عرب سپرنگ (بغاوتیں ) اور پاکستان کے حالات


”عرب بہار“ یا عرب سپرنگ مغربی مبصرین کی طرف سے تیار کیا گیا نام یا اصطلاح ہے جو ان کے کئی مقاصد کی ترجمان تھی۔ عرب بہار یا سپرنگ کی اصطلاح کا پہلا مخصوص استعمال امریکی سیاسی جریدے فارن پالیسی سے شروع ہوا۔ تاہم مختلف ممالک اور حالات کے مطابق واقعات میں شامل ملکی اور غیر ملکی فریقین اور مفادات نے اپنے سیاسی اقدامات کو کبھی ”بغاوت“ (انتفاضہ) ، کبھی عرب ”بیداری“ (سہوا) اور کبھی عرب ”نشاۃ ثانیہ“ (نہدا) کا لبادہ اوڑھایا اور اپنی چال کو اسی نام عرب سپرنگ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ الجزیرہ کے جوزف مساد نے کہا کہ یہ اصطلاح ”تحریک کے مقاصد اور اہداف کو کنٹرول کرنے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے“ ۔

اصطلاح بہار یا سپرنگ 1848 کے مغربی انقلابات کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے استعمال کی گئی جسے“ قوموں کی بہار ”سپرنگ آف دی نیشنز اور 1968 میں پراگ بہار کہا گیا تھا، جس میں ایک چیک طالب علم جان پالاچ نے خود کو آگ لگا لی تھی جہاں سے وہ تحریک آگے بڑھی اسی طرح محمد بوعزیزی کی خود سوزی سے عرب سپرنگ کا آغاز کیا گیا۔

عرب سپرنگ کی اصطلاح سے مراد وہ احتجاجی لہر ہے جو عرب دنیا میں دسمبر 2010 میں شروع کی گئی اور تا حال کسی نہ کسی شکل میں عرب ممالک کی ابتری کی صورت میں جاری ہے۔ اس عرب بغاوت کو کبھی عرب بیداری، اور کبھی عرب انقلاب کا نام دے کر سارے عرب میں ایک آگ لگانے کے لئے اور عرب ممالک کو مذہبی معاشی اور ثقافتی لحاظ سے کھوکھلا کرنے کے لئے بڑے منظم انداز میں مہمات چلا کر مظاہرین کو ایک عام نعرہ اشش شعب یورید اسقاط نظام (عوام حکومت کو گرانا چاہتے ہیں ) دے دیا گیا۔ انجام کار یہ ہوا ہے کہ بہت سی حکومتیں جو عرب ثقافت کی محافظ اور اسلام کی علم بردار تھیں رخصت کر دی گئیں اور باقی بچی ہوئی کے لئے عرب سپرنگ جاری ہے۔

تیونس میں عوامی بغاوتیں ایسے شروع کی گئی کہ جب محمد بوعزیزی نامی نوجوان سڑک فروش کو خود سوزی پر مجبور کر دیا گیا اور اس کی جان جانے کے بعد ملک میں مظاہروں کی آگ لگا دی گئی جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے حکمران صدر زین العابدین بن علی کو جلاوطن کر دیا گیا۔ اس طرح پورے عرب کو احتجاجات اور فتنہ انگیزی کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ حکومت مخالف مظاہروں، بغاوتوں اور مسلح بغاوتوں کا ایک سلسلہ تھا اور ہے جو 2010 کی دہائی کے اوائل میں عرب دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیلایا گیا۔ اس کا آغاز تیونس میں بظاہر بدعنوانی اور معاشی جمود کے ردعمل میں ہوا۔ تیونس سے، احتجاج پھر پانچ دیگر ممالک میں پھیلایا گیا جن مین لیبیا، مصر، یمن، شام اور بحرین شامل ہیں۔ جن حکمرانوں نے اس باغی تحریک کے مطالبات مان لئے ان کی حکومتیں بچ گئیں اور جو ان عرب سپرنگ کے پروموٹرز کو کھٹکتے تھے ان کی حکومتیں ہی بر طرف نہیں کی گئیں بلکہ انہیں دنیا سے بھی بر طرف کر دیا گیا۔ 2011 میں تیونس کے زین العابدین بن علی، 2011 میں لیبیا کے معمر قذافی، 2011 میں مصر کے حسنی مبارک، اور 2012 میں یمن کے علی عبداللہ صالح کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ حکمرانوں کی جبری معزولی کے لئے بڑی بغاوتیں فسادات، خانہ جنگیاں اور سماجی تشدد کروایا گیا مراکش، عراق، الجزائر، لبنان، اردن، کویت، عمان اور سوڈان میں مسلسل سڑکوں پر مظاہرے ہوئے۔ جبوتی، موریطانیہ، فلسطین، سعودی عرب اور مغربی صحارا میں معمولی مظاہرے ہوئے اور عرب دنیا میں مظاہرین کا سب سے بڑا نعرہ الشعب یورید اسقاط النعم یعنی لوگ حکومت گرانا چاہتے ہیں۔ اصل میں یہ نعرہ ان بیرونی قوتوں کا مقصد تھا جو کافی حد تک پورا بھی ہو چکا ہے۔

شام کی خانہ جنگی؛ عراق میں داعش کی بغاوت اور اس کے بعد کی خانہ جنگی کا عروج اور یمنی بحران اور اس کے بعد کی خانہ جنگی اس سارے فساد کا پہلا مقصد یہ تھا کہ عرب ممالک کو غریب کیا جائے۔ تیل کی دولت یا جو بھی بڑے ذرائع آمدنی تھے انہیں ختم یا کمزور کیا جائے۔ اس مقصد میں تو عرب سپرنگ کے ہدایتکاروں کو سو فی صد کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال عرب خطہ جو ساری دنیا کو قرضے دیا کرتا تھا اب سارے کا سارا مقروض ہو چکا ہے۔

عرب بغاوتوں (سپرنگ) کے فوری ردعمل کے بعد اقتدار کی کشمکش جاری رہی۔ جب قیادت تبدیل ہوئی اور حکومتوں کو جوابدہ ٹھہرایا گیا، پوری عرب دنیا میں طاقت کے خلا پیدا ہو گئے۔ اس سے بغاوت کے حامیوں کو اور فائدہ ہوا۔ مذہبی اشرافیہ کا اور نام نہاد جمہوریت کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کے درمیان ایک جنگی ماحول بن گیا بلکہ جنگیں شروع ہو گئیں۔ ابتدائی امیدیں کہ یہ عوامی تحریکیں بدعنوانی کا خاتمہ کریں گی، سیاسی شراکت میں اضافہ کریں گی، اور زیادہ سے زیادہ اقتصادی مساوات کو جنم دیں گی، مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا تھا جو دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا گیا اصل مقاصد وہی تھے کہ ان ممالک میں بدامنی اور خانہ جنگی جاری رکھی جائے اور خاص طور پر ان ممالک کی فوج کے خلاف عوامی جذبات کو مشتعل ہی رکھا جائے ورنہ امن قائم ہو سکتا تھا۔ اس کی مثال یمن میں غیر ملکی ریاستی عناصر کے انقلاب مخالف اقدامات، بحرین اور یمن میں علاقائی اور بین الاقوامی فوجی مداخلتوں، اور شام، عراق، لیبیا اور یمن میں تباہ کن خانہ جنگیاں ہیں۔

2018 کے آخر سے، الجزائر، سوڈان، عراق، لبنان اور مصر میں متعدد بغاوتوں اور احتجاجی تحریکوں کو عرب سپرنگ کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیبیا میں، بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے ساتھ ایک بڑی خانہ جنگی کا اختتام ہوا۔ یمن میں خانہ جنگی بدستور متاثر کر رہی ہے۔ لبنان میں، ایک بڑا بینکنگ بحران ملک کی معیشت کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک شام کے لئے بھی خطرہ بنا۔ دسمبر 2024 میں، شام کی خانہ جنگی میں حزب اختلاف کے گروپوں نے شامی حکومت کے خلاف حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا، 50 سال سے زائد عرصے کے بعد اسد خاندان کا خاتمہ، دمشق کا زوال، اور 2024 میں شام پر اسرائیل کا حملہ ہوا۔ بات اسرائیل کے حملوں تک آ پہنچی ہے اور یہ ان مقاصد میں سے ایک ہے جن کے لئے عرب بغاوتوں کے پیروکاروں کو بے تحاشا فنڈ دیے گئے۔

عرب بغاوتوں یا عرب سپرنگ کے لئے فنڈز کی فراہمی

US Groups Helped Nurture Arab Uprisings (Published 2011 ) کے حوالے سے یہ بات عیاں ہے کہ کئی غیر ملکی طاقتیں عرب ممالک کو نقصان پہنچانے کے لئے فنڈ اور تربیت فراہم کرتی رہی ہیں۔ اس مضمون کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ امریکہ نے کئی سالوں سے عرب بادشاہتوں میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے سرکاری طور پر فنڈ دیے جانے والے اداروں کی مدد کی ہے۔ یہ رقم فوجی پروگراموں پر خرچ کی جانے والی رقم سے بہت کم ہے، لیکن یہ ادارے ان مظاہروں کی قیادت کرنے والے لوگوں کو تربیت دے کر اپنے مقاصد کے حصول کے لئے فنڈنگ کرنے والوں میں انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ، اور فریڈم ہاؤس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی این جی اوز بھی شامل ہیں۔

کچھ عرب حکومتوں کو لگا کہ یہ امریکی مداخلت ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد انقلاب کو فروغ دینا نہیں بلکہ جمہوری صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تو ان عرب حکمرانوں کو بھی چپ لگ گئی کہ امریکہ ان کی حکومت کے لئے بھی خطرہ نہ بن جائے۔ انہوں نے امریکی پالیسی کو اپنانے اور لاگو کرنے میں ہی بہتری جانی ہے۔

عرب سپرنگ کو بنیادی طور پر بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع سے مالی اعانت فراہم کی گئی تھی۔ اہم معاونین شامل تھے

امریکہ اور یورپی ممالک:

نیشنل انڈومنٹ فار ڈیموکریسی، انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ، اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ جیسے تنظیموں کے ذریعے، ان ممالک نے بغاوت پیدا کرنے والے گروپوں کو جمہوریت پسند گروپوں کا نام دے کر تربیت اور مالی مدد فراہم کی۔

خلیجی ممالک:

قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے اپنے تخت اور بادشاہتیں بچانے کے لئے ان بڑی طاقتوں سے مرعوب اور بلیک میل ہو کر عرب بہار کی حمایت کے لیے مالی معاونت اور سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔

ڈیوویل پارٹنرشپ Deauville Partnership:

اس پارٹنر شپ میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس، برطانیہ اور امریکہ، یورپی یونین اور علاقائی شراکت دار شامل ہیں جنہوں نے مصر، تیونس، اردن، اور مراکش جیسے ممالک میں اقتصادی، معاشی، ثقافتی تبدیلیوں کی حمایت کے لیے اربوں ڈالر کے قرضے اور سرمایہ کاری کے نہ صرف وعدے کیے بلکہ عملی طور پر ہر ممکن قدم اٹھایا۔

عرب سپرنگ کی حکمت عملیاں اور پاکستان

عرب بغاوتوں کے انعقاد کے لئے اور ان بغاوتوں کے پیچھے طاقتوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مختلف طریقے اور حکمت عملی استعمال کیں ویسی ہی سرگرمیاں ہمارے ملک میں بھی پچھلے کافی عرصہ سے نظر آ رہی ہیں۔ عرب سپرنگ یا عرب بغاوت کے کچھ اہم طریقے جن کی پاکستان مین جاری واردات سے کافی مشابہت نظر آ رہی ہے یہ ہیں۔

احتجاج اور مظاہرے

سب سے نمایاں طریقہ بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے تھے۔ لوگوں کو حکومتوں کے خلاف اپنی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لئے عوامی شکایات کا رنگ دے کر پھر ان شکایات کا اظہار کرنے کے لیے انہیں سڑکوں پر نکالا گیا۔ ہمارے ملک میں بھی یہی رنگ نمایاں نظر آنے لگا ہے کہ آئے دن احتجاجی مظاہروں کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ تاکہ حکومت مفلوج ہو اور عوام حکومت اور ریاست مخالف ہو جائیں۔

سوشل میڈیا

عرب سپرنگ کے کارکنوں نے سوشل میڈیا کا اپنے جھوٹ کو پھیلانے کے لئے اندھا دھند استعمال کیا۔ کہیں کی تصویر کہیں لگائی، کہیں کی خبر کہاں پہنچا دی، عوام کی حمایت حاصل کرنے اور اسے حکومت مخالف بیانیہ بنانے میں کوئی ایسا جھوٹ نہیں جو نہ بولا گیا ہو۔ کارکنوں نے فیس بک، ٹویٹر، اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ناجائز اور غلط استعمال کیا اور اپنی پالیسی کو آگے بڑھایا۔ بالکل ایسی ہی مثال ہمارے ملک میں موجود ہے۔ بالکل اسی طرح سوشل میڈیا پر جھوٹ اور بہتان کا تانتا باندھا جاتا ہے۔ اور لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ جو بات ہوئی ہی نہیں اس کا ایسا ایشو تخلیق کر دیا جاتا ہے کہ اس کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سول نافرمانی

بغیر تشدد کے مزاحمت اور سول نافرمانی کا استعمال حکام کو چیلنج کرنے کے لیے کیا گیا۔ اپنے پوشیدہ مقاصد کے حصول کے لئے اور حکومت کو بے بس کرنے کے لئے سول نافرمانی جیسے اقدامات بھی عرب سپرنگ والوں نے ہر جگہ اٹھائے۔ آج کل ہمارے ہاں پاکستان میں بھی سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے بارے میں کہا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی حمایت

عرب سپرنگ کو کامیاب بنانے کے لئے غیر ملکی اشاروں پر چلنے والے کارکنوں نے بین الاقوامی تنظیموں اور غیر ملکی حکومتوں سے حمایت حاصل کی، جنہوں نے مالی امداد، تربیت، اور اخلاقی حمایت فراہم کی۔ ہمارے ملک میں بھی ہم اس کا عملی مظاہرہ اور مشاہدہ کر چکے ہیں۔ کبھی امریکی کانگریس سے خطوط لکھوائے جا رہے ہیں اور کبھی برطانیہ سے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کہا جا رہا ہے۔

اتحادوں کی تشکیل

عرب سپرنگ کے دباؤ کو بڑھانے کے لئے مختلف گروپ، بشمول نوجوان تحریکیں، لیبر یونینز، اور سیاسی جماعتیں، اپنی اجتماعی آواز کو مضبوط کرنے اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اتحاد بناتی رہیں۔ یہی حال آج یہاں بھی ہے۔ حکومت اور ملک مخالف قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہی ہیں اور اپنا دباؤ بنانے میں اور بڑھانے میں مصروف ہیں۔

ہڑتالیں اور بائیکاٹ

عرب سپرنگ کو موثر بنانے کے لئے ہڑتالیں اور بائیکاٹ ریاست اور معیشت کے معمول کے کام کو روکنے کے لیے استعمال کیے گئے، جس سے حکومت پر لوگوں کے مطالبات کا جواب دینے کا دباؤ بڑھا۔ یہاں ہمارے پیارے ملک میں بھی ہڑتالوں اور بائیکاٹ کا ایک طویل سلسلہ چل رہا ہے گو اس میں ابھی تک خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی لیکن اس کی مماثلت عرب سپرنگ سے ضرور نظر آ رہی ہے۔

عرب سپرنگ یا عرب بغاوتوں کے واقعات پڑھ اور دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ کچھ ایسے ہی حالات ہمارے پیارے ملک میں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تو ہمارے عوام عقل مند ہیں کہ ان غیر ملکی ایجنٹوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہیں بن رہے ورنہ انہوں نے تو کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ اور آخری بات یہ نظر آتی ہے کہ یہاں بھی حالات وہی خراب کر رہے ہیں جنہوں نے عرب سپرنگ میں فنڈنگ کی ہوئی ہے۔

Facebook Comments HS