یونان حادثہ: خواہشات کی غربت
چند ہی دن قبل لیبیا سے یونان جاتے ہوئے ایک کشتی سمندر میں ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع بشمول منڈی بہاءالدین سے تھا۔ یہ افراد ڈنکی لگا کر یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس حادثے نے ہمارے معاشرے کے ان رویوں اور مسائل کو اجاگر کیا ہے جو نوجوانوں کو اس خطرناک راستے پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ آخر یہ لوگ کیوں اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایسے سفر پر روانہ ہوتے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا؟ کیا غربت نے انہیں اس مقام پر پہنچایایا یہ سب خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو گئے؟ گجرات خاص طور پر منڈی بہاءالدین جیسے علاقے، جہاں زراعت اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں اور زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کی سبب بھی میسر ہیں۔ وہاں سے بھی نوجوانوں کا یورپ جانے کے لیے غیر قانونی راستے اپنانا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یقیناً پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں غربت ایک حقیقت ہے۔ لیکن کیا یہ غربت ان لوگوں کو اس قدر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف غربت کا نہیں، بلکہ خواہشات اور کھلی آنکھوں دکھتے خوابوں کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ مغربی ممالک میں زندگی نہایت آسان ہے، جہاں دولت اور کامیابی کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں، یا یورپ سے کما کر پاکستان میں پر آسائش زندگی اسی راستے میں ہی پوشیدہ ہے۔ یہ تصور نوجوانوں کو اپنی حقیقت کو نظر انداز کرنے اور غیر قانونی طریقے اپنانے پر اکساتا ہے۔
منڈی بہاءالدین جیسے علاقوں میں رہائش پذیر اکثر افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہاں گزاری جانے والی زندگی سے ملنے والے لطف ناکافی ہیں۔ یہ سوچ انہیں بیرون ملک جانے کے خواب دکھاتی ہے، اور یہی خواب انہیں ”ڈنکی“ جیسے خطرناک راستوں پر لے جاتے ہیں۔ انسانی اسمگلرز بھی اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے نوجوان بھی ان اسمگلرز تک پہنچنے کی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انسانی اسمگلرز بھی ان نوجوانوں کو یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ انہیں یورپ کے کسی ملک میں آسانی سے پہنچا دیں گے، جہاں انہیں نوکریاں، سہولتیں اور ایک بہتر زندگی ملے گی۔
انسانی اسمگلنگ کا شکار سب سے زیادہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو غربت سے نکلنے کی جستجو میں ہیں یا اپنی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعی غربت سے مجبور تھے، یا ان کے خواب اور خواہشات اس راہ پر لے گئے؟ اکثر لوگ جو منڈی بہاءالدین اور دیگر دیہی علاقوں سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کھانے پینے اور بنیادی ضروریات سے محروم نہیں ہوتے۔ ان کے پاس چھوٹے موٹے روزگار کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن وہ ان مواقع کو ناکافی سمجھتے ہیں۔
ایک وجہ معاشرتی دباؤ بھی ہے۔ یہ ذہنی دباؤ بھی ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں میں بیرون ملک رہنے والے افراد کو زیادہ عزت دی جاتی ہے۔ والدین اور رشتہ دار نوجوانوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ یورپ جا کر ”کامیاب“ زندگی گزاریں اور خاندان کی حالت بہتر کریں۔ یہ دباؤ نوجوانوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی راستے اپنائیں، خواہ اس کے نتائج کتنے ہی خطرناک کیوں نہ ہوں۔
منڈی بہاءالدین اور اس جیسے دیگر علاقوں میں تعلیم کا رجحان بھی ماضی کی نسبت کم ہو چکا ہے اس کی بھی بڑی وجہ بھی یہی ہے، لیکن بہت سے نوجوان یہ نہیں سمجھ پاتے کہ غیر قانونی ہجرت نہ صرف ان کی زندگی خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ ان کے خوابوں کو بھی چکناچور کر دیتی ہے۔ ڈنکی لگا کر یورپ پہنچنے والے وہاں کے ماحول میں ایڈجسٹ کرنا تارکین وطن غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں یا معمولی اجرت پر کام کرتے ہیں اور اپنی شناخت بھی چھپانا پڑتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف ان افراد یا خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایک نوجوان غیر قانونی راستے سے بیرون ملک جاتا ہے، تو وہ اپنی جمع پونجی، چاہے کاروبار بیچ کر، زمینیں بیچ کر یا ادھار پکڑ کر ہی انسانی اسمگلرز کودیے ہوں۔ اور اگر وہ نوجوان اپنے سفر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا کامیابی نہ پا سکے، تو اس کا خاندان قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
والدین کا کردار اس معاملے میں بہت اہم ہے۔ انہیں اپنے بچوں کو محنت اور دیانتداری کی اہمیت سمجھانی چاہیے، چاہے وہ اپنی سرزمین پر ہی کیوں نہ ہو۔ منڈی بہاءالدین جیسے زرعی علاقے میں محنت کے کئی مواقع موجود ہیں، لیکن اکثر لوگ ان مواقع کو کمتر سمجھتے ہیں اور بیرون ملک جانے کے خواب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنی زمین اور علاقے میں موجود وسائل کو استعمال میں لائیں اور اپنی صلاحیتوں کو یہیں نکھاریں یا اپنی تعلیم کو مکمل کر کے یا کرنے کے لیے بیرون ملک عازم سفر ہو کر اک باعزت طریقے سے اپنی منزل تک رسائی حاصل کریں۔
ہمارے تعلیمی نظام میں اس مسئلے کو شامل ہونا چاہیے تا کہ نوجوانوں کو نہ صرف یہ سکھایا جائے کہ محنت اور دیانتداری کے ذریعے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، چاہے اس کا میدان عملی ہو یا علمی اور سب کُچھ مقرر کردہ دائرہ میں رہ کر ہی حاصل کریں۔
ہمارے اوورسیز کو بھی ایسے منصوبے متعارف کرانے چاہئیں جو نوجوانوں کو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ منڈی بہاءالدین جیسے علاقوں میں زراعت اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کو فروغ دے کر لوگوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت کا ساتھ ہو تو ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام متعارف کرائے جا سکتے ہیں، تو اس سے نہ صرف غیر قانونی ہجرت کا رجحان کم ہو گا بلکہ ملکی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
ایک اور اہم قدم یہ ہے کہ قانونی امیگریشن کے عمل کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ بہت سے لوگ اس لیے غیر قانونی راستے اپناتے ہیں کیونکہ قانونی طریقے نہایت پیچیدہ اور مہنگے ہیں۔ اگر حکومت قانونی راستوں کو آسان بنا دے اور عوام کو ان سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرے، تو لوگ غیر قانونی طریقوں سے گریز کریں گے۔
آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا یورپ جانے کا خواب ان قربانیوں کے قابل ہے جو اس کے لیے دی جاتی ہیں؟ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم اپنے وسائل کو یہیں استعمال کریں اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں؟ منڈی بہاءالدین اور دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کی راہ ترک کریں اور اپنی توانائی اور وقت کو مثبت سرگرمیوں، قانونی طریقوں پر عمل کر کے اپنے علاقے اور ملک کی بہتری کے لیے آگے آئیں۔ یہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔


