ملک شام کا المیہ


 

آج ملک شام کے بارے میں کچھ حقائق بتانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ شام (سوریہ) کی تاریخ کئی ہزار سالوں پر محیط ہے اور یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں اور انسانی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ شام کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جن میں قدیم، وسطی، اور جدید دور شامل ہیں۔ آئیے! شام کی تاریخ کے اہم ادوار اور اس کی تباہی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہیں :

قدیم دور : شام کی تاریخ مختلف قدیم تہذیبوں سے جڑی ہوئی ہے :

ابتدائی تہذیبیں : شام انسانی تہذیب کی قدیم مراکز میں شامل ہے۔ یہ میسوپوٹیمیا، بابل، اور مصری تہذیبوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتا رہا۔

فینیقی تہذیب: فینیقیوں نے شام کے ساحلی علاقوں میں آبادیاں قائم کیں اور سمندری تجارت کو فروغ دیا۔

ارامی تہذیب: ارامی زبان اور تہذیب شام کے اندرونی علاقوں میں پھلی پھولی اور یہ علاقہ مختلف سلطنتوں کا مرکز رہا۔

یونانی و رومی دور: اسکندر اعظم نے شام کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا، جس کے بعد یہ یونانی اور رومی تہذیبوں کا حصہ رہا۔

اسلامی دور
فتح شام: ساتویں صدی میں خلافت راشدہ کے دور میں شام اسلامی سلطنت کا حصہ بنا۔
1۔ اموی خلافت: دمشق اموی خلافت کا دارالحکومت بنا اور یہ اسلامی تہذیب و ثقافت کا عظیم مرکز رہا۔

2۔ عباسی اور سلجوق دور: عباسی دور میں شام بغداد کے زیر انتظام رہا، لیکن بعد میں سلجوق ترکوں نے اسے فتح کیا۔

3۔ صلیبی جنگیں : صلیبی جنگوں کے دوران شام کئی بار صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان تنازعات کا مرکز رہا۔ اور یہ ملک اجڑتا اور بستا رہا۔

عثمانی دور ( 1516۔ 1918 ) شام 1516 میں عثمانی سلطنت کا حصہ بنا اور چار سو سال تک اس کا حصہ رہا۔ عثمانیوں کے دور میں شام میں نسبتاً امن رہا، لیکن اقتصادی ترقی محدود رہی۔

جدید دور
1۔ فرانسیسی استعماری دور:

پہلی جنگ عظیم کے بعد شام پر فرانس نے قبضہ کر لیا اور 1920 میں اسے لیگ آف نیشنز کے تحت فرانسیسی مینڈیٹ میں شامل کیا گیا۔

2۔ آزادی ( 1946 ) :
دوسری جنگ عظیم کے بعد شام نے آزادی حاصل کی اور ایک جمہوری ریاست کے طور پر ابھرا۔
3۔ بعث پارٹی اور آمریت:

بعث پارٹی 1963 میں برسر اقتدار آئی اور شام میں آمریت کا آغاز ہوا۔ حافظ الاسد ( 1971۔ 2000 ) اور بعد میں ان کے بیٹے بشار الاسد نے ملک پر حکومت کی۔

شام کی تباہی کے اسباب
شام کی تباہی کے کئی اہم عوامل ہیں :

1۔ سیاسی آمریت: حافظ الاسد اور بشار الاسد کی حکومتوں نے عوامی حقوق کو نظر انداز کیا اور جمہوری نظام کو پنپنے نہیں دیا۔

2۔ عرب بہار ( 2011 ) : عرب بہار کے دوران عوامی مظاہروں کے خلاف حکومت نے شدید طاقت کا استعمال کیا، جس نے خانہ جنگی کو جنم دیا۔

3۔ مسلکی اور نسلی اختلافات: شام میں سنی، شیعہ، کرد، اور دیگر اقوام کے درمیان تنازعات نے خانہ جنگی کو مزید بھڑکایا۔

4۔ بیرونی مداخلت: ایران، روس، ترکی، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی مداخلت نے ملک شام کے تنازع کو پیچیدہ بنایا۔

5۔ دہشت گردی: داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں نے شام کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا۔

6۔ معاشی بدحالی: جنگ کے نتیجے میں شام کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔

شام کی تاریخ انسانی تہذیب کی ترقی، ثقافت اور علم کا مرکز رہی ہے، لیکن حالیہ جنگوں اور سیاسی تنازعات نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ شام کے مسائل کا حل صرف سیاسی استحکام، معاشی ترقی، اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہے۔ جو بھی اسلامی ملک عدم استحکام کا شکار ہوا پھر اس کی قسمت میں تباہی و بربادی لکھ دی گئی۔ رب العزت سے دعا ہے شام و فلسطین کے حالات دوبارہ اپنی ڈگر پر آ جائیں اور وہاں لوگ سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔

 

Facebook Comments HS