کاش کہ آصف نے ہیلمٹ پہنا ہوتا


میری داڑھ میں شدید درد تھا درد سے جان نکلی جا رہی تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ حالاں کہ گھر کے قریب ہی ایک ڈینٹسٹ کی دکان موجود تھی لیکن وہاں کیوں کر جاتی جیب میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ شام کو گھر والا جو کچھ بھی کما کر لاتا اس سے دال روٹی چل جاتی۔ مہنگائی آسمانوں پر ہے اور کاروباری سرگرمیاں کہیں پاتال میں گم ہیں۔ پیسے آئیں تو کہاں سے آئیں۔ میں انہی سوچوں میں گم تھی اور درد تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ جب صورت حال برداشت سے باہر ہو گئی تو میں چادر سر پر لے کر گھر سے باہر نکل آئی اور سیدھی ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچ گئی۔

ڈاکٹر ایک مریض کو دیکھ رہا تھا اس سے فارغ ہر کر میری طرف متوجہ ہوا تو میں نے اسے اپنی داڑھ کے متعلق بتایا۔ اس نے بڑی توجہ کے ساتھ میری داڑھ کا معائنہ کیا اس کی صفائی کی درد روکنے کے لیے داڑھ میں ایک ٹیکہ لگایا۔ داڑھ میں دوائی لگائی اور ساتھ ہی مجھے بتایا کہ ماں جی آپ کی داڑھ ختم ہو چکی ہے۔ اس کو نکالے بغیر کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہے لیکن اس میں انفیکشن ہے۔ ایسی حالت میں اسے نکالا نہیں جا سکتا۔ درد تھوڑی دیر کے بعد ختم ہو جائے گا کیوں کہ میں نے ٹیکہ لگا دیا ہے اور انفیکشن کے خاتمے کے لیے یہ چھ گولیاں ہیں۔ صبح شام ایک ایک گولی تین دنوں تک کھالیں اور چوتھے دن دوبارہ یہاں آجائیں۔ آپ کی داڑھ نکال دیں گے اور آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ داڑھ نکالتے وقت بس اتنا ہی درد ہو گا جتنا یہ ٹیکا لگاتے وقت ہوا ہے۔ اس کے بعد جب زخم بھر جائے تو اگر آپ چاہیں گی تو یہاں پر نئی داڑھ لگا دیں گے۔

اس نوجوان خوش شکل، خوش اخلاق، خوش گفتار اور خوش لباس ڈاکٹر کی شخصیت میں کوئی ایسی خاص مقناطیسی قوت موجود تھی۔ جو عام ڈاکٹروں میں نہیں ہوتی۔ جس شفقت بھرے اپنائیت کے لہجے میں وہ بات کر رہا تھا۔ اس میں کمال کی تاثیر تھی اور شاید اسی تاثیر کا کمال تھا کہ میری داڑھ کا جان لیوا درد ختم ہو چکا تھا۔ اب مجھے اس کی فیس ادا کرنا تھی جو میرے پاس موجود نہیں تھی لیکن میں اس کے رویے اور اندازِ گفتگو سے کافی حد تک مطمئن تھی۔ میں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ میں گھر سے پیسے لے کر نہیں آئی تو اس نے شفقت بھرے لہجے میں کہا کہ کوئی بات نہیں آپ نے دوبارہ آنا ہی ہے تو اُس وقت لے آنا اور اس طرح میں جان نکالنے والی داڑھ درد سے نجات پا کر واپس گھر آ گئی۔

تین دنوں تک ڈاکٹر کی دی ہوئی دوائی کھانے کے بعد میں داڑھ نکلوانے کے لیے دوبارہ ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر نے بڑی توجہ کے ساتھ داڑھ کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ انفیکشن ختم ہو گئی ہے اور اس کے بعد اس نے اس طریقے سے آرام اور احتیاط کے ساتھ داڑھ نکال دی کہ مجھے معلوم بھی نہیں ہوا ْ۔ پیسے آج بھی میرے پاس موجود نہیں تھے میں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ پیسے میں آج بھی لے کر نہیں آئی تو اس نے حسب سابق اسی بے اعتنائی سے کہا، کہ کوئی بات نہیں جب دوبارہ آئیں تو پھر دے دینا۔

قصہ مختصر کہ میں نے ڈاکٹر سے وہ داڑھ نئی لگوا لی تو میرے پاس صرف دو سو روپے موجود تھے میں نے دو سو روپے اُسے دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میرے پاس اس وقت صرف یہی دو سو روپے ہیں۔ اس نے کمال شفقت سے جواب دیا کہ ماں جی کوئی بات نہیں آپ یہ دو سو روپے بھی واپس لے جائیں اور مجھے صرف دُعا دے دیں۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔

میں گھر آتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اس نفسانفسی اور چھینا چھپٹی کے دور میں اس قدر بھلے لوگ بھی موجود ہیں۔ شاید یہ دنیا ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے قائم دائم ہے۔ آصف کی فوتیدگی پر اظہار تعزیت کے لیے آئی ہوئی ایک خاتون اس کے حُسن سلوک کی داستان سناتے ہوئے زار و قطار رو رہی تھی۔ آصف چونتیس سال کا نوجوان تھا جو کہ ایک ڈینٹسٹ تھا۔ میں جس آصف کو جانتا تھا وہ شرمیلا، کم گو اور میل ملاقات سے اجتناب کرنے والا میرا نوجوان بھتیجا تھا۔ جب بھی کوئی فیملی فنکشن ہوتا وہ عموماً کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے غائب ہوتا۔

غالباً اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آنا اس وقت شروع ہوئی جب اس نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک ڈینٹل کلینک کھول کر کیا۔ مجھے اس دوران ایک دو بار وہاں جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے اس کی بول چال اور اٹھنے بیٹھنے میں ایک خاص قسم کا رکھ رکھاؤ نظر آ رہا تھا۔ اس کا لا ابالی پن ختم ہو چکا تھا۔ اب کبھی کبھار اپنے اردگرد کے لوگوں سے اس کے حُسن اخلاق اور پیشہ ورانہ معاملات کے بارے میں توصیفی کلمات سنائی دے جایا کرتے تھے۔

جس علاقے میں اس کا کلینک تھا وہاں کے لوگ اس کے معترف تھے اور آہستہ آہستہ اس کی نیک نامی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ جو شخص ایک بار اس سے مل لیتا اس کے گن گانے لگتا۔ اسی دوران اس کی شادی ایک فارماسسٹ ڈاکٹر لڑکی سے کر دی گئی۔ اس شادی کو لے کر میرے کچھ تحفظات اور خدشات تھے جو اس نوبیاہتا جوڑے نے یکسر غلط ثابت کر دیے۔ میری جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی تو وہ ہمیشہ ایک دوسرے میں مگن اور خوش و خرم نظر آتے۔ اس طرح میرے اندیشہ ہائے دور دراز ان لوگوں نے اپنے حسن معاملات سے یکسر غلط ثابت کر دیے۔

آصف کی شخصیت کے نکھار میں اس کی اہلیہ کا بھی ایک خاص کردار تھا۔ بہرحال یہ نوجوان جوڑا ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹے کی شکل میں اپنی نعمت اور ایک بیٹی کی صورت میں اپنی رحمت سے بھی نواز رکھا تھا۔ سارے معاملات بڑی خوبصورتی اور سہولت کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ آصف نے اپنا کلینک جو پہلے کرائے پر تھا خرید لیا اور اب وہ اپنا گھر خریدنے کی تیاری میں تھا کہ اچانک 9 دسمبر کا منحوس دن آ پہنچا وہ مغرب کے بعد پی بلاک بورے والا اپنے بڑے بھائی کاشف کے گھر میں کسی کام سے آیا ہوا تھا۔ وہاں سے موٹر بائیک پر اپنے گھر جانے کے لیے نکلا تو پانچ منٹ بعد ہی اس کے ٹیلیفون سے کاشف کو ایک کال موصول ہوئی کوئی شخص اُسے بتا رہا تھا کہ آصف کا فوارہ چوک کے پاس ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ بے ہوش ہے۔ کاشف فوراً ہی وہاں پہنچا تو 1122 والے اُس کی پٹی کر رہے تھے۔

ابتدائی طبی امداد کے بعد اُسے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ وہاں پر ڈاکٹر بلال پہلے سے ہی موجود تھا۔ فوری طور پر ہی اس کا سی ٹی سکین کروایا گیا۔ سی ٹی سکین کے دوران ہی پتہ چل چکا تھا کہ سر کے اندر بلیڈنگ ہو رہی ہے۔ فوراً ہی اُسے ایمبولینس سے نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا۔ وہاں پر میجر صاحب کے داماد ڈاکٹر طارق نیورو سرجن تعینات ہیں۔ وہ خود تو اس وقت گجرات میں تھے لیکن آصف کے ملتان پہنچنے سے پہلے ہی سرجری کے انتظامات مکمل تھے۔

نشتر ہسپتال میں پہنچتے ہی اُسے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اور فوری طور پر ہی اس کی سرجری کر دی گئی۔ صبح سات بجے آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو بے ہوشی کافی گہری تھی۔ ڈاکٹر بلال اور ڈاکٹر ارشد بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ سرجن نے انہیں بتایا کہ اگلے بہتر گھنٹے بہت اہم ہیں۔ دوائیوں کے زیر اثر اسے خود ہی گہری بے ہوشی میں رکھا گیا ہے۔

72 گھنٹے بعد اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ منحوس اطلاع موصول ہوئی کہ آصف اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ گھر میں کہرام مچ گیا لیکن قدرت کے آگے کس کا زور چلتا ہے۔ اگلے دن اس کا جنازہ کروایا گیا۔ جنازے کے وقت شہر بند تھا اور جنازے میں بے شمار لوگ موجود تھے۔ بورے والا کی تاریخ میں اتنے بڑے جنازے بہت کم ہوئے ہوں گے۔ ہر شخص اس کی تعریف کر رہا تھا کوئی اس کے حسن اخلاق کا معترف تھا کوئی اس کی پیشہ ورانہ مہارت کا تذکرہ کر رہا تھا۔ کوئی مریض کے ساتھ اس کے حسن سلوک اور ہمدردانہ رویے کے بارے میں بتا رہا تھا۔ غرض کہ سارا شہر ہی اس کے محاسن و صفات کا گرویدہ نظر آ رہا تھا اور میں بڑی حسرت سے سوچ رہا تھا کہ کاش گھر سے بائیک پر نکلتے وقت اس نے ہیلمٹ پہن لیا ہوتا تو شاید آج ہم اس قدر بڑے صدمے اور نقصان سے بچ جاتے۔

یہ درست ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ ٹل نہیں سکتا لیکن اپنی جان کی حفاظت کا حکم بھی ہمارا دین ہی ہمیں دیتا ہے اور اس کے لیے حفاظتی تدابیر بھی ضروری ہیں۔ اس موقع پر میری اُن لوگوں سے اپیل ہے بلکہ ہاتھ باندھ کر درخواست ہے جو لوگ بائیک چلاتے ہیں خدا کے لیے ہیلمٹ ضرور پہنا کریں۔ اگر اپنے لیے نہیں تو ان لوگوں کا ہی خیال کر لیا کریں جو آپ کے اردگرد آپ سے منسلک ہیں۔ آپ سے مختلف رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی تکلیف اور آپ کا نقصان جن کے لیے تکلیف اور درد کا سبب بنتا ہے۔ میں ہیلمٹ پہننے کی مکرر درخواست کے ساتھ اپنا آرٹیکل اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آصف مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیں۔ جنت الفردوس اُن کے نصیب میں کریں اور اُن کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ آمین

گو کہ یہ فقرہ کہہ دینا بہت آسان ہے لیکن اسے جھیلنا اور صبر کرنا بہت ہی مشکل کام ہے لیکن اس کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ کار بھی نہیں ہے۔ اس کے بیوی بچوں کے لیے مستقبل میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ہم سب عزیز وا قربار کو اتنا بڑا صدمہ جھیلنے کی استطاعت عطا فرمائے اور صبر جمیل سے نوازے۔

Facebook Comments HS