یَا اللہ کُرسی سے بچا


میرے بچپن کی سہیلی کی مرحومہ امی جو گورنمنٹ ساہیوال گرلز کالج کی پرنسپل تھیں بتایا کرتی تھیں کہ جب ان کا تبادلہ اسلامیہ کالج کُوپر روڈ لاہور میں ہوا تو وہ باقاعدہ یہ دُعا مانگا کرتی تھیں : ”یا اللہ کُرسی سے بچا!“ کیوں کہ انہوں نے سُن رکھا تھا کہ لاہور میں کسی بھی کالج کی پرنسپل شِپ اختیار کرنا کسی بھی ایمان دار بندے کے لیے جان جوکھوں کا کام ہے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک بے لوث اور بے غرض استاد تھیں۔ بنیادی طور پر وہ ریاضی کی پروفیسر تھیں۔ نام ان کا مسز تسنیم حسن تھا۔ راہ چلتے بھی طالب علموں کو حساب اور جیومیٹری کے فارمولے سکھا کر ہی اُٹھتی تھیں۔ قول و فعل میں ذرا بھی تضاد نہ تھا۔ لالچ اور جھوٹ سے پاک شخصیت تھیں دراصل کُرسی کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے آنٹی حسن بے طرح یاد آئیں۔

کُرسی کا خیال یوں آیا کہ ہمارے سیاست دان اداکار تو جیسے کُرسی پر میجک اپوکسی سٹیل لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کُرسی نجانے پہلے پہل کس نے ایجاد کی ہو گی۔ پہلے شاید چوکی بنی ہو پھر کسی دیوانے نے اسے لمبی لمبی ٹانگیں لگا کر کسی کُرسی کی ابتدائی شکل دی ہو گیا۔ پُرانے وقتوں کے بادشاہ تو تخت نشین ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے میں یا سوچ ماڈرن نہیں تھی یا بادشاہ آلتی پالتی مار کر تخت پر براجمان ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تپائیوں، بنچوں، تختوں اور چارپائیوں سے ہوتی ہوئی کُرسی تخلیق ہوئی۔ سب سے پہلے قدیم مصر میں کُرسیاں معرضِ وجود میں آئیں۔ وہاں سے ہوتی ہوئی وہ یونان اور رُوم تک پھیل گئیں۔ نینوا کی تہذیب میسو پوٹیمیا میں بغیر کمر ٹیک کے کُرسیاں ملیں مگر ان کی ٹانگیں شیر کی ٹانگوں سے مشابہ تھیں یعنی مضبوطی کی علامت۔ پھر دنیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ کُرسیاں بھی جدید ڈیزائنوں کی بننے لگیں۔ ہماری روز مرہ کی زندگیوں میں کُرسیوں کا اہم ترین رول ہے۔ اپنے آرام سے لے کر کھانا کھانے اور کام کرنے تک ہر انسان کُرسی پر بیٹھتا ہے۔ کہیں ریکلائز چیئر ہوتی ہے تو کہیں روکنگ چیئر تو کہیں وہیل چیئر غرض یہ کہ دنیا میں بھانت بھانت کی کُرسیاں ہیں۔

برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز اور کینیڈا میں کُرسی اختیار اور طاقت کی علامت ہے۔ کُرسی کے بھی مختلف کردار ہوتے ہیں۔ کوئی وزیرِ اعظم کی کُرسی ہے تو کوئی صدر کی کُرسی کوئی صوبائی و زیرِ اعلیٰ کی کُرسی مختلف تنظیموں کی بھی کُرسیاں ہوتی ہیں۔ کُرسی لوگوں کے با اختیار عہدوں کی حکمت عملی کو ایمان داری سے پورا کرنے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ڈاکٹر کی کُرسی اس سے دُکھی انسانیت کی خدمت کا بھر پور تقاضا کرتی ہے۔ ایک اُستاد کی کُرسی اُس سے ملت کی وحدانیت کی تعمیر کی مانگ کرتی ہے۔ عدلیہ کی کُرسی جس پر جج براجمان ہوتے ہیں وہ بلند و بالا ہوتی ہے جس تک پہنچنے کے لیے باہر بنچوں پر بیٹھ کر برسوں انتظار کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں وکیل کی کرسی سے زیادہ پیچ دار کسی اور کی کرسی نہیں ہوتی۔ ایک افسری کُرسی ہوتی ہے اور پھر کلرک بادشاہ کی کرسی۔ وزیروں کی کُرسیاں تو آج کل شاید لوٹوں کی کُرسیاں بھی کہلاتی ہیں جن پر بیٹھنے والے بالکل شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ بہت سے صوبائی وزیر حتیٰ کہ وزیراعظم تک بھی سجی سجائی بیش قیمت پلیٹوں میں رکھی ہوئی کُرسیوں پر دوڑ کر تشریف کا ٹوکرا رکھ دیتے ہیں۔

سُنا ہے بے جان چیزوں کے دل نہیں ہوتے مگر انسان کے اندر تو دل ہوتے ہیں مگر وہ دل انصاف سے عاری ہوتا ہے۔ وہ کُرسی کی چمک دمک اور اس کے آگے جھکنے والے درباریوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کُرسی کی حُرمت کو قطعی طور پر بُھول جاتے ہیں۔ دراصل سربراہ مملکت کی کُرسی شاید کسی نشے دار لکڑی سے بنائی جاتی ہے جسے چھوڑنے کو کسی کا بھی دل نہیں کرتا خواہ اس پر بیٹھے رہنے سے کتنوں کی جانوں سے ہی کیوں نہ کھیلنا پڑے؟ کیوں کہ اصل غلام اور کورنش بجا لانے والے تو انہی کُرسیوں کے گرد طواف کیے جاتے ہیں۔

پارلیمنٹ کی کُرسی تو ایجنڈا طے کرتی ہے۔ این۔ جی۔ اوز کی کُرسیاں انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرتی ہیں۔ بیت المال کے متولی کی کرسی مال کو مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ انسان کے خیالات اور معلومات اسے اس کے عہدے کی کُرسی پر بیٹھنے سے پہلے اس کی ایمان داری کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمارا آئین ہمارا دستور اور دین ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر حال میں سچ بولو جو کہو وہی کرو پورا پورا انصاف کرو۔ جس کُرسی پر بھی بیٹھو اس کی حرمت کی عزت کا پاس کرو چاہے وہ تمہارے گھر کے کھانے کی کُرسی ہی کیوں نہ ہو؟ حاکم اور محکوم کے تعلقات مضبوط اور خوش گوار بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ جس بھی کرسی پر بیٹھا جائے اس کے منصب کو امانت داری سے نبھایا جائے ورنہ دُعا کی جائے ”یَا اللہ کُرسی سے بچا!“

آج کل سیاست دان بہت کہتے ہیں فلاں نے پارٹی کے لیے مشکل وقت میں مدد کی لہذا انہیں اچھے عہدے کی کُرسی پر بٹھا دو۔ کُرسی پر بیٹھنے والے کو دیکھنا چاہیے کہ کیا پارٹی کا نظریہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے یا صرف پارٹی کے؟ ہر گھر ہر دفتر ہر جگہ پر کُرسی تو موجود ہوتی ہی ہے۔ کئی کُرسیوں پر ہم گھڑی دو گھڑی کو بیٹھتے ہیں یعنی عوامی جگہوں پر مگر جو ہمارے عہدوں کی کُرسیاں ہیں وہ ہم سے بنی نوع انسان کی فلاح اور ان سے وابستہ ذمہ داریوں کا تقاضا کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی جدید دنیا میں سائنسدانوں، مصنفوں، ریاضی دانوں، ڈاکٹروں، استادوں، فنکاروں ہر ایک نے اپنا اپنا منفرد کردار ادا کیا ہے۔ مگر سیاست دانوں نے ایمان داری سے کُرسی پر بیٹھنے کا حق ادا نہیں کیا۔ انہیں کبھی بے چینی نہیں ہوئی۔ اس کُرسیوں پر کبھی انہیں کھٹملوں نے نہیں کاٹا۔ ہر وزیر کی کُرسی اُس سے انصاف اور ایمان داری کا تقاضا کرتی ہے مگر وہ غریب عوام کا خون چُوس کر اس کُرسی کے مزے اُٹھاتے ہیں۔ شاید اس کالم کو پڑھ کر وہ بھی کہہ اُٹھیں : ”یَا اللہ کُرسی سے بچا!“

Facebook Comments HS