کیا جغرافیائی سرحدیں مقدس ہوتی ہیں؟
بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، سماجیات، مدنیات اور سماجی علوم کے دیگر مضامین کے اکثر و بیشتر طلبہ، اساتذہ اور دیگر وابستہ افراد اس خیال کے حامی ہوتے ہیں کہ قومی ریاستوں (نیشن سٹیٹس) کی سرحدیں انتہائی مقدس ہوتی ہیں۔ چونکہ مذکورہ بالا تمام مضامین یورو سینٹرک نظریہ علم کے تحت پروان چڑھائے گئے تھے لہٰذا ریاستوں یا سرحدوں کی تقدیس کا نظریہ یورپی کالونیل مفادات کے عین مطابق تھا۔ تاہم یہ امر پیش نظر رہے کہ ریاستوں اور ان کی سرحدوں کی تقدیس کا تصور صرف اپنی اپنی متعلقہ قومی ریاست سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔ ایک قومی ریاست / نیشن اسٹیٹ میں رہنے والی آبادی علمی طور پر یورپی کائناتی شعور (European Cosmology) کے تحت ریاست / سرحدوں اور اس کے دیگر اداروں کی تشکیل کو عین فطری سمجھتی ہے۔ ریاست کے وجود کو فطری سمجھنے کے اس عمل اور علم سے وہ تمام تاریخی، ارتقائی، بعد ازاں سامراجی اور نوآبادیاتی عوامل شعوری طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں جن سے ریاست ایک ادارہ کے طور پر وجود میں آئی تھی۔ یوروسیٹرک نظریہ علم اس بات کو چھپاتا ہے کہ جدید قومی ریاست کا تصور یورپی کالونیل اور سرمایہ دارانہ نظام اور مفادات کے تحت وجود میں لایا گیا تھا۔
قومی ریاست کا وجود / قومی سرحدوں کا قیام / جغرافیائی بنیادوں پر قوم کی تشکیل مغرب کی کالونیل توسیع پسندی، سامراجی منصبوں کا نتیجہ اور پراجیکٹ تھیں۔ آج جو چیز ”قومی ریاست“ کہلاتی ہے یہ بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کی ”منڈی“ ہے اور بین الاقوامی تعلقات کا مضمون، ”منڈیوں پر قبضہ کی جنگ“ کا یورپی اور امریکی نقطہ نگاہ کی تشریح اور تاویل ہے۔
جدید قومی ریاست یورپ میں Glorious Revolution، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے دوران سرمایہ دارانہ نظام کے عروج کے طور پر ابھرا۔ جدید قومی ریاستوں میں حکومتی نظام اور سیاسی ڈھانچہ اور ادارے تاجر اور سرمایہ دار قوتوں کے طاقت کے استحکام اور عوام کو کنٹرول کرنے جیسی بنیادی پالیسیوں کے تحت ترتیب و تشکیل دیے گئے تھے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ریاستی قوت ہمیشہ سے سرمایہ دار اور ان کے اتحادی گروہوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ قومی ریاست میں قوانین سازی بھی عوام کے نام پر بالادست طبقات کے مفادات میں کیے جاتے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں نوآبادیات کے خاتمہ کے بعد آزاد ہونے والی ریاستوں میں بھی وہی سیاسی ڈھانچہ اور شہری ماڈل نافذ کیا گیا جو یورپی کالونیل آقاؤں کا ورثہ تھا۔
قومی ریاست کے نام پر یورپی کالونیل طاقتوں کی جانب سے ایک ایسا قانونی ادارہ یا ایک ایسی شہری تشکیل بنائی گئی جس نے مخصوص اور متعین سرحدوں کے اندر ایک کمیونٹی کی شناخت کا تعین کرتے ہوئے ”شہری“ ، ”نیشنل“ اور ”قوم“ کے قانونی شناخت، ثقافتی علامت اور جذباتی تعلق کے تصور کو ابھارا اور جب ایک دفعہ سرحدیں (منڈیاں ) بن گئیں تو پھر عوام/ آبادی پس منظر میں چلی گئی۔
ہم پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ قومی ریاست کو ایک غیر جانبدار یا عالمی ماڈل نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگر یورپی قومی ماڈل اتنا ہی بہتر ہوتا تو آج پوری دنیا میں مختلف ثقافتی، قومی، مذہبی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر آزادی یا علیحدگی پسندی کی تحریکیں نہ چل رہی ہوتیں۔ سرحدوں اور ریاستوں کا تعین کالونیل طاقتوں نے اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کے تحت بذریعہ طاقت کیا تھا اسی طرح مختلف ریاستوں جیسے ہندوستان، آسٹرو۔ ہنگری ریاست (یورپ) ، سلطنت عثمانیہ (مشرقِ و سطیٰ) اور دیگر کو تقسیم کرنے، تحلیل کرنے اور نئی حد بندیوں کی تشکیل کے پسِ پشت بھی سامراجی اور نوآبادیاتی مقاصد و مفادات تھے۔
آج دنیا بھر میں بین الریاستی علاقائی تنازعات اور قومی ریاستوں کے اندر جاری آزادی، علیحدگی، حق خود ارادیت اور خودمختاری کی پرامن سیاسی جدوجہد یا پرتشدد مسلح تحریکیں ماضی کے نوآبادیاتی نظام، ہوس ملک گیری، ریاستوں کی مصنوعی سرحدوں کے قیام کے نتیجہ کے طور پر وجود میں آئے ہیں۔ ایشیا میں فلسطین، کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان، کردستان، تامل ٹائیگرز، مشرقی ترکستان (چین) ، جنوبی ترکستان (افغانستان) ، ناگالینڈ، میزورام، منی پور، نکسل باڑی، آسام، میگھالیہ، تری پورہ اروناچل پردیش (انڈیا) ، احواز تحریک (ایران) ، تالیشی تحریک (آذر بائیجان) ، Ryuku/ اوکیناوا تحریک (جاپان) ، کوکی تحریک (بنگلہ دیش) ، اراکان (میانمار) ، مدیش (نیپال) ، افریقہ میں بیافرا (نائیجیریا) سمیت ازواد (مالی) ، کاسا مینس (سینیگال) ، ساہروی (مراکش) ، تگرے (ایتھوپیا) ، امبازونا / کا بندا (کیمرون) ، ماتا بلیندا (زمبابوے ) ۔ یورپ میں بکتاشی تحریک (البانیہ) ، فلیمش تحریک (بیلجیئم) ، استریا (کروشیا) ، ابخازیا (جارجیا) ، باسک (اسپین) ، کیوبک (کینیڈا) سمیت دیگر بہت سی چھوٹی بڑی تحریکیں نا صرف ماضی میں فعال تھیں لیکن بہت سی تحریکیں اب بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
یہ تحریکیں محض علاقائی تنازعات نہیں ہیں بلکہ یہ تاریخی اور ثقافتی طور پر نوآبادیات اور سامراجیت کے ورثہ سے جڑے ہوئے نسلی، ثقافتی، لسانی، معاشی، سیاسی و سماجی مسائل ہیں۔ درحقیقت ہماری دنیا کے موجودہ عالمی نظام / ورلڈ آرڈر کی تاریخی بنیادیں 15 ویں صدی کے یورپی نوآبادیاتی نظام اور 18 ویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام نے تشکیل دی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ 18 ویں صدی تک کوئی بھی عالمی معاشی نظام، عالمی معاشی نظریہ موجود نہیں تھا۔ ازل سے دنیا بھر میں معاشی تعلقات اور معاشی طریقہ موجود رہے ہیں تاہم وہ سرمایہ دارانہ معیشت جیسی عالمی نہیں تھی۔ عالمی معاشی نظریہ کی پیدائش کا تعلق ایک جڑے ہوئے عالمی سیاسی نظام کی تشکیل سے تھا۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی سیاسی معیشت کے طفیل ہی ایڈم اسمتھ اور فرنچ فزیو کریٹس معاشی نظریہ دان کے طور پر ابھرے وگرنہ یونان اور روم میں اس طرح کے عالمی معاشی نظریہ کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔


