نیوکلیر یوتھ


نیوکلیر ہتھیاروں کے بارے میں تو آپ نے ضرور پڑھا اور سنا ہو گا مگر نیوکلیر یوتھ آپ کے لیے بھی شاید ایک اچنبھے کی بات ہو گی۔ آغاز میں صرف اتنا کہوں گا کہ جس طرح دنیا کا یہ دعوٰی ہے کہ ہم نے نیوکلیر ہتھیاروں کا حصول صرف قیام امن اور تحفظ کے لیے کیا ہے مگر آپ کو بھی معلوم کہ نیوکلیر ہتھیاروں کے استعمال سے صرف لا متناہی تباہی ہی پھیلتی ہے۔ اسی طرح آج کی یوتھ کے بارے میں بھی خیال تو یہی ہے کہ یہ ملک و قوم کی ترقی کے ضامن اور روشن مستقبل ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ بھی تباہی پھیلاتی نظر آتی ہے۔ میں خود بھی ایک نوجوان ہوں اور اس یوتھ کا حصہ ہوں لیکن اس سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اس یوتھ کو تخریب کاری آتی ہے لیکن تعمیر سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا انقلاب صرف اس حد تک ہے کہ موجودہ نظام کو صرف تہس نہس کر دیا جائے لیکن متبادل کا سوال آتے ہی یہ بغلیں جھانکنے لگ جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک خراب عمارت کا یہی مطلب ہے کہ اس کو گرا کر ملیا میٹ کر دو مگر اس کے بعد ایک دیوار کھڑی کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ کو لگتا ہے کہ صرف صاحب اقتدار لوگوں کو نا اہل قرار دے کر ان کو ہٹانے سے ترقی ہو جاتی ہے اور دوسرے گروہ کو یہ لگتا ہے کہ مرے پسندیدہ لوگوں کو حکومت دینا ہی ہر مسئلے کا حل ہے اور تمام خرابی کی جڑ مرے لیڈر کو اقتدار سے دور رکھنا ہے۔ ان کو صرف قطع تعلقی کرنے کا ہنر ہے۔ صلہ رحمی ان کے نزدیک کسی وقعت کی نہیں ہے۔ مذاکرات اور مصالحت سے ان کو کچھ واسطہ نہیں ہے۔ یہ اپنے ارد گرد ہر ایک چیز اور عمل سے بیگانگی اور اجنبیت پر اتر آئے ہیں۔

اس یوتھ کو صرف ایک کام آتا ہے اور وہ ہے کوئی کام نہ کرنا۔ یہ باتوں سے آسمان سر پر اٹھا لیں گے مگر کسی بھی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دو قدم نہیں چلیں گے۔ یہ کام، جدوجہد، لگن، تسلسل، اور خلوص جیسے عام موضوعات کو زیر بحث ہی نہیں لاتے ہیں۔ یہ صرف اور صرف نتائج پر زبان چلاتے نظر آتے ہیں۔ اس یوتھ کے اندر شعور نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اپنے آس پاس کے ماحول تاریخ، سیاسیات، معاشرے، جغرافیائی اور تاریخی عناصر، زمینی حقائق اور فطری عوامل سے بالکل بے خبر ہیں۔ ایسے لگتا ہے یہ سب کسی کی انتظار میں ہیں۔ کوئی مسیحا آئے گا اور سب کے دکھوں کا مداوا کر دے گا۔ ان کے پاس سیکھنے اور سمجھنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ ان کو براہ راست کامیابی اور خوش حالی کی سر زمین پر قدم رکھنا ہوتے ہیں۔

حال ہی کی ایک مثال لے لیتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ایک برائے نام انقلاب آیا ہے۔ جب یہ بھونچال آیا تو سب لوگ بہت راگ الاپنا شروع ہو گئے۔ وہ حکومت تو چلی گئی اس کے بعد کیا ہوا ہے۔ وہی جو ہر طوفان کے بعد ہوتا ہے۔ کیا اس دن کے بعد اس ملک کے مسائل ختم ہو گئے۔ کیا ان کے ہاتھ کوئی ایسا خزانہ لگ گیا کہ سب خوش حال ہیں۔ کسی بھی نا اہل اور جابر حکومت کو تخت سے اتارنے میں بالکل بھی کسی غفلت کی گنجائش نہیں ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے اس کے بعد کا بھی لائحہ عمل اور منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ ہر چیز کے لیے ایک خاص وقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی کے پاس بھی کوئی طلسماتی قوت نہیں ہے۔ آج دنیا کی جو اقوام اچھے نظام اور بہتر حیثیت رکھتی ہیں انہوں نے ایک سفر طے کیا ہے۔ یہ سب وہاں اس لیے نہیں ہیں کہ انہوں نے صرف کسی نا اہل حکمران کو نکال دیا تو برق رفتاری سے سب کچھ ایسے ہو گیا۔ انہوں نے اچھے حکمران بھی منتخب کیے ہیں لیکن اس میں ان کی ساری قوم کی ایک آزمائش اور تکالیف سے بھر پور کہانی ہے جس میں ہر کردار نے اپنی صلاحیت اور استطاعت سے کام کیا ہے۔

اس یوتھ کو بد قسمتی سے یہ دھوکہ لگا ہوا ہے کہ ہمارے لئے کوئی دوسرا کچھ کرے گا۔ اگر ان کے ہاتھ میں ملک اور قوم کی باگ ڈور آ گئی اور ان کا یہی رویہ رہا تو تباہی پھیلے گی اور بالکل نیوکلیر ہتھیاروں کی طرح جس کی حدود و قیود کی کچھ سمجھ نہیں آنی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ راکھ ہو جائے گا۔ دنیا کا نظام کسی سوشل میڈیا ایپ پر چلتی کچھ سیکنڈ کی ویڈیو نہیں ہے جو کچھ لمحے میں بدل جائے گا۔ یہاں پر سالوں پہلے منصوبہ بندی اور کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ یوتھ اس سوشل میڈیا کے ہاتھوں مفلوج ہوتی رہی اور ان کی یہی ایک منٹ والی ذہنیت رہی تو ان کو کچلنے کے لیے آدھا منٹ بھی نہیں لگنا ہے۔ اس یوتھ کو موبائل اور سوشل میڈیا سے باہر نکل کر تاریخ اور مستقبل سے خوب واقف ہو کر اپنے آپ کو اعلیٰ صلاحیتوں اور خوبیوں سے لیس کرنا ہو گا ورنہ یہ یوتھ ایک نیوکلیر یوتھ بن کے رہ جائے گی۔ اس نے سب کچھ صرف کچھ ہی سیکنڈ میں تباہی اور بربادی میں جھونک دینا ہے اور پھر اس کی داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

Facebook Comments HS