دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال
عالیہ مرزا کی کتاب کا عنوان ہی اتنا انوکھا اور دلکش ہے کہ آپ پہلے سے ہی سوچ لیتے ہیں کہ آپ اس کتاب کو پڑھیں گے ضرور اور ممکن ہوا تو اس کے بارے میں کچھ لکھیں گے بھی۔ ”دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال“ کے عنوان سے شائع ہونے والی عالیہ کی نثری نظموں کی پہلی کتاب گلزار جیسے معتبر اور بے مثال نثری نظمیں لکھنے والے کے تبصرے کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس پر ہم ان کی خوش قسمتی پر رشک نہ کریں تو اور کیا کریں۔ جس کی نظموں نے گلزار کو چونکا دیا ہو اور وہ ان کی نظموں کے سفر میں ان کے ساتھ چلنے لگے ہوں تو کسی اور کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔
نرم و نازک دھان پان سی عالیہ جتنی اچھی پینٹنگز بناتی ہیں، اتنی ہی اچھی نظمیں بھی لکھتی ہیں۔ ان کی نظمیں بھی ان کی شخصیت کی طرح دلکش اور خوبصورت مگر اداس کر دینے والی ہیں۔ عام زندگی میں وہ ایک پتی ورتا، سلیقہ مند خاتون ہیں لیکن اپنی نظموں میں وہ کسی اور ہی دنیا کی باسی لگتی ہیں۔ ان کی نظمیں ہمیں کسی متوازی کائنات میں لے جاتی ہیں۔ ہمیں وہ ساری لڑکیاں یاد آ جاتی ہیں جو نو عمری میں نظمیں لکھتی یا پڑھتی اور گنگناتی ہیں اور اڑنے کے خواب دیکھتی ہیں اور یہ نہیں جانتیں کہ ان کی اڑان تو گھروں تک رہ جائے گی۔
یہ نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے عالیہ میرا ہاتھ پکڑ کر لڑکیوں کی داخلی دنیا میں لے گئی ہیں۔ ان نظموں کو پڑھتے ہوئے آپ لڑکیوں کے سمندروں سے ڈونگھے دل دریا میں ڈوب کر ایک اور جہان میں ہیں۔ عملی دنیا میں واپس آتے ہیں تو عالیہ ہمیں خبر دیتی ہیں کہ صدیاں بیت چکی ہیں اور صندوقوں میں پڑے خوابوں کو لگے پیوند ادھڑنے لگے ہیں۔ لڑکیاں تلاش کرتی ہیں مگر ڈھونڈے سے بھی کوئی رفوگر نہیں ملتا۔
عالیہ ایک وکھری طرح کی فیمنسٹ ہیں۔ ان کا فیمنزم عملی دنیا میں تو صرف اسی وقت نظر آتا ہے جب وہ ”لے دیکھ زمانہ تیرا ہے“ جیسا عورتوں کا ترانہ لکھتی ہیں یا دیگر ایکٹیوسٹس کے ساتھ عورتوں پر ہونے والے مظالم اور نا انصافیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرتی ہیں۔ مگر ان کا اصلی فیمنزم ان کے باطنی اور داخلی سفر میں ان کی نظموں کی شکل میں نظر آتا ہے۔ یہ سفر ہر باصلاحیت اور آسمانوں میں اڑان بھرنے کے خواب دیکھنے والی لڑکی کا سفر ہے۔ عالیہ کی نظمیں اسی سفر کی کہانیاں سناتی ہیں جو لڑکیاں اپنے وجود کے اندر اتر کر طے کرتی ہیں۔ یہ معاشرہ ان کے لئے جو کردار طے کر چکا ہے، اسے بھی بخوبی نبھاتی ہیں۔ بچے پیدا کرتی اور پالتی ہیں۔ کچن سنبھالتی ہیں مگر صرف عالیہ جیسی چند شاعرات یہ کہنے کا حوصلہ رکھتی ہیں :
”اپنے درد کو چاولوں کے ساتھ چھلنی میں نتھار کر دم لگا دیتی ہوں
مگر چاول کھاتے ہوئے کوئی میرے درد کو نہیں چکھتا ”
تو یہ ہے ہم پاکستانی اور جنوبی ایشیائی خواتین کا داخلی یا متوازی فیمنزم۔ یہ باہر کی دنیا کا چنگھاڑتا ہوا فیمنزم نہیں ہے۔ یہ ان خواتین کا فیمنزم ہے جو معاشرے کی طے کردہ حدود کو توڑے بغیر، اپنے شوہروں کی مردانگی کو عدم تحفظ کا شکار بنائے بغیر عالیہ کی طرح اپنی تصویروں اور نظموں کے ذریعے اپنے آپ کو منواتی ہیں اور اپنی ایک متوازی دنیا آباد کرتی ہیں جہاں اداس کر دینے والی یادیں اور خواب ہیں۔ عالیہ کی نظمیں پڑھ کر مجھے زہرہ نگاہ کی نظم ”سمجھوتے کی چادر“ بارہا یاد آئی۔ لیکن عالیہ کی انفرادیت اپنی جگہ ہے، اس کا سفر، اس کا راستہ سب سے جدا ہے۔ فہمیدہ ریاض کی نظموں کے بر عکس اس کی نظمیں مردوں کو خوف زدہ نہیں کرتیں۔ کیونکہ وہ بہت دھیمے انداز میں جینڈر اسٹیریو ٹائپنگ کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے اس کی نظم جس کا عنوان ہے : ”نظم کوئی بنی نہیں“ ۔
”ارے لیجیے نا
دیکھئے بھنڈی بناتے ہوئے
مجھے کس قدر خیال تھا
ان کا سبز رنگ نہ جلے
یہ نظم بھی اسی طرح ہری ہری اتار لی
کہ دیکھنے میں بھلی لگے
دیکھئے ذرا!
بگھارے بینگنوں کا بانکپن
ارے نہیں جناب،
میرا کہاں کمال ہے
بس چار کٹ لگا کے سرکے میں بھگوئے تھے۔
کہ یہیں سے نظم شروع ہوئی
بینگنوں میں کھٹاس تھی
تو خیال تھوڑا ترش ہے
اور جو نظم آپ کو کچھ تلخ سی لگی ہے
کریلے اس کی وجہ بنے ہیں
بھلے یہ قیمے سے بھرے ہیں
چلیں چھوڑئیے، ہٹائیے ساری سبزیاں
بھنے ہوئے مرغ کو تو دیکھئے
میں جانتی تھی آپ کو مرغوب ہے
دہی لگی چانپیں بھی تیار ہیں
ہاں، مگر یہ بناتے ہوئے
دل کچھ اس طرح جھنجھلا گیا
کہ نظم کوئی بنی نہیں ”
اب تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شعر و ادب کی دنیا پر صدیوں سے مرد کیوں چھائے ہوئے ہیں۔ بہر حال عالیہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے شوہر نعیم مرزا نے تاریخ کی عظیم فیمنسٹ عورتوں کے بارے میں ایک کتاب مرتب کر کے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہر دور میں ایسی عورتیں پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے ہر قسم کے جبر کی مزاحمت کی، اور جنہیں اپنی مرضی اور آزادی سے زندگی گزارنے، یا اس کی کوشش کرنے یا محض اس کی تمنا کرنے کی پاداش میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔

