محبت اور دوسرے کباڑ
یہی کوئی پانچ برس ہو چلے ہوں گے کہ مجھے ایک عجیب سا ناول ملا تھا ؛ جی، ایسا کہ میں اسے کھولے بغیر کچھ وقت کے لیے دیکھتا رہ گیا تھا۔ جہاں میں اٹکا ہوا تھا وہ ایک نہیں دو مقامات تھے اور دونوں سرورق پر تھے۔ کتاب پر مصنف کا نام رشاد بخاری تھا۔ یہ نام ہمارے ہاں معروف نہیں ؛ خدشہ ہوا، ہو نہ ہو ’ارشاد‘ نام ہو گا ’الف‘ چھپائی میں اُڑ گیا ہو گا۔ اس سہو اور نالائقی پر دل ہی دل میں ناشر اور پرنٹر کو کوسا اور کتاب کھول کر اندرونی صفحات پر دیکھا۔
وہاں بھی رشاد بخاری چھپا ہوا تھا۔ تب جھینپنے کی جو کیفیت مجھ پر طاری ہوئی تھی اس کی ایک لہر ابھی تک بدن بیچ لرزتی ہے۔ کتاب بند کر کے نظریں پھر سے سرورق پر جما لیں۔ کتاب کا نام تھا: ”بھٹیارن“ جسے پڑھ کر میرا دھیان اس بھٹیارن کی طرف چلا گیا تھا جس کی بھٹی پر میں بچپن میں اناج بھنوانے جایا کرتا تھا اور بھٹیارن کے منع کرنے پر بھی بھٹی کے شعلے بھڑکانے کو اس میں ’کوندر‘ جھونکتا رہتا تھا۔ تپتی ریت، جو کڑاہ کے اندر ہوتی اس پر دانے ڈالے جاتے تو ہر نوع کے اناج کا ردعمل الگ ہوتا تھا۔
چنے بھن چکتے تو وہیں پڑے رہتے اور انہیں کڑاہ کے اندر ہی مٹی کی ہانڈی کے تلوے تلے رگڑا لگایا جاتا ؛ یوں کہ دانے دانے کا چھلکا اتر جاتا۔ مکئی بھن کر پھولتی اور ناچتے ہوئے باہر نکلتی تھی جسے بھٹیارن ایک بڑی سی چھاننی پر روک لیتی۔ مونگ پھلی ریت ہی میں لوٹنیاں لیتی رہتی تھی اور پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ کب بھن کر تیار ہو چکی۔ سرورق پر ذیلی عنوان جماتے ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ یہ کوئی عام ناول نہیں بلکہ ”ایک فیس بک فینٹسی“ ہے۔ ”ناول“ ، ”فیس بک“ اور ”فینٹسی“ ؛ سچ پوچھیے تو یہ دیکھ کر میں چونکا ضرور مگر پھر شاید مایوس ہوا تھا اور سوچ تھا کہ گویا یہ کسی ادیب کی لکھی ہوئی کتاب نہ تھی؛کسی فیس بکیے کی تحریریں تھیں۔ تاہم ایک تجسس تھا کہ دیکھیے اس نوجوان نے اس میں کیا کام دکھایا ہے، اسے پڑھنا آغاز کر دیا۔
پہلے پہل کچھ رکا ضرور، پھر آخر تک پڑھتا گیا۔ شروع سے لے کر آخر تک مکالمہ/چیٹنگ اور اس دوران مناہل اور بہزاد کے ساتھ دل کی ایسی کیفیات سے دوچار ہونا کہ نظروں کے سامنے بھٹیارن کی تپتی کڑاہی میں بھنتا اچھلتا کودتا یا رگڑا کھا کر چھیل اترواتا، یا اندر ہی اندر بھنتا رہتا اناج آ جائے ؛ اچھا لگا اور سوچا کہ یوں بھی ایک ناول لکھا جاسکتا تھا۔ اس ناول کی خوبی یہ تھی کہ آپ ان کرداروں کی ذہنی اور نفسی کیفیات سے زندگی کو ایک نئے رُخ سے دیکھ سکتے تھے۔
”بھٹیارن“ پڑھ کر رشاد بخاری کا نام مستقل طور پر میرے لیے لائق توجہ ہو گیا تھا۔ یہاں وہاں ان کے جو بھی تحریریں اور کہانیاں ملیں، پڑھ ڈالیں۔ صاف ستھری زبان اور مربوط فکر، دونوں مل کر ان کی شخصیت کو ایک سنجیدہ اور مطالعے کو شعار کرنے والے ادیب میں ڈھال رہی تھیں۔ جب انہوں نے اپنی اردو کہانیاں ”محبت اور دیگر کباڑ“ مجھے تھمائیں تو اس بار میری سوچ ویسی نہ تھی جیسی ”بھٹیارن“ کے وقت تھی۔
کہانیوں کی کتاب کا نام اس بار بھی چونکانے والا رہا۔ پہلی نظر میں یوں لگا جیسے محبت کو بھی زندگی کے بیک یارڈ میں ناکارہ پڑے کاٹھ کباڑ جیسی شے کہا گیا ہے مگر میں مطمئن تھا کہ رشاد بخاری ایسا سوچنے والے نہ ہوں گے۔ میں نے ایک ایک کر کے سب افسانچے، افسانے اور ماخوذ کہانیاں پڑھ ڈالیں۔ بہت سی کہانیوں میں محبت سے معاملہ رہا، ضرور رہا اور ان کرداروں سے بھی جو محبت کو کاٹھ کباڑ کی سطح پر گھسیٹ کر اپنی زندگیوں کو تلخ بنا رہے تھے مگر اس جذبے سے زندگی کیسے معطر اور بامعنی ہو جاتی ہے ایک رُخ سے یہ کہانیاں یہ بھی سجھاتی رہی ہیں۔
اس کتاب میں تین الگ قسم کی کہانیاں ہیں۔ پہلی قسم ایسی تحریروں کی ہے جنہیں رشاد نے افسانچے یا فلیش فکشن کی ذیل میں رکھا ہے۔ میں کہتا آیا ہوں کہ آج کل فلیش فکشن کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ سب فکشن نہیں ہے کہ کہیں وہ محض لطیفہ یا چٹکلا ہو جاتا ہے، کہیں دانش پارہ اور کہیں نثم کا سا فن پارہ۔ تاہم رشاد نے اس حصے میں بھی کچھ ایسے فن پارے دے دیے ہیں کہ وہ فکشن ہو کر توجہ کھینچتے ہیں۔ فکشن کے لیے کم از کم تین عناصر کی موجودگی کو اہم سمجھا جاتا ہے، 1 : زمان، 2 : مکان اور 3 : کردار۔ انسانی زندگی سے تعلق کو بھی فکشن کے چوتھے عنصر کے طور پر رکھ لیجیے۔ جہاں یہ نہ ہوں، وہ کچھ اور ہوتو ہو، عمدہ نثر پارہ ہو کر بھی فکشن نہیں رہتا۔ رشاد کی ایسی خُرد کہانیوں میں، جن میں ان عناصر کی موجودگی کا التزام ہوا ہے، وہ متاثر کرتی ہیں اور فکشن بنی بھی ہیں۔
کتاب کے ایک اور حصے میں مناسب اطالت کی کہانیاں ہیں۔ ماجرا نگاری کا عنصر غالب ہے مگر محض ماجرا نگاری نہیں۔ ہر کہانی آغاز، وسط اور انجام کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دی گئی ہے تاہم کہیں کہیں فلیش بیک تیکنیک سے وقت ایک نئی ترتیب سے چلتا ہے۔ ایک دو کہانیاں ایسی بھی ہیں کہ ختم ہو کر بھی اختتام کو نہیں پہنچتیں ؛ کہ ان میں بات آگے بڑھانے کی گنجائش بھی رکھ لی گئی ہے۔ آپ چاہیں تو ان کہانیوں کو سماجی ثقافتی حقیقت نگاری کی ذیل میں رکھ سکتے ہیں مگر جس طرح کرداروں کی نفسیات کو برتا گیا ہے اس نے انہیں سادہ اور ٹھیٹھ حقیقت نگاری سے قدرے مختلف کر دیا ہے۔
انہیں پڑھتے ہوئے کہیں بھی لغت کے محدود ہونے کی شکایت نہیں ہوتی۔ انسانی نفسیات کے جو رنگ ان میں دکھائے جانے مقصود تھے، صاف صاف نظر آتے ہیں۔ زبان ہی تو ہے جس نے ہر کیفیت کو بیانیے کا حصہ بنانا ہوتا ہے۔ اس کے لیے مصنف کو الگ سے محنت نہیں کرنا پڑی۔ سانس لینے کی سی سہولت سے بیانیہ مرتب کرنا کسی کسی کو آتا ہے ؛ یہاں یہ قرینہ جھلک دکھاتا ہے۔ کوئی کیفیت یا بات متن کی خاص سطح سے اچٹتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔ جملے طویل یا گنجھل دار نہیں ہیں اور نہ ہی بیانیے میں پیچ ڈالنے کا شعوری التزام ہے۔
زبان صاف سادہ اور کرداروں کے مزاج کے مطابق ہے۔ ماحول ہمارے آس پاس کا ہے ؛ بیشتر قصباتی یا شہر کے ایسے علاقوں کا جہاں سفید پوش طبقہ رہ رہا ہوتا ہے۔ ان کہانیوں کے کردار بھی متوسط طبقات سے ہیں ؛ملازمت پیشہ یا دکانداری کرنے والے، ملک سے باہر جاکر محنت مزدوری سے رزق کمانے اور اپنے کنبے کی کفالت کرنے والے، سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے، شفیق اور مہربان بھی اور جنسی جرائم میں تاک اور دھوکے باز بھی۔
رشاد بخاری کرداروں کے مزاج اور نفسیات کی تشکیل پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ جب وہ ایسا کر چکتے ہیں تو پھر کہیں جاکر کہانی اپنا رُخ متعین کرتی ہے۔ اگرچہ انہوں نے کرداروں کے قد کاٹھ، اور شکل صورت دکھانے کی کم کم کوشش کی ہے مگر ان کرداروں کے مزاج کو کچھ ایسے نمایاں کیا ہے کہ وہ اسی نسبت سے یاد رہ جاتے ہیں۔ مستقبل کی تاہنگ میں آج کو باسی پن میں دھکیلنے والا کردار۔ وہ استاد جو کلف دار لباس زیب تن کرتا تھا، شگفتہ جملے اچھالتا اور بچوں کو سزا دینے کے انوکھے طریقے ایجاد کرتا رہتا تھا۔
بہت سی باتیں بھول جانے والا مگر روشن آنکھوں کو یاد رکھنے والا شخص جس کی محبت جنسی کمک کے بروقت نہ پہنچنے پر زائد المیعاد ہو گئی تھی۔ سادہ لوح حکیم کا خدمت گزار دوست جو لمبی منصوبہ بندی کر کے آیا تھا۔ گالیوں کو تخلیق کرنے والے اور زندگی کو سمجھنے کے لیے مل بیٹھنے والے ساتھی، دوسروں کی مدد کے بغیر زندگی گزارنے والا جو اپنی قبر کا کتبہ تک لکھوا لیتا ہے ؛یہ سب اور دوسرے کردار بھی اپنے اعمال یا عادات سے اپنی شخصیت کا یاد رہ جانے والا ہیولا بناتے ہیں اپنے چہرے مہرے اور قد کاٹھ سے نہیں۔ کسی کردار کو ایسی شناخت دے لینا کہ وہ پڑھنے والے کی یادداشت کا حصہ ہو جائے ایسی خوبی ہے جو کم کم لکھنے والوں کا مقدر ہوتی ہے ؛ رشاد بخاری خوش بخت ہیں کہ یہ ان کا مقدر ہوئی ہے۔
مصنف نے اپنے مطالعے میں آنے والی کچھ کہانیوں کو تخلیق نو کے عمل سے گزارا ہے۔ یہ سب کہانیاں انہوں نے انگریزی میں پڑھیں مگر اردو میں ڈھالتے ہوئے ماحول اور کرداروں کے نام اور ثقافتی شناخت کو بدل کر اپنا بنالیا۔ آپ ان کہانیوں کو تراجم کی ذیل میں نہیں رکھ سکتے کہ اصل متن سے وفاداری یہاں ان کا مسلک نہیں رہا ہے تاہم ان ماخوذ کہانیوں کے پیچھے کون سا متن موجود ہے اس کی نشاندہی بھی ہر کہانی کے پاورقی حاشیے میں کر دی گئی ہے۔
رشاد بخاری کی کتاب ”محبت اور دیگر کباڑ“ میں شامل کہانیوں کو، زندگی کو کچھ اور جہات سے دیکھنے کے باب میں ”بھٹیارن“ سے اگلا تخلیقی قدم کہا جاسکتا ہے کہ یہاں زندگی کے کئی رنگ اور کئی بھید متن ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے وہ جست لگا کر اور بھی آگے جائیں گے کہ ان میں اپنی بات کہنے کا حوصلہ بھی ہے اور قرینہ بھی۔
۔



Comments are closed.