت اس کا مقصد نہیں تھا۔

رومی نے شمس کو اپنے قریب رکھنے کے لیے اس کی شادی کیمیا سے کروا دی۔ جب کہ وہ شمس کی طبیعت اور مزاج کو بخوبی سمجھتا تھا کہ وہ گھر بنا کر رہنے والا شخص نہیں ہے۔ وہ اچھا مفکر ہو سکتا تھا، اچھا دوست ہو سکتا تھا لیکن اچھا شوہر نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود رومی نے ایک خود غرضانہ عمل کیا۔

انسانی افعال پر معاشرتی دباؤ کے اثرات نہیں ہونے چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ اس دباؤ سے آزادی اور سبک دوشی کا اعلان سر بازار کیا جائے وہ بھی اس انداز سے کہ عقل ایک کونے میں کھڑی تماشا دیکھتی رہے؟ رومی اور شمس دونوں پورے ناول میں یہی کرتے رہے۔ رومی شمس کو لے کر گرد و نواح سے ایسے غافل ہو گئے کہ انہیں خبر تک نہ ہوئی کہ ان کا بیٹا کن لوگوں سے میل جول بڑھا چکا ہے۔ رومی سے ایک سادہ سوال یہ ہے کہ آپ کو بیوی بچوں کی پروا نہیں ہے تو آپ اور وہ ایک دوسرے کی زندگی میں کر کیا رہے ہیں؟ ایک جانب کسی دوسرے انسان کو دل شکستگی کی تکلیف نہ دینے کا پرچارک ہونا اور دوسری جانب وقت آنے پر ایثار، برداشت کے الفاظ بھول کر، اپنے گھر، خاندان، پیشے کے تقاضے فراموش کر کے مولانا صرف ایک شمس کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بہت خوب۔

رومی کے بیٹے سلطان ولد، الہ دین، کیرا، ڈیزرٹ روز، حسن، بیبرس، سلمان، حشیشین سے منسلک قاتل ناول کے کچھ دوسرے اہم کردار ہیں۔

ناول کی کہانی رواں ہے، بے وجہ کی لمبائی نہیں ہے، فالتو مناظر اور بے کار تفصیلات نہیں ہیں۔ زبان جان دار ہے، پڑھتے ہوئے محسوس بھی ہوتا ہے۔ اگر کہیں ڈنڈی ماری گئی ہے تو وہ کہانی کے تھیم اور مقاصد میں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ واشنگٹن کا ٹکٹ کٹوائیں اور جہاز آپ کو ماسکو چھوڑ آئے۔ ایلف نے ریڈرز کے ساتھ یہی کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈرز کو سمجھ بھی نہیں آئی۔

میں یہی کہوں گی کہ ایلف کا صوفی ازم کا تصور اصلی اور تاریخی صوفی ازم سے بہت ہٹا ہوا ہے۔ چاہے وہ رومی کی داستان ہو چاہے ایلا کی کہانی۔ ناول کا ایلا اور عزیز والا پورا حصہ ایک رومانوی ڈرامے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ مزید یہ کہ ناول عصری مسائل کا کوئی قابلِ عمل حل پیش نہیں کرتا، روایتی تصورات کو نئے الفاظ میں بیان کر کے قارئین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ناول ایک اچھا مطالعاتی تجربہ ہے لیکن ساتھ ہی ایجنڈے اور بیانیے (Narrative) کی سطحیت بھی ہے۔

ناول پڑھنے کے بعد پیدا ہونے والے کچھ سوالات:

کیا ناول کے اندر شمس کی تعلیمات کو درست انداز سے پیش کیا گیا؟ یہ اسی طرح ہونا چاہیے تھیں جیسے ایلف شفق نے پیش کیں؟
کیا رومی اور شمس کے تعلق کو آج کے دور میں صوفی مفکرین کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے؟
ایلا کے کردار سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
میں اس ناول کو 7.5 / 10 کی ریٹنگ دوں گی۔

نوٹ: یہ کتاب اردو زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہے۔ اگر آپ انگریزی پڑھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں تو اردو ترجمہ میں پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے انگریزی کتاب پڑھ کر ترجمے کا جائزہ لیا تھا۔ شاندار ترجمہ ہے۔

Facebook Comments HS