فضل الرحمٰن صاحب ان فتووں پر غور فرمائیں
آج کل مدارس کی رجسٹریشن کا بل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اسے پارلیمنٹ نے تو منظور کر لیا لیکن صدر پاکستان نے اسے اپنے تحفظات کے ساتھ مزید غور کرنے کے لئے واپس بھجوا دیا۔ اس پر خاص طور پر فضل الرحمٰن صاحب کی تلملاہٹ قابل توجہ ہے۔ کچھ دیر قبل ٹی وی پر یہ خبر چل رہی تھی کہ فضل الرحمٰن صاحب نے کہا ہے کہ علماء آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب سے کچھ روز قبل بھی فضل الرحمٰن صاحب نے یہ بیان دیا تھا کہ حکومت نے جو کچھ علماء کا اجلاس بلایا ہے یہ علماء کو تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ جبکہ علماء بھائی بھائی ہیں۔ ہم سب علماء کو اپنے علماء سمجھتے ہیں۔ اور کہا کہ ہم مدرسوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب انگریز نے قرآن و حدیث کے خلاف نصاب دیا تو ہمارے بزرگوں نے مدارس کو قائم کیا تھا۔ اور اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ آج علماء کو علماء کے مقابلہ پر لایا جا رہا ہے۔
کم از کم اس عاجز کو اس بات پر کافی حیرت ہوئی ہے کہ آج فضل الرحمٰن صاحب کو اس بات پر شدید اعتراض ہے کہ حکومت علماء کو آپس میں لڑوا رہی ہے۔ جب کہ آج سے قبل خود ان کی جماعت دوسرے مسالک کے علماء کو ایسے ایسے القابات سے نوازتی رہی ہے کہ کسی اور لڑانے والے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن میں صرف فضل الرحمٰن صاحب کے والد مفتی محمود صاحب کے فتاویٰ کے مجموعہ کے چند حوالے پیش کروں گا۔ یہ مثال اس لئے پیش کی جا رہی ہے کہ اس کا پیش لفظ خود فضل الرحمٰن صاحب نے تحریر کر کے انہوں نے ہی شائع کروایا تھا اور اس میں انہوں نے مفتی محمود صاحب کو مفکر اسلام قرار دیا تھا۔
آج کل کے شیعہ احباب کے بارے میں مفتی محمود صاحب نے فتویٰ دیا:
”شیعہ کی نماز جنازہ پڑھانا جائز نہیں۔ شیعہ صاحبان کے ساتھ مودت دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔“ (فتاویٰ مفتی محمود جلد 3 ص 66 )
جب مفتی محمود صاحب سے سوال کیا گیا کہ کیا شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنی جائز ہے۔ قائد اعظم تو شیعہ تھے، پھر شبیر عثمانی صاحب نے ان کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی؟ واضح رہے شبیر عثمانی صاحب دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس پر مفتی محمود صاحب کا شیعہ صاحبان کے بارے میں یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :
” اس لیے یہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حضرت مولانا شبیر احمد صاحب کے فعل سے استدلال درست نہیں۔ وہ اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کا فعل شرعی حجت نہیں۔“ (فتاویٰ مفتی محمود جلد 3 ص 67 )
اپنے والد کے ان فتاویٰ کے باوجود فضل الرحمن صاحب نے دوسری سیاسی جماعتوں کے علاوہ شیعہ احباب کی تنظیم تحریک جعفریہ سے اتحاد کر کے متحدہ مجلس عمل بنائی کیونکہ اس وقت سیاسی فائدہ اس میں نظر آ رہا تھا۔ کل تک جنہیں کافر کہہ رہے تھے پھر انہیں ہی گلے لگا لیا۔
جماعت اسلامی اور مودودی صاحب کے بارے میں مفتی محمود صاحب کا یہ فتویٰ ہے :
”۔ مودودی صاحب ضال مضل ہیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کی ذوات پر اپنی کتاب خلافت اور ملوکیت میں ناپاک حملے کیے ہیں۔ اس پر چند دیگر مسائل متفق علیہ بین الائمۃ میں اپنی منفردانہ رائے ذکر کر چکے ہیں۔ جس کی تفصیل آپ ان سے متعلق رسائل میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ پس مودودی صاحب کا ان مخصوص خیالات اور مجتہدات میں پیروکار شخص ضال اور فاسق شمار ہو گا۔ لہذاٰ ایسے فاسق شخص کو رشتہ دینے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔“ (فتاویٰ مفتی محمود جلد 1 ص 284 )
اس کے بعد اس سے اگلے صفحہ میں مودودی صاحب کے پیروکاروں کے بارے میں یہ فتویٰ موجود ہے کہ عوام الناس کو ایسے شخص سے میل جول سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ پھر اسی جلد کے صفحہ 285 پر مفتی صاحب کا یہ فتویٰ پڑھ سکتے ہیں کہ مودودی صاحب عالم ہی نہیں ہیں۔
ایک طرف تو یہ فتاویٰ موجود ہیں اور دوسری طرف خود مفتی محمود صاحب نے بھٹو صاحب کے دور میں جماعت اسلامی سے اتحاد کر کے قومی اتحاد کی بنیاد رکھی۔ اس میں نو سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ اور خود فضل الرحمٰن صاحب نے متحدہ مجلس عمل نام کے اتحاد میں جماعت اسلامی سے اتحاد کیا اگر یہ فتوے درست ہیں تو محض اقتدار کی خاطر آپ اس جماعت سے اتحاد کیوں کرتے ہیں جن کو آپ نہ صرف گمراہ بلکہ گمراہ کرنے والے بھی قرار دے چکے ہیں۔
پھر خاکسار تحریک کے بارے میں مفتی محمود صاحب نے یہ فتویٰ دیا کہ ان کے خیالات فاسد ہیں اور عام لوگوں کو ان سے تعلقات سے بھی بچنا چاہیے۔ اور ان کی مالی معاونت بھی قبول نہیں کرنی چاہیے۔ (فتاویٰ مفتی محمود جلد 1 ص 287 )
اس کے باوجود جب خود مفتی محمود صاحب کی صدارت میں قومی اتحاد قائم ہوا تو اس میں خاکسار تحریک کو بھی شامل کیا گیا، حالانکہ مفتی صاحب انہیں فاسد قرار دے چکے تھے۔
جب مفتی صاحب سے بریلوی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
” تحقیق کی جاوے اگر واقعی اس شخص کے عقائد شرکیہ ہوں تو اس کی نماز درست نہیں اور نماز اس کے پیچھے جائز نہیں اور اگر عقائد اس کے شرکیہ نہیں البتہ بدعات کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی امامت بھی مکروہ تحریمی ہے۔“ (فتاویٰ مفتی محمود جلد 2 ص 188 ) ۔
اس کے باوجود مفتی محمود صاحب نے بریلوی جماعت جمعیت علماء پاکستان سے سیاسی اتحاد کیا۔ اگر چہ پہلے وہ انہیں مشرک اور بدعتی قرار دے چکے تھے۔
پھر یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :
”مرزائی اور پرویزی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کی امامت نا درست ہے، شیعہ میں اختلاف ہے فاسق اور مبتدع ضرور ہیں لہذا ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے ان کی امامت نا درست ہے۔ بریلوی و مودودی مبتدع ضال ہیں ان کی امامت مکروہ ہے۔“ (فتاویٰ مفتی محمود جلد دوم صفحہ 189 )
پرویزی مسلک کے بارے میں فضل الرحمٰن صاحب نے اپنے والد کا یہ فتویٰ شائع کروایا:
”پرویز کا متبع و پیروکار بھی کافر ہو گا۔ اور کافر کی نماز جنازہ پڑھنا ناجائز ہے۔ لہذاٰ جس سنی پیش امام نے اس پرویزی کا جنازہ پڑھا ہے اگر اس کو اس کے پرویزی ہونے کا علم ہو یا اس کا پرویزی ہونا بالکل ظاہر اور معروف ہو تو اس نے بہت ناجائز کام کیا ہے۔ اور اس کی امامت مکروہ ہو گئی، مسلمانوں کو اسے امامت سے معزول کر دینا چاہیے۔“ (فتاویٰ مفتی محمود جلد سوئم صفحہ 62 )
اور میں اس وقت خود سپریم کورٹ میں موجود تھا جب جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں دوسرے مذہبی اداروں کے علاوہ غامدی صاحب کے ادارہ المورد کے کچھ علماء کا موقف بھی سننا چاہا تھا تو اس وقت فضل الرحمٰن صاحب کے گروہ نے شور مچا کر فائز عیسیٰ صاحب کو مجبور کیا تھا کہ وہ یہ موقف نہ سنیں۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کبھی ان کی جماعت ایک گروہ کو کافر، مبتدع، فاسق، ضال و مضل، اور گمراہ قرار دیتی ہے اور اس کے بعد ان سے اتحاد بھی کر لیتی ہے۔ فضل الرحمٰن صاحب اپنے شائع کیے گئے ان فتاویٰ پر ایک نظر ڈال کر یہ غور فرمائیں کہ انہوں نے خود علماء اور مسالک کو تقسیم کرنے میں کیا کسر چھوڑی تھی جو اب حکومت سے شکوہ کیا جا رہا ہے کہ وہ علماء میں پھوٹ ڈلوا رہی ہے۔

