پاک افغان ریلوے نیٹ ورک کے امکانات
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات اور اقتصادی روابط کو مزید بہتر بنانے کے لئے ریل لنک پراجیکٹ کے تحت کوہاٹ سے افغانستان بارڈر تک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ وفاقی وزارت ریلوے کی سینٹ میں جمع کردہ دستاویزات کے مطابق ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریل لنک پراجیکٹ کے تحت خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے افغانستان بارڈر تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی جس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ریلوے لائن کے لئے اراضی کی خریداری کے لئے مجموعی طور پر 15 ارب 67 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے جس میں رواں مالی سال کے لئے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق مذکورہ ریلوے لنک پراجیکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کیا جائے گا اس مقصد کے لئے متحدہ عرب امارات کی ابوظہبی پورٹ کمپنی کے ساتھ 8 نومبر 2024 کو ایم او یو پر دستخط کیے گئے ہیں۔
متذکرہ بالا رپورٹ میں افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کی غرض سے کوہاٹ افغانستان کے جس ریلوے ٹریک کی نشاندہی کی گئی ہے یہ دراصل اس پرانے ٹریک کا نیا بلیو پرنٹ ہے جس کی بنیاد انگریزوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں رکھی تھی۔ واضح رہے کہ خوشحال گڑھ، کوہاٹ، ٹل ریلوے لائن پاکستان کی متعدد ریلوے لائنوں میں سے ایک ہے جس کی کل لمبائی 160 کلومیٹر ہے۔ اس ٹریک پر جنڈ جنکشن سے ٹل تک 18 ریلوے اسٹیشن اور جنڈ جنکشن سے کوہاٹ تک 4 ریلوے اسٹیشن ہیں۔ یہ ریلوے لائن 1991 سے غیر فعال ہے جس کی بنیادی وجہ اس کا تنگ گیج ہے۔
واضح رہے کہ یہ تاریخی ریلوے ٹریک ایک مخلوط گیج پر مشتمل تھی جسے 1902 میں نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے نے بنایا تھا۔ اس ٹریک کا خوشحال گڑھ، کوہاٹ سیکشن 1,676 ملی میٹر ( 5 فٹ 6 انچ) براڈ گیج ٹریک پر مشتمل تھا جبکہ کوہاٹ، ٹل سیکشن 762 ملی میٹر ( 2 فٹ 6 انچ) تنگ گیج ٹریک پر مشتمل تھا۔ خوشحال گڑھ کو 1881 میں ایک مختصر 11 کلومیٹر ( 6.8 میل) براڈ گیج لائن کے ذریعے نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے مین لائن پر جنڈ جنکشن سے جوڑا گیا تھا جسے آج کل کوٹری، اٹک ریلوے لائن کہا جاتا ہے۔ یہ لائن دریائے سندھ کے دائیں کنارے سے خوشحال گڑھ کی طرف کوہاٹ تک تعمیر کی گئی تھی جس کی لمبائی تقریباً 48 کلومیٹر تھی۔ شروع میں دریائے سندھ کو خوشحال گڑھ کے قریب عبور کرنے کے لیے رسیوں پر مشتمل ایک چھوٹی گیج 2 فٹ 6 انچ کی لائن بچائی گئی تھی۔
1903 میں ایک حادثے نے دریائے سندھ پر روپ وے بند کر دیا تھا اور اس کی جگہ ایک کشتی پل نے لے لی تھی۔ آخر کار دریائے سندھ کو عبور کرنے والے خوشحال گڑھ پل کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی خوشحال گڑھ، کوہاٹ سیکشن کو چھوٹے گیج سے براڈ گیج میں تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا البتہ کوہاٹ سے ٹل تک 100 کلومیٹر کے ٹریک کو 2 فٹ 6 انچ ہی رہنے دیا گیا تھا۔ 1947 میں قیام پاکستان کے ساتھ یہ ریلوے لائن پاکستان ویسٹرن ریلوے کو منتقل کر دی گئی جو جون 1991 تک فعال رہی لیکن بعد ازاں اسے بند کر دیا گیا جو تاحال نہ صرف بند ہے بلکہ اکثر جگہوں سے اس کا ٹریک بھی غائب کر دیا گیا ہے جب کہ اکثر ریلوے سٹیشن بھی خستہ حالی کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ طویل تعطل کے بعد 2017 میں کوہاٹ، ٹل سیکشن کی تعمیر نو اور خوشحال گڑھ، کوہاٹ سیکشن کو اپ گریڈ کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں لیکن ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔
یہ پراجیکٹ اگر روبہ عمل آتا ہے تو یقیناً اس سے نہ صرف اس سارے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان سمیت متعدد وسطی ایشیائی ممالک کی اقتصادی ترقی میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے لیکن یہاں ایک عام اور سادہ فہم سوال یہ ہے کہ جب پشاور طورخم ریلوے ٹریک کی صورت میں پہلے سے ریل کا ایک وسیع اور تاریخی نیٹ ورک موجود ہے جس کی مسافت بھی کوہاٹ روٹ کے ایک تہائی سے بھی کم ہے اور یہاں پہلے سے ٹریک، پلوں، سٹیشنز اور سرنگوں کی صورت میں ایک مضبوط انفراسٹرکچر بھی موجود ہے تو ایک نیا اور نسبتاً طویل اور دشوار گزار نیز فرقہ واریت کی وجہ سے ہمیشہ بدامنی کے شکار روٹ پر یہ مجوزہ ریلوے ٹریک بچھانے کی کیا منطق ہے اس کا درست جواب تو یقیناً متعلقہ ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں عام لوگوں کے لیے بھی باآسانی سمجھنے اور قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ کرم اور ملحقہ علاقوں کی فرقہ ورانہ حساسیت کے حوالے سے یہ بتانا اہمیت کا حامل ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے باعث پارا چنار ٹل مین روڈ جو بعض اوقات کئی کئی ماہ تک بند رہتی ہے جب کہ دوسری جانب خیبر پاس ریلوے لائن (پشاور تا لنڈی کوتل) جس کی کل لمبائی محض 58 کلومیٹر ہے اور جو کہ بڑے گیج پر مشتمل ہے افغانستان کے ساتھ ریلوے نیٹ ورک کی فعالیت کے حوالے سے ایک زیادہ قابل عمل روٹ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس روٹ پر پاکستان اور افغانستان کی کاروباری سرگرمیاں سال کے بارہ مہینے جاری رہتی ہیں جب کہ یہ روٹ قریب ہونے کے ساتھ ساتھ فرقہ ورانہ کشیدگی اور بدامنی کے حوالے سے بھی ایک محفوظ اور تجارت دوست روٹ سمجھا جاتا ہے لہٰذا پہلے مرحلے میں اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کوہاٹ، ٹل کے طویل اور بدامنی کے شکار نیز چھوٹی گیج کی ٹریک کی بجائے پشاور لنڈی کوتل ٹریک کو فعال بنایا جائے تو اس سے جہاں اخراجات کی خاطر خواہ بچت ہوگی وہاں یہ منصوبہ کم وقت کے لحاظ سے بھی جلد پایہ تکمیل کو پہنچ سکے گا۔



یہ تین ممالک کے درمیان ریلوے لائن کا منصوبہ عمران خان کے دور میں طے پایا تھا جس کی لاگت 5 سے 6 ارب ڈالر آنی ہے اور تکمیل 2027 تھی۔ اس میں سب سے بڑا فائدہ ازبکستان کا ہونا تھا اور وہی اس کا مین انوسٹر بھی ہوگا جو افغانستان میں بھی ریلوے لائن بچھائے گا۔ افغانستان کا ہر حال میں فائدہ ہے جب کہ وسطی ایشیائی ممالک اورافغانستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک تیز ترین رسائی مل جائے گی جو پزنچ سے سات دن بچائے گا اور ترسیل کی لاگت 40 سے 50 فی صد کم ہوجائے گی۔
–
ازبک پلان کے مطابق یہ ترمز، ازبکستان سے ہوتے ہوئے مزار شریف اور لوگرصوبوں سے گزرتی ہوئی (اس میں کابل جلال آباد نہیں ہے جو باڑہ پشاور کے پاس ہے) پاکستانی کرم اور پارا چنار کے پاس پاک افغان خرلاچی بارڈر پر ختم ہوگی۔ اس کے آگے سے سارا نیٹ ورک پاکستان ریلوے نے اس طرح بچھانا ہوگا کہ خرلاچی سے مال گاڑیاں کراچی کی بندرگاہ تک پہنچ سکیں۔ براڈ گیج اور چھوٹے گیج کے مسائل اس کے سوا ہوں گے۔ نزدیک روٹ کوہاٹ تھل کا ہی بنتا ہے۔
–
پاراچنار، کرم، کوہاٹ وغیرہ کے لوگوں کے لئے یہ کتنی بڑی نعمت ہوگی اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا جس سے روزگار اور کراچی پہنچنا کتنا آسان ہوجائے گا۔ اس کو بند کرنا یا خراب کرنا ۔۔۔اپنے پیر کلہاڑی مارنے جیسا ہوگا۔